بھارتی کسان اور مودی سرکار آمنے سامنے
- تحریر
- ہفتہ 12 / دسمبر / 2020
- 4420
مودی سرکار کی بھول ہے کہ ہم اپنی مانگیں حاصل کئے بغیر واپس چلے جائیں گے۔ ہمارے بچوں کے مستقبل کا سوال ہے، ہم اور ہمارے نسلیں کیا ملٹی نیشنل کمپنیوں کی غلام بن کر رہ جائیں؟ ہم یہ نہیں ہونے دیں گے: نیو دہلی میں اڑھائی ہفتے سے مورچہ بند بھارتی کسانوں کے مطالبات کا اصرار۔
مودی سرکار کے لئے یہ سال جاتے ہوئے کٹھن امتحان لایا ہے۔ 2017 میں مودی سرکار نے ماڈل فارمنگ ایکٹس منظور کئے مگر ان پر عمل درآمد نہ ہوسکا۔ 2019 میں حکومت نے سات وزرائے اعلیٰ پر مشتمل ایک کمیٹی قائم کی جس کی روشنی میں امسال جون میں زرعی شعبے کے لئے تین آرڈی نینسز جاری کئے، بعد ازاں لوک سبھا اور راجیہ سبھا نے ان آرڈی نینسز کو منظوری دے کر قانون کی صورت دے دی۔ پنجاب اور ہریانہ کے کسانوں نے ان قوانین پر احتجاج کا سلسلہ شروع کر دیا۔ کسان تنظیمیں ایک کے بعد ایک اس احتجاج میں شریک ہوتی گئیں۔
احتجاج پر سرکار ٹس سے مس نہ ہوئی تو کسانوں نے نیو دہلی کی طرف مارچ کا اعلان کر دیا۔ چلو چلو دلّی چلو کا نعرہ دیکھتے دیکھتے ہر طرف گونجنے لگا۔ اڑھائی ہفتے قبل پنجاب اور ہریانہ کے کسانوں کی ایک کثیر تعداد دلّی کو چل نکلی۔ انہیں پولیس نے لاٹھی اور تشدد سے روکنے کی کوششیں کی تو کسان نیو دہلی کے بارڈر پر مورچہ زن ہو گئے۔ ٹائمز کے اندازے کے مطابق دو لاکھ سے بھی زائد کسان اتنے بڑے مظاہرے میں مورچہ زن ہیں۔ مذاکرات کے چار سے زائدراؤنڈز ہوچکے جو ناکام ہوئے۔ بھارت میں سوا ارب سے زائد کی آبادی میں چالیس فی صد سے زائد لوگ براہ راست یا بالواسطہ زراعت سے وابستہ ہیں۔ زراعت کے شعبے میں منڈیوں، آڑھتیوں اور سود پر سرمایہ فراہم کرنے والے نجی سود خوروں کا بہت مضبوط اور قدیمی تعلق ہے۔ سالانہ سینکڑوں کسان خودکشیوں اور خود سوزیوں پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ اس پر مستزاد ذات پات اور مذہب کے شکنجے اپنی جگہ استحصال کاذریعہ ہیں۔ اس سب کے نتیجے میں چھوٹے کسان مسلسل پس رہے ہیں۔ تاہم زراعت کی ویلیو چین میں منڈیوں کے آڑھتیوں، تاجروں اور نجی طور پر سود پر قرض فراہم کرنے والوں کی ہمیشہ چاندی رہی، بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ ان کا شکنجہ مظبوط سے مظبوط تر ہوا۔
بھارت میں قانون کے مطابق کسان اپنی تمام پیداوار میں منظور شدہ منڈیوں کے ذریعے بیچنے کا پابند ہے۔ براہ راست بیچنے کی صورت میں ڈیل منڈی کے کسی آڑھتی کے ذریعے ہوتی ہے جس پر بھاری بھر کم کمیشن ادا کیا جاتا ہے۔ گلوبلائزیشن کے دور میں بھارت کی اپنی اور دنیا کی کئی بڑی کمپنیوں کی نظر اس سیکٹر پر ہے مگر اس کے پیچیدہ اور پرانے قوانین ان کی سرمایہ کاری کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ حکومت نے جو تین قوانین پاس کئے ہیں ان کا تعلق ان رکاوٹوں کو دور کرنا ہے۔ منڈیوں کے ذریعے ہی لازمی فروخت کی بجائے آزادانہ کہیں بھی اور کسی کے ساتھ بھی زرعی پیداوار کی خرید و فروخت کی اجازت، ای کامرس اور طویل مدت کنٹرکٹ فارمنگ کے فریم ورک اور مرکزی حکومت کو فوڈ آئیٹمز کی پیداوار کو ریگولیٹ کرنے کا اختیار۔
