ایجنسیوں میں سیاسی انجینرنگ کی فیکٹریاں بند کی جائیں: نواز شریف
- اتوار 13 / دسمبر / 2020
- 8360
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف نے کہا ہے کہ ملک کے موجودہ نظام کو بدلنا ہوگا اور اس کو بدلے بغیر کوئی چارہ نہیں ہے۔ وہ لاہور میں پی ڈی ایم کے جلسہ سے خطاب کررہے تھے۔
نواز شریف سے قبل پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے صدر مولانا فضل الرحمٰن، پی پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز سمیت پی ڈی ایم کے دیگر قائدین اور رہنماؤں نے خطاب کیا تھا۔
نواز شریف نے کہا کہ اس نظام کو بدلے بغیر کوئی چارہ نہیں۔ یہ ملک غیر جمہوری قوتوں کی مزید مداخلت کی تاب نہیں لا سکتا۔ جو دخل اندازی کرتے ہیں انہیں بھی اب سمجھ لینا چاہیے کہ ملک اس کا مزید متحمل نہیں ہوسکتا۔ ہم اس نظام کو بدلے بغیر آگئے نہیں بڑھ سکتے کیونکہ اس ہائی جیک جمہوریت میں آپ کے مستقبل کو اغوا کیا گیا ہے اور اس بات کو جتنی جلدی سمجھ لیا جائے اتنا ہی اچھا ہے۔
نواز شریف کا کہنا تھا کہ آج ہمیں ایسا نظام چاہئے جس میں ریاست کے اوپر ریاست نہ ہو۔ انہوں نے مزید کہا کہ کوئی قوم اپنی فوج سے نہیں لڑ سکتی۔ جلسے میں ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں نے اس طرح کی آمریت اور اس طرح کے جبر کی مثال کم ہی دیکھی ہے۔ ایک پرامن جلسے کو کرسیاں و لاؤڈ اسپیکر دینے پر بھی مقدمے بنائے جارہے ہیں۔ ان لوگوں کو خبر نہیں جب عوامی طاقت کا سیلاب آتا ہے تو اس طرح ہتھکنڈے اور بزدلانہ رکاوٹیں تنکوں کی طرح بہہ جاتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ میں نے پاکستان کی سالمیت اور بقا پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا۔ 2013 میں جب عوام نے مجھے تیسری مرتبہ وزیراعظم اور شہباز شریف کو وزیر اعلیٰ بنایا تو پاکستان اندھیروں میں ڈوبا ہوا تھا۔ بیس بیس گھنٹے لوڈ شیڈنگ ہوتی تھی اور گیس کی لوڈ شیڈنگ سے چولہے ٹھنڈے پڑے تھے۔ ہر طرف دہشت گردی کا راج تھا، روز بم دھماکے ہوتے تھے۔ ہر طرف بدامنی تھی لیکن اللہ کے کرم سے ہم نے اندھیروں اور گیس کی لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ کیا اور دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا۔
سابق وزیراعظم نے کہا کہ اورینج ٹرین چل رہی ہے۔ لاہور، ملتان، راولپنڈی اور اسلام آباد میں میٹرو بس لاکھوں لوگوں کو باعزت سفر مہیا کر رہی ہے۔ اسکول، کالج اوریونیورسٹیاں بن رہی تھیں، صحت کے شعبے میں پی کے ایل آئی جیسے ادارے اور ہسپتال بن رہے تھے۔ ان منصوبوں کی تکمیل پر جیل میں قید اپنے بھائی شہباز شریف کو شاباش دیتا ہوں۔
انہوں نے کہا کہ 2018 کے انتخابات میں ہماری تاریخ کی سب سے بڑی دھاندلی کی گئی۔ چند جرنیلوں نے مل کر فیصلہ کیا کہ نواز شریف، شہباز شریف اور مسلم لیگ (ن) کو عبرت کا نشانہ بنانا ہے اور ایسی کٹھ پتلی کو لانا ہے جو آنکھیں بند کرکے ان کے اشاروں پر ناچتی رہے اور آج وہی کچھ ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایجنسیوں میں سیاسی انجینرنگ کی فیکٹریاں بند ہونی چاہئیں۔
ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے ووٹ چوری کرکے ایک نالائق، نااہل اور نادان کھلنڈروں کا ایک سرکس لگایا۔ پھر دیکھتے ہی دیکھتے ترقی کی راہ پر آگے بڑھتے ہوئے پاکستان کو غربت، مہنگائی، بے روزگاری، بد امنی اور معاشی تباہی کی گہری کھائی میں دھکیل دے دیا۔ نواز شریف نے کہا کہ چینی پر عوام جو اضافی پیسے ادا کر رہے ہیں اس کا فائدہ کسان اور عوام کو نہیں پہنچ رہا، بلکہ یہ پیسے عمران خان کے حواریوں اور اے ٹی ایم مشینوں کے جیبوں میں جارہے ہیں۔
اس سے قبل پی ڈی ایم کے صدر مولونا فضل الرحمان نے لاہور جلسہ کے بعد جنوری یا فروری میں لانگ مارچ کا اعلان کیا۔ حکومت مخالف تحریک کے دوسرے مرحلے میں استعفے لے کر جنوری یا فروری کے اوائل میں لانگ مارچ ہوگا۔ لاہور کے مینارِ پاکستان میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے پی ڈی ایم رہنماؤں نے کہا کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات کا کوئی فائدہ نہیں اب حکومت کے خلاف فیصلہ کن مارچ ہو گا۔
مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے الزام لگایا کہ پارلیمنٹ کو آئی ایس آئی کا ایک سابق افسر چلا رہا ہے جس کا نام پورے اسلام آباد کو پتا ہے۔ مریم نواز نے سابق ڈی جی آئی ایس آئی احمد شجاع پاشا اور جنرل ظہیرالاسلام پر الزام لگایا کہ اُنہوں نے مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے خلاف دھرنے کرائے۔ مریم نواز نے کہا کہ 2011 میں تحریکِ انصاف کے مینارِ پاکستان جلسے کا اہتمام بھی جنرل احمد شجاع پاشا نے کیا۔
مریم نواز نے شرکا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ لانگ مارچ کے لیے تیار رہیں اور چاہے جتنے دن بھی بیٹھنا پڑے اس کی بھی تیاری رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ جب مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے خلاف دھرنا اور دیگر سازشیں کامیاب نہ ہوئیں تو پھر کرپشن کا راگ الاپتے ہوئے عدالت کے ذریعے نواز شریف کو بیٹے سے تنخواہ نہ لینے پر گھر بھیج دیا۔
مریم نواز نے کہا کہ قانون کی حکمرانی بات کرنے والے کیا صرف بٹ کڑاہی والے کو قانون کے دائرے میں لا سکتے ہیں؟ کیا اُن میں ہمت ہے کہ عاصم سلیم باجوہ کے پاپا جونز پیزا کو بھی قانون کے دائرے میں لائیں۔
جلسے سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے مذاکرات کے امکان کو رد کرتے ہوئے کہا کہ "اب ڈائیلاگ کا وقت گزر چکا اب لانگ مارچ ہو گا۔ اسلام آباد ہم آ رہے ہیں۔" اُنہوں نے کہا کہ ہمیں فون کرنا بند کریں، ہمارے اندر دراڑیں ڈالنے کی کوششیں نہ کریں، اب ہم اسلام آباد جائیں گے اور سلیکٹڈ حکومت کو گھر بھیج کر دم لیں گے۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہم کٹھ پتلی اور اس کے سہولت کاروں کو للکار رہے ہیں تاکہ اُنہیں عوام کا حق تسلیم کرنے پر مجبور کریں۔ چیئرمین پیپلزپارٹی نے قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف شہباز شریف اور پیپلزپارٹی کے رہنما سید خورشید شاہ کی رہائی کا بھی مطالبہ کیا۔
