اب ملک میں غیر آئینی مداخلت کے راستے بند ہوکر رہیں گے: رانا ثنااللہ

  • ہفتہ 12 / دسمبر / 2020
  • 5390

مسلم لیگ(ن) پنجاب کے صدر رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ اتوار کو لاہورمین اپوزیشن جلسے کے بعد ملک میں غیرقانونی اور غیرآئینی مداخلت کے تمام راستے بند ہو جائیں گے۔

پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ لاہور کے تاریخی مینار پاکستان پر جلسہ عام کا انعقاد کرے گی۔  مسلم لیگ(ن) کے سینئر رہنما رانا ثنااللہ نے ہفتہ کو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ غیرآئینی، غیرقانونی مداخلت کے تمام راستے کل سے بند ہو جائیں گے۔ اب پاکستان میں جمہوری دور ہو گا اور ووٹ کی عزت ہو گی۔

انہوں نے کہا کہ کل کے بعد ووٹ کے فیصلے کو تسلیم کیا جائے گا اور ہر ادارہ، ہر فرد اپنی آئینی حدود میں رہ کر کام کرے گا۔ رانا ثنااللہ نے کہا کہ پاکستان کے عوام کل یہ فیصلہ دیں گے کہ پاکستان کو اب آئین اور قانون کے مطابق ہی چلایا جا سکتا ہے۔ پاکستان کا آئین و قانون کے مطابق چلنا ہی مہنگائی اور عوام کے مسائل کا علاج ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کا راز بھی اسی میں ہے کہ عوام کے فیصلے کو تسلیم کیا جائے اور حکومت عوام کے مینڈیٹ کے مطابق قائم ہو۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ لاہور جلسے کے سلسلے میں انتظامیہ کا کوئی تعاون نہیں ہے۔ کرسیاں دینے یا لائٹنگ کا انتظام کرنے والوں کے خلاف پولیس کریک ڈاؤن کررہی ہے۔ یہاں چیزوں کو لانے میں رکاوٹ بھی ڈال رہی ہے لیکن اس کے باوجود مینار پاکستان میں کنٹینرز اور کرسیاں بھی آئیں گی اور لائٹس کا انتظام بھی ہو گا۔

سابق صوبائی وزیر قانون نے کہا کہ میں عمران خان کی حکومت اور انتظامیہ کو یہ وارننگ دینا چاہتا ہوں کہ ہمارا پرامن جلسہ ہے۔ لاکھوں کی تعداد میں لوگ پرامن طور پر اکٹھا ہو کر اپنے قائدین کا خطاب سنیں گے اور پرامن طور پر منتشر ہو جائیں گے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے مداخلت کی تو اس سے کوئی حادثہ یا تصادم ہو سکتا ہے۔ اس کی تمام تر ذمے داری بنی گالہ میں قائم حکومت، یہ کٹھ پتلی وزیر اعظم اور انتظامیہ پر ہوگی۔

رانا ثنااللہ نے سرکاری افسران سے کہا کہ آپ سول آفیسر بنیں، ریاست کے ملازم بنیں، آپ اس کٹھ پتلی حکومت کے ملازم نہ بنیں۔ اگر آپ نے کوئی ایسا عمل کیا جس کے نتیجے میں کوئی تصادم ہوا یا کوئی حادثہ ہوا تو آپ ساری زندگی انکوائریاں اور مقدمات بھگتیں گے اور نوکری بھی جاتی رہی گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرسرکاری ملازمین نے قانون کا ساتھ دیا اور خود کو ریاست کا خدمت گار سمجھا تو یہ کٹھ پتلی حکومت زیادہ سے زیادہ آپ کا تبادلہ کر سکتی ہے اور کچھ نہیں کر سکتی۔

جلسے میں دہشت گردی کے خطرے کے حوالے سے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ہم ووٹ کو عزت دینے، اس ملک کو آئین اور قانون کے تحت چلانے کے لیے اس حد تک پرعزم ہیں کہ ہم ہر خطرہ مول لینے کے لیے تیار ہیں۔ کوئی خطرہ ہمارے راستے میں حائل نہیں ہو گا۔