حکومت اکتیس جنوری تک مستعفی ہوجائے: فضل الرحمٰن
- سوموار 14 / دسمبر / 2020
- 4420
پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ حکومت مستعفی نہ ہوئی تو یکم فروری کو لانگ مارچ کی تاریخ کا اعلان کردیا جائے گا۔
لاہور میں پی ڈی ایم کے رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ ’31 دسمبر تک ارکان قومی و صوبائی اسمبلی استعفے اپنی جماعت کے قائدین کو دے دیں گے۔ حکومت 31 جنوری تک مستعفی ہوجائے۔ اگر حکومت مستعفی نہ ہوئی تو یکم فروری کو لانگ مارچ کی تاریخ کا اعلان کردیا جائے گا‘۔
انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں کے کارکنان اور عوام سے اپیل کی جارہی ہے کہ وہ آج ہی سے لانگ مارچ کی تیاریاں شروع کردیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز مینار پاکستان پر فقید المثال اجتماع منعقد ہوا جس میں پی ڈی ایم کے اثاثی مقاصد کا اعلان کیا گیا اور آج اسی کے تسلسل میں آج پی ڈیم کے رہنماؤں اعلامیے پر بھی دستخط کئے ہیں۔
پی ڈی ایم کے اسٹیرنگ کمیٹی نے صوبوں کو لانگ مارچ کی تیاری کے سلسلے میں جو شیڈول دیا ہے وہ برقرار رہے گا۔ مرکزی عہدیداران اور اسٹیرنگ کمیٹی کے اراکین اپنے اپنے صوبے میں میزبان ہوں گے اور تمام سیاسی جماعتوں کے سربراہان اور ذمہ داران کے اجلاس منعقد کریں گے تاکہ صوبائی سطح پر میں لانگ مارچ کی تیاری کی نگرانی ہوسکے۔
اجلاس میں اس بات پر سخت ناراضی کا اظہار کیا گیا اور اس کی شدید مذمت کی گئی کہ آئی ایس پی آر نے الیکٹرانک میڈیا پر جلسے کے خلاف منفی پروپیگنڈے کے لیے دباؤ ڈالا۔ مختلف اینکرز پر دباؤ ڈالا گیا۔ قائیدین نے اس کی مذمت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم میڈیا کی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں لیکن حکمران اور آمرانہ ذہنیت کے لوگ میڈیا کو جانبدار اور گھر کی لونڈی بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہمیں اس سازش کو ناکام بنانا ہے۔
سینٹرل ایگزیکٹو اور سینٹرل ورکنگ کمیٹی کے اجلاس میں پارٹی رہنماؤں مٰن اختلاف کے حوالے سے سوال پر مریم نواز نے کہا کہ ’افسوس کی بات ہے کہ جس بات کا وجود ہی نہیں وہ بات چند چینلز نے چلائی۔ میں ان چینلز کو وقت دے رہی ہوں کہ پروپیگنڈا سے باز آجائیں۔ میں نے اراکین اسمبلی سے گلہ کیا تھا کہ جلسہ گاہ چھوٹی رکھی گئی، لوگوں کو جلسہ گاہ سے باہر سڑک پر کھڑا ہو کر خطاب سننا پڑا‘۔
انہوں نے کہا کہ میں نے اپنی پوری زندگی ایسا کوئی جلسہ نہیں دیکھا جہاں شدید سردی کے باوجود لوگ گھنٹوں کھڑے رہے اور جلسہ سنتے رہے۔ اتنی سردی اور حکومتی فاشسٹ ہتکھنڈوں کے باوجود لاہور کے عوام نے کسی چیز کی پرواہ نہیں کی۔ جس کو حقیقت معلوم ہے اسے پتہ ہے کہ جلسہ گاہ کتنی بھری ہوئی تھی، مجھے پورا یقین ہے کہ حکومت کو بھی جو خبریں ملی ہوں گی، ان پر آج وہاں صف ماتم بچھی ہوئی ہے۔
مریم نواز نے کہا کہ سلیکٹڈ حکومت نے مخالفین کو دشمنوں کی طرح ٹریٹ کرنے کا نیا طریقہ اپنایا ہے۔ ساری جماعتیں پاکستان کے ایجنڈے پر متفق ہیں، ہم ایک دوسرے کے انتخابی حریف ضرور ہیں لیکن دشمن نہیں ہیں۔ اس موقع پر مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ سیاسی جماعتیں اپنا اپنا منشور اور حیثیت رکھتی ہیں اور اسی بنیاد پر انتخاب لڑتی ہیں۔