زرعی شعبے میں مسائل کی بہت سی پیچیدگیاں ہیں۔ زیادہ تر اجناس کی سپورٹ پرائس رائج ہے جس سے کسانوں کو ایک حد تک تحفظ کا احساس رہتا ہے مگر گلوبلائزیشن اور کارپوریٹ جغادریوں کے اپنے مقاصد ہیں جو اب سرِبازار ٹکرا رہے ہیں اور ایک فیصلہ کن معرکے کی صورت میں سامنے ہیں۔
دوسری جانب کسانوں کے مطالبات ہیں: پاس کئے گئے تینوں بلز کا فی الفور خاتمہ، سپورٹ پرائس کا تسلسل اور ریاست کو پیداوار خریدنے پر پابند کرنا، پرانا منڈی نظام جاری رکھنا، ڈیزل کی قیمتوں میں پچاس فی صد کمی، فصل کی باقیات جلانے پر پابندی ختم کرنے اور اس جرم پر قائم مقدمات کا خاتمہ وغیرہ شامل ہیں۔ اپوزیشن جماعتیں اور بے شمار دیگر انجمنیں بھی کسانوں کی حمایت کر رہی ہیں۔ اب تک تو بی جے پی سرکار مطالبات ماننے سے انکاری ہے لیکن احتجاج کا پھیلتا ہوا دائرہ، اندرون اور بیرون ملک کسانوں کی ملنے والی حمایت، اپوزیشن اور سوشل میڈیا کی طاقت حکومت پر دباؤ بڑھا رہی ہیں۔ آنے والے چند دن یہ فیصلہ کریں گے کہ مودی سرکار گھٹنے ٹیکے گی یا ڈٹی رہے گی؟کسان سردی اور مظاہروں کی طویل مورچہ بندی سے تھک کر کچھ بیچ کا راستہ اختیار کرکے واپسی کی راہ لیں گے یا ڈٹے رہیں گے؟
ہمارے ہاں میڈیا کی ان کسان مظاہروں میں زیادہ تر دلچسپی مودی سرکار کو درپیش چیلنج اور ممکنہ ہزیمت کو اجاگر کرنے تک ہی مرکوز ہے۔ جبکہ زراعت کے شعبے میں جن مسائل کا سامنا بھارت کو ہے، اس سے ملتے جلتے مسائل پاکستان کے کسان اور زرعی شعبے کو بھی درپیش ہیں۔ طلب اور رسد کے بے مہارے جوار بھاٹے میں کسان کی فصل کسی سال تو منافع دے جاتی ہے اور کسی سال نقصان جھولی میں ڈال جاتی ہے۔ زرعی پیداوارکے اخراجات بڑھتے جا رہے ہیں لیکن قیمتوں کا جھولا کبھی اِدھر کبھی اُدھر، سپورٹ پرائس کا میکنزم افراطِ زر کے حکومتی ٹارگٹ کا محتاج ہے۔ کھادیں، ادویات، بجلی اور ٹرانسپورٹ ہر سال مہنگی۔ قرضوں کی فراہمی بہت محدود جبکہ مڈل مین کی موجیں لا محدود۔
پنجاب کے کسان کم و بیش ہر سال مجبور ہو کر لاہور کا رخ کرتے ہیں مگر حکومت وعدوں کا لالی پوپ دے کر انہیں رخصت کر دیتی ہیں مگر کسانوں کے مسائل کل بھی سلگ رہے تھے اور آج بھی۔ دور کیا جانا، چینی دو گنا قیمت پر بکنے سے تاجروں کی چاندی ہو گئی مگر کسانوں کے پلے کچھ بھی نہ پڑا۔ گنے اور گندم کی امدادی قیمتیں مقرر کرنے پر وفاقی اور صوبائی حکومتیں تذبذب کا شکار ہیں۔ واضح اور بر وقت فیصلے سے گریزاں ہیں۔ اس پسِ منظر میں حیرت نہیں ہوتی کہ ہمارے ہاں پچھلے تیس سالوں میں زراعت میں فصلوں کی پیداوار میں شرح نمو مایوس کن کیوں ہے۔ فوڈ آئیٹمز کی امپورٹ بڑھ رہی ہے اور قیمتیں بھی۔ دہقان کے پاس وہ اختیار کہاں کہ جس کھیت سے روزی میسر نہ ہو، اس کے ہر خوشے کو جلا دے۔ بھارت میں کسانوں کے احتجاج کے مضمرات اور ان بنیادی مسائل پر توجہ دینے کی ضرورت ہے جو ہمارے کسانوں میں بھی بے چینی کا سبب بنے ہوئے ہیں۔