الزامات او رکردار کشی پر مبنی سیاست
- تحریر سلمان عابد
- اتوار 13 / دسمبر / 2020
- 5640
الزام تراشیو ں، کردار کشی، لعن طعن او رایک دوسرے کو قبول نہ کرنا یا سیاسی مخالفین کی تضحیک کرنے کا کھیل ہمیشہ سے ہماری سیاست میں غالب رہا ہے۔ سیاست دان او ر سیاسی کارکن مسائل کی بنیاد پر گفتگو کم اور ذاتیات پر بات کرکے سیاسی ماحول کو بدنما کرتے ہیں۔ اس کھیل میں سب ہی سیاسی جماعتیں شامل ہیں۔
یہ ہی کھیل ہمیں ٹی وی ٹاک شوز میں بھی دیکھنے کو ملتا ہے اوریہ سوچ تقویت پکڑتی ہے کہ ہم مہذہب، ذمہ دارانہ سیاست او رجمہوری طرزعمل سے بہت دور ہیں۔ ایک دلیل یہ دی جاتی ہے کہ سیاست میں خرابیوں کی بڑی وجہ تحریک انصاف او رعمران خان کی سیاست ہے۔ یعنی سیاست میں الزام تراشیوں، لعن طعن اور سیاسی تضحیک کا کلچر عمران خان کی سیاست سے پہلے نہیں تھا۔ حالانکہ ہماری سیاسی تاریخ کا جائزہ لیں تو ایک شکل 1970-77کی سیاست میں بھٹو کے حامیوں اور مخالفین میں دیکھنے کو ملتی ہے۔ دوسری شکل ہم نے 1985-2000تک نواز شریف اور بے نظیر کے سیاسی حامیوں او رمخالفین میں دیکھی او راسلامی جمہوری اتحاد کے پلیٹ فارم سے جو کچھ ہوا وہ بھی ہماری سیاسی تاریخ کا حصہ ہے۔ اس کے بعد 2000-2008جنرل مشرف کے حامیوں او رمخالفین کے درمیان سیاسی جنگ اور اب 2010-20ہمیں عمران خان کے حامیوں او ران کے سیاسی مخالفین کے درمیان جنگ دیکھنے کو مل رہی ہے۔
آج ہمیں زیادہ جذباتی صورتحال دیکھنے کو مل رہی ہے اس میں بنیادی فرق سوشل میڈیا کا بڑھتا ہوا پھیلاؤہے۔ ماضی میں یہ ہی سارا گند موجود تھا اور بڑی شدت سے سیاسی حامیوں او رمخالفین کے درمیان یہ کچھ ہوتا تھا جو آج ہم دیکھ رہے ہیں۔ سیاست میں کئی عورتوں کی نہ صرف کردار کشی کی گئی بلکہ مخالفین کو ملک دشمن، غدار، غیر ملکی ایجنٹوں کے خطاب بھی سننے کو ملے۔پیپلز پارٹی او رنواز شریف کے حامیوں کے درمیان سیاسی مخالفین پر کرپشن، بدعنوانی، لوٹ مار،کرپٹ جیسے الزامات بھی سننے کو ملتے رہے ہیں۔بقول معروف صحافی و تجریہ کار اصغر عبداللہ کے ہمارے سیاسی کلچر میں بھٹو نے گالی کلچرمتعارف کروایا،نواز شریف نے پروان چڑھایا اور عمران خان نے اسے عروج پر پہنچایا۔ اسی کھیل میں یہ اضافہ بھی ہونا چاہیے کہ بھٹو نے جو کچھ سیاسی مخالفین کے ساتھ کیا وہ بھی سیاہ تاریخ تھی۔
اس لیے مسئلہ پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن، پی ٹی آئی، ایم کیو ایم، جے یو آئی سمیت دیگر جماعتیں ہی نہیں بلکہ تمام سیاسی جماعتوں نے مجموعی طور پر جو سیاسی کلچر متعارف کروایا یا اسے پالا پوسا اس نے پوری سیاست او رجمہوریت کے نظام کو اخلاقی بنیادوں پر کمزور کردیا ہے۔اب بھی جو کچھ ہم عمران خان کے حامیوں او رمخالفین کے درمیان جاری سرد جنگ دیکھ رہے ہیں اس پر سوائے سیاسی ماتم کے او رکچھ نہیں کیا جاسکتا۔ وزیر اعظم سمیت حکومتی وزرا، حزب اختلاف کے راہنماؤں کی مجموعی سیاست الزامات کے سہارے کھڑی ہے۔سیاست میں موجود عورتوں کو بھی لعن طعن یا ان کی کردار کشی جیسے مسائل کا سامنا ہے۔بنیادی طور پر سیاسی جماعتوں او ران کی قیادت کی یہ سیاسی حکمت عملی نظر آتی ہے کہ وہ اپنی سیاسی ناکامیوں کو قبول کرنے کی بجائے سارا ملبہ مخالفین پر ڈال کر اپنے ہی سیاسی کارکنوں کے سامنے سرخرو ہونا چاہتے ہیں۔ ان کو لگتا ہے کہ سیاسی کارکنوں کے درمیان یہ سرد جنگ یا محاذ آرائی یا الزام تراشیوں، لعن طعن، کردار کشی کی سیاست کا سہارا لے کر ہم اپنی عملی سیاسی مفاد یا سیاست کو مضبوط کرسکتے ہیں۔
