جلسوں سے ہم نے گھبرانا نہیں؟

اپنے سیاسی مخالفین پر کرپشن اورملک دشمنی کے الزامات عائد کرتے ہوئے انہیں عوامی نظروں سے گرانے کا وتیرہ یہاں قطعی نیا نہیں ہے۔ لیکن حالیہ برسوں میں اس کند اور اوچھے ہتھکنڈے کو جس احمقانہ و سوقیانہ اسلوب میں استعمال کیا گیا ہے یہ ماضی سے کہیں بڑھ کر ہے۔

اس نوع کا منفی پروپیگنڈا کرنے والے جونہی منہ کھولتے ہیں تو گٹر جیسی بدبو لال حویلی کو سیاہ کرتے ہوئے چاروں سو نہ جانے کہاں کہاں تک پھیل جاتی ہے۔درویش ایک روز ایک ایسی محفل میں موجود تھا جہاں ہماری ایک قابل صد احترام ڈاکٹر صاحبہ تشریف فرما تھیں جو ایک سابق کھلاڑی کیلئے گہری اپنائیت رکھتی تھیں۔ وہاں یہ فرمائش کی گئی کہ آپ سابق کھلاڑی کے بارے میں کچھ سچائیاں بیان فرمائیں۔ عرض کی ناچیز ایک سو ایک سچائیوں کے باوجود کسی ایسے شخص کے متعلق منفی پروپیگنڈا کیسے کر سکتا ہے جس کے چاہنے والےاگر لاکھوں میں نہ ہوئےتو بھی ہزاروں میں ضرور ہوں گے۔

عرض مدعا یہ ہے کہ کسی بھی شخصیت کے متعلق زبان کھولتے ہوئے ہمیں ادب آداب اور تہذیبی اقدار کا پورا خیال رکھناچاہیے۔ بصورت دیگر دوسروں کو بھی آپ یہ لائسنس دے رہے ہوںگے کہ وہ بھی آپ کاکچا چھٹا کھولنے کیلئے یورپ اور امریکا تک چلے جائیں۔ آج کہا جا رہاہے کہ اس منفی رویے کی ابتدا مولانا ابواکلام آزاد جیسی بڑی شخصیت پر شو بوائے کی پھبتی کستے ہوئے کی گئی تھی۔ لیکن یہ وتیرہ اپنی بلندیوں تک اس وقت پہنچا جب عوامی تقاریر میں اپنےسیاسی مخالفین کے نام بگاڑنے اور انہیں الٹے سیدھے خطابات سے نوازنے کاسلسلہ آگے بڑھا۔ پھر ہائےجمالو کے نعروں سے شرفاء کی پگڑیاں خوب اچھالی گئیں۔ اس میں اگر کوئی کسر رہ گئی تھی تو وہ حالیہ برسوں میں پوری کر دی گئی ہے۔ اپنے ہر سیاسی مخالف کو کرپٹ، بے ایمان اور چور چور کہتے ہوئے۔

اگر آپ کو کرپشن کے حوالے سے واقعی اتنی تکلیف ہےتو پھر آپ جھوٹے سچے پروپیگنڈے کی بجائے اس کا کماحقہ تدارک کرنے کے لیے ملک میں احتسابی اداروں کی مضبوطی کا پلان دیں۔ اپنی جوڈیشری کو مضبوط ہی نہیں آزاد اور غیر جانبدار بنائیں۔ اپنی اپوزیشن کےساتھ نیشنل ڈائیلاگ کا ڈول ڈالتے ہوئے تمام سٹیک ہولڈر کو اعتماد میں لے کر اس امر متنازعہ پر خصوصی توجہ دیں کہ ہمارے احتسابی اداروں کی شفافیت اور غیر جانبداری پر کوئی حرف نہ آ سکے۔ وہ نہ صرف تمام تر کرپٹ عناصر کو بلا تمیز ایک نظر سے دیکھیں بلکہ اپنی کریڈیبلٹی کو بھی ملحوظ خاطر رکھیں۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ اہتمام کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی جائے کہ یہاں احتساب سے ماورا کوئی مقدس گائے نہیں ہے۔ آئین پاکستان کے مطابق جس طرح تمام شہری برابر ہیں اسی طرح تمام قومی ادارے بھی احتساب اور تنقید کے سامنے برابر کھڑے دکھائی دیں۔ آڈٹ ہو گا تو سب کا ہو گا، میڈیا کی رسائی ہو گی تو سب تک ہو گی۔ اگر کوئی یہ بھاری پتھر نہیں اٹھا سکتا تو اسے قوم کے اصل معماروں یعنی سیاستدانوں کے خلاف یک طرفہ زبان درازی و بدزبانی کا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔

اس وقت اگر پاکستان میں ایک جمہوری و سیاسی سیٹ اپ کام کر رہا ہے تو پھر یہاں سیاسی سرگرمیوں پر بندشیں کس اصول کے تحت عائد کی جا رہی ہیں؟ اگر کورونا کا ایشو ہے تو پھر یہ دیگر تمام حکومتی، مذہبی اور سماجی تقریبات پر کیوں لاگو نہیں ہوتا ہے؟ پھر ان لوگوں کا استدلال وزنی ہو جاتا ہے کہ کیا کورونا اتنا سمجھ دار ہے جو صرف اپوزیشن کے جلسوں کی طرف آتا ہے دیگر اجتماعات سے بھاگ جاتا ہے۔ ملتان کے قاسم باغ میں آپ لوگوں نے جو وتیرہ اپنایا کیا یہ کسی سیاسی و جمہوری حکومت کے شایان شان کہا جا سکتا ہے؟ اور پھر تمام تر جبری ہتھکنڈوں کے بعد حاصل کیا ہوا؟ وہی جلسہ پہلے والے جوش و خروش سے کہیں بڑھ کر دوسری جگہ منعقد ہو گیا۔

اس کے بعد اب آپ لاہور والے جلسے کے حوالے سے جو زبان استعمال فرما رہے ہیں کہ جس کسی نے کرسیاں دیں، سائونڈ سسٹم دیا، سٹیج بنوایا اس کے خلاف جلسے کے بعد ایف آئی آر کٹوائیں گے۔ گرفتاریاں کریں گے سٹیج پر بیٹھے ہوئے سیاسی رہنماؤں کے خلاف بھی مقدمات بنائے جائیں گے۔ کوئی بھی جمہوری حکومت یا جمہوری الذہن سیاستدان کیا اس نوع کی زبان کا متحمل ہو سکتا ہے؟

اس کے بعد ڈی جے بٹ جیسے ایک بے ضرر شخص کے ساتھ جو خود کو آپ کا ٹائیگر کہتاہے کیا سلوک کیا گیا ہے؟ جس طرح گھسیٹ کر اسے گرفتار کیا گیا اور ہتھکڑیاں پہنے وہ رو رہا تھا کہ پچھلوں نے تو صرف تشدد کیا تھا، انہوں نے تشدد کے بعد مائوں بہنوں کی گالیاں دیتے ہوئے جو تذلیل کی ہے اس سے بہتر تھا یہ لوگ مجھے مار دیتے۔ اس کے خلاف لائٹیں لگانے اور غیر قانونی اسلحہ رکھنے کی جعلی ایف آئی آر کاٹی گئی۔

سوال یہ ہے کہ آپ کس کو یہ دھمکیاں دے رہے ہیں کہ اپوزیشن مجھے جانتی نہیں۔ خدا کے بندو عاجزی اختیار کرو، کیا آپ فرعون کے رشتے دار ہیں۔ براہ کرام رعونت والی باتیں نہ کریں یہاں کتنی کتنی مضبوط حکومتیں آئیں، کیسے کیسے عسکریت پسند ڈکٹیٹر آئے۔ وقت نے جنہیں عوامی و انسانی قدموں کی دھول بنا دیا ہے۔ اس جیسی تیسی حکومت کے متعلق تو رائے عامہ پہلے ہی واضح ہے کہ طاقتوروں کے سہارے پر کھڑی ہے، خود اپنی حیثیت کیا ہے اس پر لکھنے اور کہنے کو اتنا کچھ ہے کہ جب جبر کا شکنجہ ٹوٹے گا تو بہت کچھ سامنے آ جائے گا۔

آپ لوگ یہ کیوں نہیں سوچتے ہیں کہ ان تمام تر غیر جمہوری ہتھکنڈوں اور الزام تراشیوں کا نقصان اپوزیشن سے کہیں زیادہ خود آپ کو پہنچ رہا ہے۔ آپ دوسروں کو کہتے نہیں تھکتے کہ گھبرانا نہیں لیکن خود اپنی گھبراہٹ پر ذرا غور تو فرمائیں کہ اپنے تمام تر عوامی اعلانات اور بلند بانگ دعوئوں کو بھلا کر دن رات اپوزیشن اور ان کے جلسے جلوسوں کو کوس رہے ہیں۔ ایسے میں جب عوام یہ پوچھیں گے کہ ہماری غربت، بے روزگاری اور مہنگائی کیلئے آپ لوگوں نے کیا کیا ہے تو آپ کے کھیسے میں کیا ہو گا عوام کو پیش کرنے کے لئے؟

خدارا اپنی توجہ اپوزیشن کی سیاسی و جمہوری سرگرمیوں کو کچلنے کی بجائے اپنے عوامی بہبود کے ایجنڈے پر مبذول فرمائیں۔ وہ اگر عوامی مفاد کے خلاف چلیں گے تو عوام خود ان کا آنے والے الیکشن میں احتساب کریں گے۔ لیکن آپ ابھی سے اپنی راہ جس طرح کھوٹی کر رہے ہیں، اس میں تو کل کو آپ کے اپنے بہی خواہ طاقت والے بھی آپ کی مدد سے قاصر رہ جائیں گے ۔