تنویر احمد جھنڈا کیس

اڑتالیس سالہ تنویر احمد ایک برطانوی کشمیری صحافی و محقق ہیں۔ وہ چار سال کی عمر میں اپنے آبائی گاؤں سہنسہ کوٹلی سے والدین کے ساتھ برطانیہ گئے۔ برطانیہ میں  اعلی تعلیم کے ساتھ ساتھ انہوں نے ایک اسلامی ادارہ سے قرآن بھی حفظ کیا۔

 کچھ عرصہ تک بی بی سی کے ساتھ منسلک رہے مگر عراق پر  برطانیہ امریکی حملہ کے نتیجہ میں بی بی سی سے الگ ہو گئے۔  انہوں نے بھارتی مقبوضہ کشمیر کا دورہ کیا  اور بعد میں آزاد کشمیر بھی آئے۔ جیسا کہ عام خیال کیا جاتا ہے، تنویر احمد آزاد کشمیر کو آزادی کا بیس کیمپ تصور کرتے تھے۔ مگر یہاں آ کر انہیں معلوم ہوا کہ یہ نام نہاد بیس کیمپ ہی تحریک آزادی میں سب سے بڑی رکاوٹ بنا ہوا ہے۔ انہوں نے یہاں پر عوامی رائے  کے لیے سروے شروع کیا جس میں پاکستان کے اداروں نے غیر ضروری رکاوٹیں ڈالیں۔ یہاں سے ایک محب وطن کشمیری جو پاکستان کے لیے نیک جذبہ رکھتا تھا اس کی سوچ بدلنا شروع ہوئی۔

 جوں جوں تنویر کے تحقیقی کام میں مداخلت ہوئی توں توں تنویر کا رویہ سخت ہوتا گیا۔  پاکستانی اداروں کا کہنا تھا کہ آزاد کشمیر بھی اتنا ہی آزاد ہے جتنا پاکستان۔ اس لیے اگر کچھ کرنا ہے تو بھارتی مقبوضہ کشمیر کی آزادی کے لیے کرو جبکہ تنویر کا اصرار تھا کہ اگر ایسا ہے تو پھر اس آزاد معاشرے میں عوام کی آزادانہ رائے لینے اور دینے  میں رکاوٹ کیوں ہے؟  متعدد بار تنویر احمد پاکستان کے مختلف اداروں کے ہاتھوں گرفتار ہوئے۔ کبھی آزاد کشمیر کی عدالتوں نے انہیں بری کیا اور کبھی ہم نے گفت و شنید کے ذریعے تنویر احمد کو رہا کروایا مگر اس بار مسئلہ کچھ زیادہ ہی بگڑ گیا۔

 ہوا یوں کہ چودہ اگست کی تقریب کے موقع پر آزاد کشمیر کے ضلع میرپور کی تحصیل ڈڈیال کے مقبول بٹ شہید چوک میں مختلف جھنڈوں کے ساتھ پاکستان کا قومی جھنڈا بھی لگایا گیا۔ کہا جاتا ہے کہ خفیہ عناصر نے جموں کشمیر کی آزادی اور وحدت کے سب سے بڑے نشان مقبول بٹ کے نام سے منسوب چوک سے آزادی پسندوں کے جھنڈے اتار دیے اور پاکستان کا جھنڈا رہنے دیا۔ اس پر ابتدائی طور آزادی پسندوں نے اعتراض کیا مگر تنویر احمد ایک قدم آگے بڑھ کر پاکستان کے جھندے پر اس بنیاد پر اعتراض کیا کہ جب تک جموں کشمیر کی وحدت بحال کر کے اس کے مستقبل کا جمہوری طریقے سے فیصلہ نہیں ہو جاتا تب تک کسی بھی غیر ملکی جھنڈے کو جموں کشمیر کا قومی جھنڈا قرار نہیں دیا جا سکتا۔ تنویر احمد سے وعدہ کیا گیا کہ رات کوپاکستانی جھنڈا اتار دیا جائے گا مگر ایسا نہ ہونے کی وجہ سے تنویر احمد نے اکیس اگست کو دن کی روشنی میں پاکستان کا جھنڈا اتار دیا۔

 پاکستان کی ایجنسیوں نے پولیس کو شکایت کی۔ پولیس نے انتہائی غیر انسانی طریقے سے تنویر احمد کو گرفتار کیا۔ کچھ غیر سرکاری غیر ریاستی باشندوں پر بھی تنویر احمد پر تشدد کا الزام لگایا جاتا ہے۔  تنویر احمد نے ماضی میں آزاد کشمیر کی عدالتوں سے اپنے حق میں ملنے والے فیصلوں کی وجہ سے ضمانت کی درخواست دائر کی مگر تین ماہ میں چار عدالتوں نے ان کی درخواست ضمانت اس بنیاد پر مسترد کی کہ اگر تنویر کو ضمانت دی گئی تو وہ دوبارہ جھنڈا اتارنے کی کوشش کر سکتا ہے۔ دوسری وجہ یہ بتائی گئی کہ بھارت نے تنویر کے کیس کو بہت اچھالا ہے جس سے پاکستان بدنام ہؤا۔

 انصاف پر یقین رکھنے والوں نے کہا کہ کسی بھی انسان کو اس وجہ سے جیل میں نہیں رکھا جا سکتا کہ وہ دوبارہ یہ جرم کر سکتا ہے جبکہ ہندوستان نے اگر پروپگنڈا کیا ہے تو پاکستان میں بھی ہندوستان کے خلاف اس طرح کا پروپگندا ہوتا رہتا ہے۔  بہرحال پچیس نومبر کو سپریم کورٹ نے ضمانت کی آخری درخواست مسترد کر کے تین ماہ کے اندر اندر ٹرائل کا حکم دیا۔ ہمارا موقف ہے کہ اگر ٹرائل کرنا ہے تو پھر تاخیر کیوں؟  تمام شواہد اور گواہان موجود ہیں۔ پولیس نے تین ماہ پہلے چالان پیش کر دیا تھا لہذا ٹرائل شروع کیا جائے۔ 

اندرون و بیرون ملک پذیرائی پانے والے اس کیس کے بارے میں لوگوں کی رائے ہے کہ یہ ایک معمولی کیس تھا جسے مس ہینڈل کیا گیا ہے۔ اب عدلیہ کو  سیاسی مداخلت کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اس کیس میں ہونے والی قانونی زیادتیوں کی تلافی کر کے تنویر احمد کو باعزت بری کرنا چاہئے۔ سننے میں آیا ہے کہ تنویر احمد کو واپس برطانیہ چلے جانے کی شرط پر بری کرنے کی پیشکش کی جا رہی ہے مگر وہ ایسی شرط قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔

ہم نے 11 نومبر کو تنویر احمد کے ساتھ ملاقات کی ہے اور انہوں نے دونوں سیاسی و قانونی بنیادوں پر ڈٹ کر اپنا کیس لڑنے کا پیغام دیتے ہوئے اپنے حامیوں کے تعاون کا شکریہ ادا کیا ہے۔