جلسے سے خطاب کرتے ہوئے پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ عوام کے ساتھ ٹکراؤ سے گریز کرے اور اُن کا حقِ حکمرانی تسلیم کرے۔ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ 72 سال سے اسٹیبلشمنٹ کی بالادستی کی وجہ سے ہمارا ملک غلام بن چکا ہے۔ ہمارا مقصد اپنی فوج، عدلیہ اور اداروں کو عالمی اسٹیبلشمنٹ کے دباؤ سے آزاد کرانا ہے۔ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ جنوری کے آخر یا فروری کے اوائل میں استعفوں کے ساتھ اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کریں گے۔
اس سے پہلے لاہور میں مینار پاکستان پر اپویزیشن اتحاد پی ڈی ایم کا جلسہ شروع ہؤا اور تمام قائیدین جلسہ گاہ پہنچے تھے۔ حکومت نے اس جلسہ کی اجازت نہیں دی تھی لیکن اپوزیشن کا اصرار ہے کہ جلسہ پروگرام کے مطابق ہوگا۔ پی ڈیم ایم کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے جمعیت اہل حدیث کے سربرہ ساجد میر نے کہا کہ سیاست میں اسٹبلشمنٹ کی عدم مداخلت کا بیانیہ صرف نواز شریف نہیں بلکہ اپوزیشن، پی ڈی ایم اور عوام کا بیانیہ ہے۔ مینار پاکستان میں اپوزیشن کی 11 جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) نے مینار پاکستان میں جلسے کے لیے پنڈال سجا لیا ہے اور مولانا فضل الرحمٰن، مریم نواز اور بلاول بھٹو زرداری سمیت دیگر رہنما جلسہ گاہ میں موجود ہیں۔
مینار پاکستان میں مختلف جماعتوں کے کارکنان کی بھی بڑی تعداد موجود ہے جو اپنی جماعتوں کے پرچم تھامے ہوئے نعرے لگا رہے ہیں۔ جمعیت اہل حدیث پاکستان کے سربراہ ساجد میر نے کہا کہ میں لاہور کے شہریوں کو مبارک باد اور خرج تحسین پیش کرنا چاہتا ہوں کہ حکومت کی تمام رکاوٹوں اور جھوٹے ڈراموں کے باوجود اور روکنے کے باوجود مینار پاکستان کے سائے میں عظیم الشان اورقابل دید جلسہ منعقد کرکے حکومت اور اس کے کارندوں کو زبردست ناکامی اور شکست سے دوچار کردیا ہے۔
ساجد میر کا کہنا تھا کہ یہ بیانیہ نواز شریف کا نہیں بلکہ پوری اپوزیشن اور پی ڈی ایم کا ہے، اس کو بیان کرنے کے لیے الفاظ کا استعمال مختلف ہوسکتا ہے لیکن اس بیانیے کی تصدیق ہر شہری کر رہا ہے۔ بیانیہ یہی ہے کہ اس ملک کے عوام کو اپنی حکومت اپنے ووٹوں سے منتخب کرنے کا حق ملنا چاہیے۔ عوام کے ووٹ سے جو حکومت آئے، اس کو اور اس کے ووٹ کو عزت ملے۔ اس کو بغیر کسی مداخلت اور بغیر رکاوٹ کے حق حکومت کے لیے آزاد ہو۔ انہوں نے کہا کہ عوام کی مدد سے ہم اس بیانیے کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے۔
اے این پی کے سیکریٹری جنرل اور پی ڈی ایم کے ترجمان نے قرار داد پیش کی اور کہا کہ اس عظیم الشان جلسہ کے توسط سے اس حکومت کو خبردار کرتے ہیں کہ اٹھارویں ترمیم پاکستان کی وفاقیت کی علامت ہے۔ اس کو کسی صورت نہ چھیڑا جائے اور صوبائی خود مختاری کو نہ چھیڑا جائے۔
