دفتر خارجہ نے بھارتی وزیر کے دہشت گردی سے متعلق الزامات مسترد کردیے

  • سوموار 14 / دسمبر / 2020
  • 5140

پاکستان نے بھارتی وزارت خارجہ اور دیگر بھارتی رہنماؤں کی جانب سے دہشت گردی سے متعلق الزامات کو سختی سے مسترد کیا ہے۔

دفتر خارجہ کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ بھارت کے بے بنیاد الزامات اسے سچ نہیں بنا سکتے۔  نہ ہی اس سے عالمی سطح پر پاکستان مخالف پروپیگنڈے کی ماسٹر مائنڈنگ اور پاکستان کے خلاف ریاستی دہشت گردی کی حقیقت ختم ہو سکتی ہے۔ ترجمان نے کہا کہ پاکستان کا عالمی برادری کو پیش کردہ ڈوزیئرز اور ڈس انفو لیب کی رپورٹ خود سچائی بیان کررہی ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ آر آر ایس سے متاثرہ بی جے پی حکومت جھوٹی داستانیں بیان کرکے نہ تو اپنی داخلی ناکامیوں سے توجہ ہٹا سکتی ہے اور نہ ہی عالمی برادری سے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کے علاوہ اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں پر ظلم و ستم چھپا سکتی ہے۔ خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے لیے بھارت کو ریاستی پالیسی کے طور پر دہشت گردی کا استعمال اورپاکستان کے تشخص کو خراب کرنے کی عالمی مہم کو روکنا ہوگا۔

ترجمان دفتر خارجہ نے مطالبہ کیا کہ بھارت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے تحت کشمیری عوام کو حق خودارادیت کا حق دے۔ یاد رہے کہ 14 نومبر کو وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار نے مشترکہ پریس کانفرنس میں پاکستان میں بھارت کی جانب سے دہشتگردی اور دہشتگردوں کو مالی معاونت کے ثبوت پیش کیے اور اس حوالے سے ایک ڈوزیئر جاری کیا تھا۔

بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کے ایجنٹوں کی آڈیو اور ویڈیو بھی پریس کانفرنس میں دکھائی گئی تھیں۔ اوربھارتی تخریب کاری کے منصوبوں کے ناقابل تردید ثبوت پیش کیے گئے تھے۔ شاہ محمود قریشی نے کہا تھا کہ پاکستان کی جانب سے پیش کیے گئے ثبوت بھارت کی طرف سے متعدد دہشت گرد تنظیموں کی مدد کو ثابت کرتے ہیں۔

یاد رہے کہ چند روز قبل جعلی خبروں سے متعلق کام کرنے والے یورپی ادارے ’ای یو ڈس انفو لیب‘ نے غلط معلومات پھیلانے والے ایسے بھارتی نیٹ ورک کو بے نقاب کیا تھا جو 2005 سے پاکستان کو بدنام کرنے کے لیے کام کررہا تھا۔