تاریخ کا گڑا مُردہ

تاریخ کے قبرستان کے ایک مجاور محمود اچکزئی نے  جو1948 میں آزاد پاکستان پیدا ہوئے ، عبد الصمد اچکزئی کے بیٹے ہیں ،جو ایک ترقی پسند بزرگ دانشور تھے ۔، ان  کی یادیں میری  زندگی کے کئی برسوں پر محیط ہیں  کیونکہ وہ ایک بڑے آدمی تھے ،  لیکن ان کے بیٹے نے   لاہور کے پی ڈی ایم کے جلسے آج   ایک سیاسی  چول ماری ہے۔

 میرا خیال تھا کہ محمود باپ کی طرح بڑے دل ا والا درویش ہوگا  کیونکہ  محمود نے بشاورسے  انجینیرنگ میں بی ایس سی کی،  صوبائی اور قومی اسمبلیوں کے رُکن بھی رہے  ہیں۔   مسلم لیگ نون اور نیشنل عوامی پارٹیٰ کے  درمیان برسوں شٹل کاک سیاست کی   اور اب بختونخواہ ملی پارٹی کے  سکہ بند رہنما ہیں۔  آج لاہور میں پی ڈی ایم کے جلسے میں اُنہوں نے  اشارے کنائے میں جس طرح  پنجاب سے اپنی نفرت کا اظہار کیا، اُس پر مجھے حیرت بھی ہوئی اور صدمہ بھی  اور پھر اُن کے والدِ گرامی  عبد الصمد خان اچکزئی یاد آئے تو پس منظر سے اقبال بولا:

باپ کا علم نہ بیٹے کو اگر از بر  ہو

پھر پسر لائقِ میراثِ پدر کیونکر ہو

آج انہوں نے  پنجاب کو متحدہ ہندوستان کی اُس سیاست پر گالی دی  جو اب ایک قصہ پارینہ ہے ۔ فرمایا کہ انگریزوں کے  افغانستان پر حملہ کرنے میں  پنجاب بھی شریکِ جُرم تھا ۔ یعنی عجیب بات ہے کہ  وہ پاکستان میں رہ کر1857 کے غدر  پر انگریز بہادر کو مطعون کرنے کے بجائے، انگریزوں کے افغانستان پر حملے کا جزوی الزام  پنجاب کو دے رہے ہیں۔ سبحان اللہ، حیران ہوں کہ یہ شخص  پاکستانی ہے یا افغانستانی  یا آنجہانی ، جب کہ اسلام میں شعوب و قبائل کی بنیاد پر، یا علاقائی عصبیت کے حوالے سے منافرت پھیلانا  کفر ہے۔ خطبہ  حجتہ الوداع  میں واضح کردیا گیا تھا کہ کالے کو گورے پر اور عربی کو عجمی پر کسی طرح کی فوقیت نہیں۔  اسی بات کو اقبال نے نظریاتی طور پر بیا کیا کہ:

نہ افغانیم و نے ترک و تتاریم

چمن زادیم و از یک شاخساریم

تمیزِ رنگ و خوں بر ما حرام است

کہ ما پروردہ ء یک  نو بہاریم

اور وہ نو بہار اسلام ہے جس نے آقا و بندہ کی تمیز تک مٹادی تھی، مگر اب ایک افغانی مسلمان پنجابی مسلمانوں کو جو ایک آزاد ملک کے شہری ہیں، جن کا انگریز سے کوئی لینادینا نہیں افغانستان کا دشمن قرار دے رہا ہیں۔  پختون لیڈر کی  اس بات نے مجھے دکھی کیا ہے اور وہ  اس لیے کہ مجھے پنجاب سے محبت ہے۔ میں پنجاب کی مٹی سے ہوں۔ میں نے چناب کے کنارے آنکھ کھولی اور چناب کی لہروں سے اپنی نظموں کی بحریں اخذ کیں  اور  ایک بار امرتا پریتم کو انٹرویو دیتے ہوئے جو ناگ منی میں چھپا اور بعد میں امرتا پریتم  کی کتاب سات سوال میں شامل ہوا، میں نے پنجاب سے اپنے عشق کی داستان سناتے ہوئے کہا  کہ یہ زمین میری ماں ہے۔  اور  اس کی چھاتیوں میں چناب  کا امرت ہے  جسے  پی کر میں نے بولنا سیکھا ۔  کبھی مجھے لگتا ہے کہ میری عمر پانچ ہزار سال ہے اور میں کئی بار پنجاب کی مٹی میں اُگا ہوں۔  میرا  دل دریا چناب ہے  جس کا میں نے قصیدہ لکھا، جو  میری پہلی کتاب  دل مالا میں شامل ہے ۔عنوان ہے: چناب ندی کا قصیدہ۔

