لاہور جلسہ کےبعد مذاکرات ہوں گے یا لانگ مارچ؟
- تحریر سید مجاہد علی
- جمعہ 11 / دسمبر / 2020
- 17430
اتوار کو لاہور میں منعقد ہونے والے جلسہ سے قبل وزیر اعظم نے کابینہ میں غیر معمولی تبدیلیاں کی ہیں۔ ان میں اہم ترین تبدیلی حفیظ شیخ کو مشیر سے خزانہ کا وزیر مقرر کرنا ہے حالانکہ وہ قومی اسمبلی یا سینیٹ کے رکن نہیں ہیں تاہم خصوصی آئینی رعایت کے تحت وہ چھ ماہ تک منتخب ہوئے بغیر وزیر کے طور پر کام کرسکتے ہیں۔ یہ فیصلہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے اس حکم کی وجہ سے ضروری ہوگیا تھا کہ کوئی غیر منتخب مشیر یا معاون خصوصی کسی حکومتی کمیٹی کا سربراہ نہیں ہوسکتا۔
تاہم شیخ رشید کو ریلوے کی بجائے وزارت داخلہ کا قلم دان دینے کا فیصلہ ملک کی موجودہ سیاسی صورت حال میں اہم ترین سمجھا جاسکتا ہے۔ اعجاز شاہ کو اب منشیات کنٹرول کی وزارت دی گئی ہے جبکہ اعظم سواتی کو ریلوے کا وزیر بنا دیا گیا ہے۔ شیخ رشید کو داخلہ امور کا کوئی تجربہ نہیں ہے۔ اس کے باوجود ایک ایسے وقت میں انہیں یہ وزارت دی گئی ہے جب حکومت کو اپوزیشن کے احتجاج کی وجہ سے امن و امان کی غیر معمولی صورت حال کا سامنا ہے۔ یہ قیاس نہیں کیا جاسکتا کہ شیخ رشید زیادہ ماہرانہ طریقے سے وزارت داخلہ چلا سکیں گے یا اپوزیشن کی تحریک دبانے کے لئے زیادہ مؤثر اقدامات کرسکیں گے ۔ اس حوالے سے اعجاز شاہ کا تجربہ اور مہارت وسیع تھی ۔ اس موقع پر انہیں وزارت داخلہ سے ہٹانے کے فیصلہ کی واحد قابل فہم وجہ یہی دکھائی دیتی ہے کہ وہ اپوزیشن کے خلاف میڈیا میں پرفارمنس دکھانے میں کامیاب نہیں ہوئے۔ ان کے برعکس شیخ رشید باتیں بنانے، سیاسی جگت بازی اور بے پر کی ہانکنے میں ید طولیٰ رکھتے ہیں۔ ان کی یہی صلاحیت انہیں اب وزیر داخلہ کے طور پر سامنے لائی ہے تاکہ وہ اپوزیشن کو ’ڈرانے دھمکانے‘ کے علاوہ میڈیا کے ذریعے حکومت کا بہتر امیج سامنے لاسکیں۔
شیخ رشید نے وزارت داخلہ کا قلمدان سنبھالنے کے فوری بعد پریس کانفرنس میں اپوزیشن کو آڑے ہاتھوں لے کر یہ ثابت بھی کردیا کہ بطور وزیر داخلہ ان سے کیا توقع رکھی جارہی ہے اور وہ کس شعبہ میں مہارت کا اظہار کریں گے۔ اس پریس کانفرنس میں ایک طرف انہوں نے اپوزیشن کو احتجاج کرنے بلکہ لانگ مارچ تک کی دعوت دی اور کہا کہ تحریک انصاف نے 126 دن تک دھرنا دیا تھا، اپوزیشن نہ اس کا ریکارڈ توڑ سکتی ہے اور نہ ہی عمران خان سے بڑے جلسے کرسکتی ہے۔ وہ اپنا شوق پورا کرلیں لیکن ان کی قسمت میں ناکامی ہی لکھی ہوئی ہے کیوں کہ عمران خان کہیں نہیں جارہا۔ شیخ رشید کا دعویٰ تھا کہ اپوزیشن کی غیر ذمہ داری کی وجہ سے عمران خان دوسرا الیکشن بھی جیت جائیں گے۔ عمران خان کے زیر قیادت وفاقی حکومت پروپیگنڈا اور بیان بازی کو اہم ترین ہتھیار کے طور پر استعمال کرتی ہے۔ اسی لئے وزیر اعظم ہوں یا ان کے وزیر و مشیر، وہ بیان دینے اور اپوزیشن کو حرف تنقید بنانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ عمران خان ذاتی طور پر بھی خوشامد پسند ہونے کے علاوہ میڈیا میں حکومت کے کارناموں کی ڈینگیں سن کر خوش ہوتے ہیں۔ اسی لئے چن چن کر ان لوگوں کو سامنے لایا جاتا ہے جو سرکاری مؤقف کو پر زور طریقے سے بیان کرنے کے علاوہ عمران خان کی امیج بلڈنگ بھی کریں اور اپوزیشن لیڈروں کو رسوا و بے توقیر کریں۔
