حکومت نے جس کمپنی کو چور کہا اسی سے ایل این جی خریدی: شاہد خاقان عباسی
- جمعہ 11 / دسمبر / 2020
- 5250
سابق وزیراعظم اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر نائب صدر شاہد خاقان عباسی نے حکومت کو ری گیسیفائڈ لیکوئیفائیڈ نیچرل گیس (ایل این جی) کی خریداری میں سیکڑوں ارب نقصان کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نے جس کمپنی کو چور کہا اسی سے ایل این جی خریدنے کا معاہدہ کیا۔
سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دو سال کے بعد حکومت کو احساس ہوا کہ ایل این جی کے بغیر ملک نہیں چلے گا۔ پاکستان کے توانائی مسئلے کا واحد حل ایل این جی ہے، جس کو پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے ریکارڈ وقت اور بغیر حکومتی خرچ کے مکمل کیا تھا۔ اس میں ٹرمینل بنے، پائپ لائنز بنیں، ایل این جی سپلائی چین بنی اور ملک کے اندر ایل این جی کے ذریعے اضافی گیس ملک میں آنا شروع ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ آج ڈھائی سال گزرنے کے بعد بھی وزارت صحت میں چار وزیر لگے ہوئے ہیں لیکن انہیں سمجھ نہیں آئی اور پاکستان کا سینکڑوں ارب کا نقصان کر چکے ہیں۔ میں اس کو ان کی ناسمجھی، نااہلی یا ناتجربہ کاری کہوں۔ میں کسی پر الزام عائد کرنا نہیں چاہتا لیکن شہادت یہ ہے کہ معاملہ صرف نااہلی تک محدود نہیں ہے۔
سابق وزیراعظم نے کہا کہ ٹرمینل میں جو استعداد لگائی تھی اس میں فی مہینہ 12 کارگو آسکتے ہیں، 8 ہم خرید کر گئے تھے، 3 معاہدے تھے، ایک قطر گیس کے ساتھ تھا جو پانچ جہاز فی مہینہ آتے تھے۔ دوسرا معاہدہ دو گنور کے ساتھ تھا اور تیسرا معاہدہ ایک جہاز ای این آئی اطالوی کمپنی کے ساتھ تھا، جس سے ایک جہاز فی مہینہ آتا تھا۔ اس کے علاوہ چار جہاز فی مہینہ لیے جاسکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اس وقت پاکستان کی طلب 12 جہازوں یعنی 1200 ملین کیوبک فٹ روزانہ سے زیادہ ہے۔ حکومت کو ہر وقت 12 جہازوں کا بندوبست کرنا چاہیے۔ حکومت نے دسمبر میں 6 جہاز خریدے، جنوری کے لیے 6 جہازوں کا ٹینڈر کیا، تین کا کوئی جواب نہیں آیا۔ تین جہاز مزید خریدنے پڑیں گے، ان جہازوں کی اوسط قیمت 16 اعشاریہ 65 فیصد ہے۔ یہی جہاز ہم جون، جولائی اور اگست میں ٹینڈر کرتے تھے اور بک کرتے تھے۔ اس سال یہ جہاز 10 فیصد رینٹ کے قریب ملتے، یعنی ایل این جی کے 9 جہاز 70 فیصد زیادہ قیمت پر خریدے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ صرف ان 9 جہازوں کو غلط طریقے اور تاخیر سے خریدنے پر پاکستان کو 15 ارب کا نقصان ہوا ہے۔ یہ حکومت کی کارکردگی ہے۔ یہاں وزرا پریس کانفرنس بھی کرتے ہیں اور ایسی مضحکہ خیز باتیں کی جاتی ہیں جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