یہ ہی وجہ ہے کہ سیاست میں جو بھی فریق غیر سیاسی، غیر مہذہب، غیر اخلاقی، غیر ذمہ داری یا اخلاق سے گرا ہوا عمل کرتا ہے تو سیاسی قیادت کی جانب سے ان کی حوصلہ شکنی، تادیبی کاروائی کی بجائے اس کی ہر سطح پر حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔جب لیڈر خود آگے بڑھ کر ہی اپنے مخالفین پر تضحیک کی سیاست کریں گے تو یہ ہی کلچر پوری جماعت یا سیاسی نظام پر بالادست ہوتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اگر بہت سے قائد یہ کام خود براہ راست نہیں کرتے تو انہوں نے دیگر لوگوں کو یہ ذمہ داری دی ہوتی ہے کہ وہ مخالفین کے خلاف آخری حد تک جائیں ہم آپ کے ساتھ کھڑے ہیں۔ جب تک سیاسی جماعتوں کے اندر ان معاملات میں داخلی احتسابی کا نظام استوار نہین ہوگا، درستگی کا عمل ممکن نظر نہیں آتا۔
میڈیا کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ ریٹنگ کی سیاست کا شکار ہوگیا ہے۔ یہ اس کی مجبوری بن گئی ہے کہ وہ اپنی ریٹنگ کی سیاست کو تقویت دینے کے لیے خود محاز آرائی کے کھیل کا حصہ دار بن گیا ہے۔ جو کچھ ٹاک شوز میں ہورہا ہے یہ ہی کلچر ہمیں سیاسی مباحث میں دیکھنے کو مل رہا ہے۔ ایک دوسرے کو برداشت کرنا، رواداری کا مظاہرہ کرنا، تحمل و برد باری سے لوگوں کی باتوں کو سننا، اپنی ہی بات کو محض سچ سمجھ لینا اور دوسروں کے سچ کو قبول نہ کرنا، سیاسی، سماجی او رمذہبی فتووں کا کھیل، پر تشدد رجحانات کی حوصلہ افزائی کرنا، انتہا پسندی پر مبنی سوچ کا پرچار، لوگوں کی ذاتی یا نجی زندگیوں میں مداخلت کرنا اور محض الزامات کی بنیاد پر ان کی کردار کشی جیسے امور ہمارے سماج میں مضبوط ہوگئے ہیں۔
جو لوگ معاشروں میں رائے عامہ بناتے ہیں جب وہی اپنے مزاج میں کڑوے ہوجائیں۔ الزام تراشی تضحیک و کردار کشی کی سوچ کو اپنے مخالفین کے خلاف سیاسی ہتھیار بنالیں تو پھر معاشرے کی اصلاح کیسے ہوگی۔ سیاسی جماعتوں کا مجموعی کلچر میں بنیادی تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔لیکن مسئلہ یہ ہے کہ سیاسی جماعتیں جمہوریت کی باتیں تو بہت کرتی ہیں لیکن اصلاح احوال کے لیے اصلاحات پر عملدرآمد پرتیار نہیں۔سیاسی کارکنوں کی تربیت کی بات کی جاتی ہے لیکن ہم تو مسئلہ یہ دیکھ رہے ہیں کہ سیاسی قیادت تضحیک کی سیاست کو اپنا ہتھیار سمجھتی ہے۔ ہمارے علمائے کرام کا انداز بیان او رطرز عمل بھی مخالفین کے بارے انتہا پسندی پرمبنی ہوتا ہے۔
اس ساری صورتحا ل یا سیاسی بگاڑ کی ذمہ داری کسی ایک جماعت پر ڈالنے کی بجائے یہ تسلیم کریں کہ یہ مجموعی سیاسی کلچر کی ناکامی ہے۔ اس ناکامی میں سب ہی ذمہ دار ہیں۔ اگر صورتحال کو تبدیل کرنا ہے تو یہ اجتماعی کوشش کرنا ہوگی۔ تمام سیاسی جماعتوں کے درمیان کوڈ آف کنڈکٹ تیار ہونا چاہیے۔ یہ طے کیا جائے کہ ہم مخالفت میں کس حد تک جاسکتے ہیں اور ہمیں سیاسی ریڈ لائن کو کراس نہیں کرنا چاہئے۔کیا ہم ایسا کرسکیں گے؟ یہ ہی سوال اہم ہے او را س پر ملک کی سیاسی جماعتوں سمیت اہل دانش اور رائے عامہ تشکیل دینے والے اداروں کو ضرور غور کرنا چاہیے۔