افتخار حسین نے کہا کہ گوادر شہر کے گرد لگائی گئی باڑ کی مذمت کرتے ہیں اور اس کو جلد از جلد ہٹایا جائے۔ کورونا اور وبا سے جان بچائی جائے، ماسک، سنیٹائزر کو استعمال کیا جائے لیکن ہم عمرانی کورونا کو نہیں مانتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آج جلسہ سے پہلے ہی پنجاب کے وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے کہا کہ جلسہ ناکام ہوگیاہے۔ میں ان سے کہتا ہوں کہ یہاں کر عوامی سمندر دیکھو، لاہور نے آج دکھا دیا ہے، لاہور والو تم نے کرکے دکھایا ہے۔
محمود خان اچکزئی نے کہا کہ مولانا فضل الرحمٰن بات کرنا چاہتے ہیں تو ان سے کریں۔ اگر وہ نہیں مانتے ہیں تو ترکی کے طرز پر انقلاب کی بات پکی ہوگئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حالات انقلاب کے لیے تیار ہیں۔ اگر اسٹبلشمنٹ پیچھے نہ ہٹی تو مریم نواز آپ رہنمائی کریں، ہم آپ کا بھرپور ساتھ دیں گے۔
اے این پی کے رہنما امیر حیدر ہوتی نے کہا کہ لاہور آپ کا شکریہ ہم پختون وفاداری کی قدر کرتے ہیں. ہمیں آپ لوگوں کی وفاداری کی قدر ہے اورلاہور نے آج ثابت کردیا ہے۔ ملک کے تین مرتبہ وزیراعظم رہنے والے نواز شریف کا ایک اقامے کی بنیاد پر ارشد ملک جیسے جج کے ذریعے نااہل کیا گیا، ان کی بیٹی کو ان کے سامنے گرفتار کیا گیا تاکہ وہ ان کی کمزوری بنے لیکن وہ ان کی طاقت بن گئی۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب کی خدمت کرنے والے اور ملک کے سب سے محنتی وزیراعلیٰ شہباز شریف کو گرفتار کرکے جیل میں ڈال دیا اور ان کے بیٹے کو بھی قید کرکے پنجاب ایک ایسے آدمی کے حوالے کردیا گیا جو یونین کونسلر منتخب نہیں ہوسکتا۔ امیر حیدر ہوتی نے کہا کہ سو سال قبل باچاخان نے عدم تشدد کی بات کی لیکن ان پر تشدد ہوا اور انہیں غدار قرار دیا گیا۔ آج جو ظلم اور ناانصافی ہورہی ہے، اس سے آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ جو بات باچاخان نے آج سے کئی 80، 90 سال پہلے کہی تھی وہ سچ ثابت ہو رہی ہے۔
قبل ازیں جلسہ گاہ پہننچے سے قبل پی ڈی ایم کے صدر اور جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن، مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز، بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل کے صدر سردار اختر مینگل اور عوامی نیشنل پارٹی کے جنرل سیکریٹری میاں افتخار حسین مسلم لیگ (ن) کے رہنما ایاز صادق کے گھر پہنچے جہاں انہیں ظہرانہ دیا گیا۔
جلسہ گاہ میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رضاکار ونگ انصار الاسلام کے 3 ہزار رضاکار سیکیورٹی کے فرائض انجام رہے ہیں۔ خواتین شرکا کے لیے الگ گیٹ مختص کیا گیا ہے۔ اپوزیشن اتحاد نے آج کے اس جلسے کے لیے سیاسی ماحول کو کافی گرم کیا ہوا ہے اور اس سلسلے میں پی ڈی ایم میں شریک جماعتوں کے قیادت نے مختلف ملاقاتیں بھی کی تھیں۔