اپوزیشن میں دراڑ ڈالنے کی کوششیں کامیاب نہیں ہوں گی: بلاول بھٹو زرداری
- جمعہ 11 / دسمبر / 2020
- 5210
پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ میں شامل تمام جماعتوں نے فیصلہ کیا ہے کہ 31 دسمبر تک پارٹی قائدین کے پاس استعفے جمع ہوجائیں گے۔ اپوزیشن میں دراڑ ڈالنے کی کوشش ناکام ہوگی۔
لاہور میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پی پی پی چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا کہ میں یہاں تعزیت کے لیے آیا تھا کیونکہ میں کافی دنوں سے قرنطینہ میں تھا اور مجھے تعزیت کا موقع نہیں ملاتھا۔ ان کا کہنا تھا کہ 13 دسمبر کو لاہور میں پی ڈی ایم کا تاریخی جلسہ ہوگا۔ اس کی تیاری اور حکومت کی پریشانی سب کے سامنے ہے۔
انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم نے لاہور جلسے میں بھی یہی پیغام اسلام آباد کو دے گی کہ کٹھ پتلی وزیراعظم اکیلا کھڑا ہے اور پاکستان کے عوام جمہوریت اور جمہوری جماعتوں کے ساتھ ہیں۔ اب اس حکومت اور اس کے سہولت کاروں کو سوچنا پڑے گا کہ وہ کب تک عوام کی امیدوں اور مطالبات کے سامنے دیوار بن کر کھڑے رہیں گے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ پی ڈی ایم کا پہلا مرحلہ کامیابی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ 13 کے بعد ہم دوسرے مرحلے میں داخل ہوجائیں گے اور سب کو نظر آئے گا کہ حکومت خود بھاگنے والی ہے۔
مریم نواز نے کہا کہ میں بلاول بھٹو کی شکر گزار ہوں کہ وہ میری دادی کی وفات پر تعزیت کرنے آئے اور جلسے اور پی ڈی ایم کے اگلے مرحلے پر تفصیلی بات بھی ہوئی اور اس حکومت کو گھر بھیج کر دم لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ جو یہ دعویٰ کرتا تھا کہ نواز شریف یا پی ڈی ایم سے مقابلہ ہے لیکن ہمیں سمجھ آرہی ہے کہ ان کا مقابلہ ڈی جے بٹ، کرسیاں اور ٹینٹ والوں اور بٹ کڑاہی کے مالک سے ہے۔
ملتان میں بھی انہوں نے آخر وقت تک اسٹیڈیم کو بلاک رکھا لیکن جلسہ ہوا، اسٹیڈیم میں جلسہ ہوتا تو شاید اتنا کامیاب جلسہ نہ ہوتا مگر ملتان کے لوگوں کو غصہ آیا اور وہ باہر آئے، بغیر لائٹ اور ساؤند سسٹم کے بڑی کامیابی سے شرکت کی۔ مریم نواز نے کہا کہ ہماری تحریک پرامن ہے اور ہم کہتے ہیں ہمارے راستے سے ہٹ جاؤ۔ اس طرح کے ہتھکنڈے استعمال کریں گے تو حکومت جلدی گھر جائے گی۔
بلاول بھٹو نے استعفوں سے متعلق سوال پر کہا کہ میڈیا میں جو دوست یہ خبریں دیتے ہں شاید ان کی پی پی پی سے خاص محبت ہے اور وہ پی ڈی ایم کے بننے سے آج تک خواب دیکھ رہے ہیں کہ کسی نہ کسی طرح پی ڈی ایم میں دراڑ پڑے لیکن وہ ہر موقع پر ناکام ہوئے ہیں۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ استعفوں کے فیصلے میں پی پی پی شامل ہے۔ میرے پاس دھڑا دھڑ استعفے پہنچ رہے ہیں اور 31 دسمبر سے پہلے سارے استعفے میرےجیب میں ہوں گے۔
ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ پی پی پی اور مسلم لیگ (ن) کی تاریخ سب کے سامنے ہے لیکن میثاق جمہوریت اور مفاہمت، اس ملک میں جمہوری سیاسی اور معاشی ترقی ہمارے ساتھ چلنے کی وجہ سے ہوئی ہے لیکن عمران خان کا بیانیہ روزانہ تبدیل ہوجاتا ہے۔ پہلے وہ ہمیں دھمکی دیتا تھا لیکن اب کہتا ہے کہ میں مذاکرات کے لیے تیار ہوں۔
حکومتی رابطوں سے متعلق سوال پر مریم نواز نے کہا کہ موجودہ وزرا رابطے کر رہے ہیں۔ ان پیغامات کے پیچھے اصل بات کو نہیں بھولنا چاہیے کہ ایک انسان تین سال تک خدائی لہجے میں کہہ رہا تھا کہ میں ان کو این آر او نہیں دوں گا۔ ان سے روٹی، چینی اور آٹا چوری کی بات ہوتی یا مہنگائی کا سوال پوچھا جاتا تو کہتا تھا کہ این آر او نہیں دوں گا۔ ان کے حکومتی اہلکار ہماری سینئر قیادت سے رابطے کر رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں آکر بیٹھیں اور پارلیمنٹ پر بات کرتے ہیں۔ یہ تو اس شخص کے لیے عبرت کا مقام ہے کیونکہ وہ آج پی ڈی ایم سے این آر او مانگ رہے ہیں لیکن این آر او نہیں ملے گا۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ اسٹبلشمنٹ ہو یا کٹھ پتلی حکومت ہو ان سے بات کرنے کا وقت بہت پہلے ختم ہوگیا ہے اور اب مصالحت کی جو بھی باتیں کر رہے ہیں وہ ان کا خوف ہے کیونکہ وہ بزدل لوگ ہیں۔ اور جانتے ہیں کہ عوام کا سامنا نہیں کرسکتے ہیں۔ ان کو انٹیلی جنس رپورٹس بھی آرہی ہوں گی کہ پاکستان کے عوام اسلام پہنچنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ میرے خیال میں پاکستان کی تاریخ میں کوئی لانگ مارچ اس طرح کامیاب نہیں ہوا ہوگا جو پی ڈی ایم میں شامل 11 جماعتوں کا لانگ مارچ اسلام آباد پہنچنے والا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بات کرنے کا وقت نہیں ہے اور وہ حالات کا ادراک کرے اور خود بخود مستعفی ہو کر گھر چلے جائیں اور اس مسئلے کو ختم کریں۔ بلاول بھٹو نے تیسری قوت کا فائدہ اٹھانے کے سوال پر کہا کہ پی ڈی ایم میں جو بھی جماعتیں ہیں وہ سب جمہوری جماعتیں ہیں اور وہ ہر گز ایسے حالات پیدا نہیں کرنا چاہتیں جس سے کوئی تیسری فورس فائدہ اٹھائے۔
ہم سوچ سمجھ کر اپنے فیصلے کریں گے اور سوچ سمجھ کر کارڈ کھیلیں گے کہ ایسا بحران پیدا نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ پی پی پی سمیت پی ڈی ایم کی ساری جماعتوں نے فیصلہ کیا ہے کہ اپنی سینٹرل ایگزیکٹیو کمیٹی سے مشاورت کرکے چلیں گے۔ ہم اپنی سندھ حکومت اور قومی اسمبلی کی نشستوں کی قربانی دیں گے تاکہ اس حکومت اور اس کے سہولت کاروں کو گھر بھیج سکیں۔
نواز شریف کی جانب سے گجرانوالہ میں نام لینے پر جھٹکا لگنے سے متعلق انہوں نے کہا کہ انگریزی میں بات ہو رہی تھی اور میں نے کہا تھا کہ سرپرائز تھا جو میرے لیے اور سب کے لیے سرپرائز تھا۔ لیکن اب کوئی سرپرائز نہیں رہا۔
مریم نواز نے کہا کہ رکاوٹوں کے باوجود 13 دسمبر کو مینار پاکستان پر پی ڈی ایم کا جلسہ ہوگا۔