 اس دریا کا پرانا نام چندر بھاگا تھا۔ یعنی چاند کے نصیبوں والا۔ یہ دریا پنجاب کی ہتھیلی  کی بیچ کی انگلی ہے جو  دست شناسی میں مقدر کی انگلی ہے اور پنجاب کی  محبت کی ساری  کہانیاں اسی دریا سے وابستہ ہیں۔  ہیر رانجھا، سوہنی مہینوال، مرزا صاحباں، اور دُلا بھٹی سب اس دریا کے بیٹے  بیٹیاں ہیں اور وہ صوفی شاعر جنہوں نے محبت کی کہانیاں لکھیں کسی نہ کسی طرح اسی دریا سے وابستہ رہے۔ وارث شاہ کی ہیر رانجھا  اس دریا  کے امرت جل سے بھیگی  کہانی ہے۔ شاہ حسین لاہوری کے مرشد بہلول دریائی چنیوٹ کے تھے اور  شاہ حسین کی بعض کافیوں میں چنیوٹ کا لہجہ کھنکتا ہے۔  پنجاب کا  یہ خطہ ہمیشہ مہمان نواز رہا ہے۔ محبت اس خطے کی روحانی روایت ہے۔  رِگ ووید اس ی خطے میں  لکھی گئی۔ مسلمان صوفیوں نے یہاں اپنا  صوفی اسلام پھیلایا اور غزنی کے محمود نے  اپنے خطے کی غربت دور کرنے کے لیے اس خطے  پرسترہ حملے کیے اور تمام مسلمان حملہ آوروں کے ساتھ ہر نسل رنگ اور زبان کے مسلمان آئے اور آ کر پنجاب میں آباد ہوئے ۔

 غزنی کے محلہ ہجویر سے داتا گنج بخش لاہور میں آئے اور لاہور نے اپنے نام کو داتا کی نگری میں بدل دیا جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم ان سیاسی اصطلاحات میں نہیں سوچتے جس طرح محمود اچکزئی سوچتا ہے۔  اگر آج عبدلصمد اچکزئی حیات ہوتے تو میں اس بد تمیز لونڈے  مُودے  کی شکایت کرتا اور اپنے سامنے اُسے مُرغا بنواتا۔ کیا وہ یہ نہیں جانتا کہ  غوری، خلجی، بلبن، ابدالی، لودھی اور مغل  اس خطے میں  حملہ آور بن کر آئے اور صدیوں  راج کرتے رہے۔ کیا ان حملہ آوروں کے پاس   پنجاب پر حملے  کا  دینی  لائسنس تھا۔محمود کا  غلام ایاز آج بھی  لاہور کے چوک رنگ محل میں اپنی قبر میں لیٹا محمود کو یاد کر رہا ہے۔ کہ وہ مجھے یہاں کیوں چھوڑگیا  تھا۔

 اب مجھے محمود اچکزئی سے پوچھنا یہ ہے کہ جس پنجاب نے ان گنت  ا فغان حملہ آوروں کے حملوں کا جبر سہا، پھر ان کو اپنے  دامن میں  یوں  پناہ دی  کہ وہ  پنجاب میں رچ بس کر پنجابی پٹھان بن گئے۔ اور وہ افغانی نہ رہے  اُن پر انگریز نواز ہونے کا الزام لگانا  بے شرمی ہے۔  یہ الزام مجھ پر نہیں کچھ اور لوگوں پر ہے۔  یہ الزام منیر نیازی اور اشفاق احمد پر ہے۔ اشفاق احمد اور  منیر نیازی  دونوں اعلیٰ درجہ کے پٹھان تھے جو محمود اچکزئی جیسی اوچھی سوچ رکھنے والے کو کبھی قبول نہ کرتے کیونکہ اس بد تمیز لونڈے نے ان دونوں کی شان میں گستاخی کی ہے۔ اور  تو اور  اس وقت پاکستان کا وزیرِ اعظم ایک پٹھان ہے۔ تو کیا پنجاب کو یہ سوچنا چاہیے کہ ان سب پٹھانوں کو افغانستان بھجوا دیا جائے  کہ جہاں کا  خمیر ہے، خاک بھی وہیں پہنچا دی جائے۔ لا حول ولاقوۃ۔ 

نفرت کی نسوار بیچنے والوں کے لیے پاکستان میں کوئی جگہ نہیں۔ تاریخ کے گڑے مردے اکھاڑ کر  سیاسی بس گھولنا  نادانی ہے، جہالت ہے اور کم ظرفی ہے۔ اس عہد میں  مسلمانوں کا سیاسی بیانیہ گالیوں  سے لبریز ہے لیکن یہ ساری گالیاں بھونڈی، بے تُکی اور جہالت زاد ہیں۔ گالی تو ہمارے دوست  ڈاکٹر سلیم واحد سلیم تخلیق کیا کرتے تھے  ،جن کی ایجاد کی ہوئی گالیاں  لاہور کے گول باغ (ناصر باغ) میں چڑیوں کی طرح چہچہاتی تھیں،  جنہیں سُن کر  تتلیاں  تالیاں بجاتی تھیں۔

پیدا کہاں ہیں ایسے پراگندہ طبع لوگ

گالی بھی جن کی میر کے اشعار کی سی تھی

آج میرا دل بہت دکھی اور اداس ہے۔ کوئی اپنی ماں  پر لگی تہمت کو سن کر پُر سکون کیسے رہ سکتا ہے۔  مگر بُرا ہو اس عہد کا کہ اب  مذہب سے لے کر سیاست تک اور ادب سے لے کے صحافت تک ہر شعبے میں ایسے ویسے لوگوں  کی بھرمار ہے،  جو نہ صرف اپنے بلکہ اپنے سماج کے بھی  دشمن  ہیں اور نفرت پھیلانے کو اپنا مشن جانتے ہیں۔