یوں تو وفاقی وزیر اطلاعات کے طور پر شبلی فراز موجود ہیں جو عمران خان کی توقعات پر پورا اترنے کی اپنی سی کوشش کرتے ہیں لیکن ان کی مرنجاں مرنج طبیعت اور وضع داری کی وجہ سے وہ شاید اس حد تک نہیں جا پاتے جس کی توقع عمران خان اپنے کسی میڈیا منیجر سے کرتے ہیں۔ وہ خود اور ان کے دیگر ساتھی اس کمی کو پورا کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں لیکن اب شیخ رشید کو وزیر داخلہ بنا کر اس کمی کوپورا کیا گیا ہے۔ شیخ رشید کی وزیر داخلہ کے طور پر تقرری کو حکومت کی طرف سے محاذ آرائی کو طول دینے کا اشارہ بھی سمجھا جاسکتا ہے لیکن اس کے ساتھ ہی ایسے اشارے بھی سامنے آئے ہیں جن سے اپوزیشن کے ساتھ مواصلت و مصالحت کی خواہش ظاہر ہوئی ہے۔ اس پس منظر میں وفاقی کابینہ میں تبدیلیو ں سے یہ بھی سمجھا جاسکتا ہے کہ وزیر اعظم اپوزیشن احتجاج کی وجہ سے کسی ڈائیلاگ پر مجبور ہونے سے پہلے میڈیا میں اپنی حکومت کی پوزیشن مستحکم کرنے کے خواہشمند ہیں۔
یہ بات تو طے ہے کہ عمران خان کی حکومت انتہائی مجبور کے عالم میں ہی اپوزیشن کے ساتھ مفاہمت پیدا کی کوشش کرے گی۔ اس مجبوری کا اندازہ البتہ گزشتہ چند روز میں عمران خان کے اپنے بیانات سے بھی ہؤا ہے۔ سیالکوٹ کے دورہ کے دوران ان کا کہنا تھا کہ وہ این آر او تو نہیں دیں گے لیکن اپوزیشن کے ساتھ دیگر معاملات پر بات چیت کے لئے تیار ہیں۔ اسی طرح گزشتہ روز ایک بیان میں اپوزیشن سے کورونا کے باعث احتجاج مؤخر کرنے کی براہ راست اپیل کو بھی عمران خان کے رویہ میں نرمی کے طور پر دیکھا جائے گا۔ وزیر اطلاعات شبلی فراز نے بھی آج پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ احتساب کا معاملہ تو تحریک انصاف کے منشور کا حصہ ہے لیکن اس کے علاوہ وہ ہمہ قسم امور پر بات چیت کے لئے تیار ہے۔ اسی دوران وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے اپنی ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ ’ایسی شخصیات جو حکومت اور اپوزیشن میں احترام کی نظر سے دیکھی جاتی ہیں، وہ آگے آئیں اور مذاکرات کے ماحول کو بہتر بنانے میں کردار ادا کریں۔ تاکہ تلخیاں کم ہوں کیونکہ ایسا کرنا ملک کے لیے ضروری ہے‘۔
مذاکرات کے بارے میں حکومتی کوششوں کا ذکر آج مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے بھی کیا۔ جاتی عمرہ میں بلاول بھٹو زرداری کے ساتھ اخباری نمائیندوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ’وفاقی وزیروں نے اپوزیشن سے رابطے کئے ہیں اور اسمبلی میں بات چیت کی دعوت دی ہے‘۔ تاہم مریم نواز اور بلاول بھٹو زرداری کا دعویٰ تھا کہ مذاکرات کا وقت گزر چکا ہے۔ اب نامزد حکومت سے بات چیت نہیں ہوسکتی۔ بلاول بھٹو زرداری کا مؤقف تھا کی عمران خان کو سیاسی صورت حال کی سنگینی کا اندازہ کرنا چاہئے۔ انٹیلی جنس ایجنسیاں انہیں لانگ مارچ کے لئے عوام کی تیاریوں کی اطلاعات دے رہی ہوں گی۔ اس وقت ان کے لئے بہتر یہی ہوگا کہ وہ استعفیٰ دے کر الگ ہوجائیں۔
