وزیراعظم سے نہیں تو کس سے بات کریں گے: شیخ رشید

  • سوموار 14 / دسمبر / 2020
  • 4990

وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ اگر اپوزیشن وزیراعظم سے مذاکرات نہیں کرنا چاہتی تو پھر اس کا نام بتائیں جس سے بات کرنا چاہتے ہیں۔ ہم رابطہ کروا دیتے ہیں۔

اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ ہم ایک منتخب جمہوری حکومت ہیں۔ عمران خان کی قیادت میں اس ملک کو آگے لے کر جائیں گے۔ ہم مذاکرات کے دروازے نہیں بند کرنا چاہتے۔ آپ یہ کہتے ہیں کہ ہم عمران خان سے بات نہیں کرنا چاہتے، تو پھر آپ بتائیں کس سے بات کرنا چاہتے ہیں، اس سے کروا دیتے ہیں۔

ہم چاہتے ہیں کہ امن و خلوص سے معیشت مضوبط ہونے کا راستہ نکلے۔ اہل لاہور نے کل ذمے داری کا ثبوت دیا ہے۔ اگر مولانا فضل الرحمٰن کے دینی مدارس کے لوگ نہ آتے تو انہیں بہت ہی مایوسی ہوتی۔ شیخ رشید نے کہا کہ انہیں اسی لاہور میں سیاسی ہزیمت اٹھانا پڑی ہے جس کے وہ بڑے بلند و بانگ دعوے کرتے ہیں۔ کل وہاں ان کی سیاست کا جنازہ نکلا ہے۔ میں نے کہا تھا کہ بیچ منجدھار میں آپ کی کشتی ڈوبے گی اور کل یہ ڈوب گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ آپ نے دو رکنی ایجنڈا دیا ہے جس میں پہلا استعفیٰ ہے تو ہم آپ کو خوش آمدید کہتے ہیں۔ جتنا جلدی ہو استعفے دیں۔ دوسرا ایجنڈا آپ نے دیا ہے کہ اسلام آباد مارچ کرنا چاہتے ہیں جو آپ فروری تک لے گئے۔ آپ اسلام آباد آئیں کیونکہ یہ آپ کا بھی ہے لیکن ہم وہ کریں گے جو آئین اور قانون ہمیں اجازت دیتا ہے۔

وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ میرا آج بطور وزیر داخلہ پہلا دن ہے اور میری وزیر اعظم سے تفصیلی ملاقات بھی ہوئی ہے۔ یہ میری 15ویں وزارت ہے لیکن میں نے وزارت داخلہ پہلے کبھی نہیں دیکھی۔

انہوں نے کہا کہ کل جلسے میں نواز شریف نے کوئی نئی بات نہیں کی۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ میں نے نواز شریف سے گزارش کردی ہے کہ یہ ملک ہے تو ہم ہیں۔ یہ ملک ہے تو سیاست ہے۔ یہ ملک ہے تو یہ سب ریل پیل ہے۔  یہ اربوں روپے جلسوں پر لگا رہے ہیں۔ عمران خان اپنی حکومت چھوڑ دے گا لیکن ان کو این آر نہیں دے گا۔

شیخ رشید نے بتایا کہ وزیر اعظم نے مجھے ہدایت کی ہے کہ میں یہ بات پریس کانفرنس میں کہوں کہ سورج مشرق کی بجائے مغرب میں نکل سکتا ہے، میں اقتدار میں رہوں یا نہ رہوں لیکن میں این آر او نہیں دوں گا۔ پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ میڈیا سے بھی خوش نہیں ہے اور انہوں نے کل سارے میڈیا کے خلاف باتیں کی ہیں۔ حالانکہ ہوتا یہ ہے کہ حکمران میڈیا سے خوش نہیں ہوتے لیکن کل پہلی دفعہ دیکھا ہے کہ اپوزیشن بھی میڈیا سے خوش نہیں تھی۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ مذاکرات جیسے بڑے فیصلے کرنے کا اختیار میرے پاس نہیں ہے۔ میں ان سیاستدانوں میں سے نہیں ہوں جو پچ سے باہر نکل کر شاٹ کھیلتے ہیں۔ مجھے دو چیزوں کا کہا گیا ہے کہ استعفیٰ دینا ہے تو دے دیں۔ لانگ مارچ کرنا ہے تو کر لیں۔

انہوں نے کہا ایسے وقت میں جب ملک میں انتشار پیدا کیا جا رہا ہے جب دہشت گردی کے واقعات ہو رہے ہیں، لوگوں کی جانوں کو خطرہ ہے۔ کل تھانہ گنج منڈی میں دھماکا ہوا ہے، چار دن پہلے تھانہ پیر ودہادائی میں دھماکا ہوا۔ وزیر اعظم این آر او اور نیب کے سوا ہر قسم کی بات چیت کے لیے تیار ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف کو میں نے کہہ دیا ہے کہ ’بس بہت ہو گیا‘۔ اس دفعہ ان کی زبان اتنی سخت نہیں تھی لیکن وہ اپنی زبان اور نرم کریں۔