لاہور میں سیاسی طاقت کے مظاہرے سے اڑتالیس گھنٹے پہلے اپوزیشن لیڈر حکومت سے مذاکرات کا اقرار نہیں کرسکتے۔ ایسی کوئی بھی صورت مینار پاکستان پر ہونے والے جلسے کے بعد ہی پیدا ہوگی۔ تاہم اس بات کا امکان بھی ہے کہ کورونا کی صورت حال ، حکومتی رکاوٹوں اور پکڑ دھکڑ کے نتیجے میں اپوزیشن اپنی توقع کے مطابق لاہور میں بہت بڑا اجتماع نہ کرسکے۔ اور حکومت بھی جلسہ کے شرکا کی تعداد کے بعد اپوزیشن کو کمزور سمجھتے ہوئے ایک بار پھر بات چیت کے اشارے دینے بند کردے۔ ایسا ماحول البتہ ملکی سیاست کے لئے انتہائی تباہ کن ہوگا۔ حکومت کو یہ اعتراف کرنا پڑے گا کہ بیان بازی سے قطع نظر ، وہ غیرمعینہ مدت تک ملک بھر میں احتجاجی جلسوں اور اس کے بعد لانگ مارچ کا خطرہ مول نہیں لے سکتی۔ یہ صورت حال ایک طرف معیشت کے لئے مہلک ثابت ہورہی ہے تو دوسری طرف اس سے حکومت کا سیاسی اعتبار ختم ہوتاہے۔
حکومت نے لاہور جلسہ کو ناکام بنانے کے لئے متعدد اقدامات کئے ہیں۔ مریم نواز کا دعویٰ ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے سینکڑوں کارکنوں کو پکڑا گیا ہے۔ جلسہ میں سہولیات فراہم کرنے والے لوگوں اور کمپنیوں کو بھی ہراساں کرنے کی خبریں سامنے آئی ہیں۔ یہ اطلاعات بھی ہیں کہ مینار پاکستان کی جلسہ گاہ میں پانی بھر دیا گیا ہے۔ ان سب کے باوجود حکومت نے ملتان جیسی غلطی سے گریز کیا ہے۔ لاہور کے راستے کنٹینر لگا کر بند کرنے کی کوشش نہیں کی گئی۔ وزیر داخلہ شیخ رشید نے بھی آج پریس کانفرنس میں اقرار کیا کہ لاہور میں ملتان والی غلطی نہیں دہرائی جائے گی۔ اس کے باوجود جب اپوزیشن کا وسیع اتحاد احتجاج کے لئے لوگوں کو جمع کرتا ہے اور ذبردستی جلسہ گاہ پہنچ کر تقریریں کرنے کا عزم کیا جاتا ہے تو کسی بھی مرحلہ پر کسی معمولی غلطی سے بھی تصادم کی صورت حال پیدا ہوسکتی ہے۔ حکومت کے علاوہ اپوزیشن کو بھی ایسے تصادم سے بچنا چاہئے۔ اس کا اشارہ آج بلاول بھٹو زرداری نے بھی یہ کہتے ہوئے دیا ہے کہ ’ اپوزیشن ایسی کوئی صورت پیدا نہیں کرنا چاہتی کہ تیسرا فریق اس کا فائیدہ اٹھالے‘۔
وزیر اعظم عمران خان کو جہاں اپوزیشن کی اسٹریٹ پاور کے بارے میں غلط اندازے قائم کرنے سے گریز کرنا چاہئے تو اس کے ساتھ ہی یہ ادراک کرنے کی بھی ضرورت ہے کہ اس وقت اپوزیشن کا بنیادی نکتہ سیاست میں اسٹبلشمنٹ کی غیر آئینی مداخلت ہے۔ اس بنیادی مطالبے کو ملک کے طول و عرض میں وسیع حمایت حاصل ہے۔ اپوزیشن لیڈروں کی بدعنوانی کو موضوع بحث بنا کر ملکی سیاست کی اس کمی کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں ہے۔ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ہونے والی بات چیت ، اسی ایک نکتہ پر مبذول ہوگی ۔ اس حوالے موجودہ سیاسی انتظام میں کوئی رعایت فراہم کرنا ضروری ہے۔
پارلیمنٹ اور سیاسی پارٹیوں کی طاقت میں اضافہ خود عمران خان اور تحریک انصاف کے لئے بھی ضروری ہے۔ عمران خان اگر صرف ایک مدت تک حکومت کرنے کے علاوہ ملکی سیاست میں کوئی پائیدار کردار ادا کرنا چاہتے ہیں تو انہیں بھی نعروں کی بجائے سیاسی عناصر کو خودمختار اور طاقت ور بنانے کے لئے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ اگرچہ اسے استم ظریفی کہا جائے گا لیکن اپوزیشن کا احتجاج عمران خان کو یہ موقع فراہم کررہا ہے کہ وہ نہ صرف جمہوریت بلکہ پاکستانی سیاست میں اپنا مقام متعین کرنے کے لئے پیش قدمی کرسکتے ہیں۔