سینیٹ کے انتخابات شو آف ہینڈز کے ذریعے کروانا چاہتے ہیں: شبلی فراز
- منگل 15 / دسمبر / 2020
- 5540
وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات شبلی فراز نے کہا ہے کہ حکومت سینیٹ کے انتخابات کو شفاف بنانے کے لیے شو آف ہینڈز کے ذریعے سینیٹرز کا انتخاب کروانا چاہتی ہے۔ اس ،قصد کے لیے سپریم کورٹ سے رہنمائی لی جائے گی۔
اسلام آباد میں کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئےوفاقی وزیر اطلاعات و نشریات شبلی فراز نے کہا کہ سینیٹ کے انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ کو ختم کرنے کے لئے حکومت یہ اقدام کرنا چاہتی ہے۔ انتخابات کی شفافیت کے لیے سپریم کورٹ نے مختصر حکم جاری کیا تھا۔ ہم نے طے کیا کہ آئین کے آرٹیکل 186 کے تحت سپریم کورٹ سے رہنمائی لیں گے تاکہ شو آف ہینڈز کے ذریعے انتخابات ہوں۔
شبلی فراز نے کہا کہ اس سے پہلے کسی حکومت نے اس طرف توجہ نہیں دی حالانکہ حکومت کے پاس وسائل ہوتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ سینیٹ کے انتخابات شفاف اور مصدقہ ہوں تاکہ اس میں وہی لوگ آئیں جو مختلف پارٹیوں سے تعلق رکھتے ہوں۔ ہمیں امید ہے کہ سینیٹ کے انتخابات سے کافی پہلے سپریم کورٹ سے رہنمائی مل جائے گی۔ اگر اسمبلی کا اجلاس ہوا تو وہاں سے بل منظور کروانے کی کوشش کریں گے کیونکہ یہ سب جماعتوں کے مفاد میں ہے۔
کابینہ اجلاس کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ این ایف سی ایوارڈ کے تناظر میں بات ہوئی جس میں وزارت خزانہ کی طرف سے بریفنگ دی گئی۔ اور بتایا گیا کہ صوبوں کو آبادی کے تناسب سے دیے جانے والے وسائل کے طریقہ کار میں کوئی بنیادی سقم ہے۔ جس کی وجہ سے صوبائی حکومتیں اپنے وسائل میں اضافہ نہیں کرتیں۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ پنجاب کو این ایف سی ایوارڈ 2021 میں ایک اعشاریہ 441 کھرب روپے ملتے ہیں، جس میں ان کا اپنا سرمایہ 306 ارب روپے ہے۔ سندھ کو 764 ارب روپے ملتے ہیں اور ان کا اپنا سرمایہ 314 کے قریب ہے۔ خیبر پختونخوا کو 602 ارب ملتے ہیں اور اپنا سرمایہ 50 ارب روپے ہے۔ اسی طرح بلوچستان کو 282 ارب روپے ملتے ہیں اور 51 ارب صوبائی سرمایہ ہوتا ہے۔
صوبوں کو وسائل فراہم کرنے کا کوئی میکنزم نہیں ہے کہ انہیں کیسے صرف کیا جائے گا۔ ہم چاہتے ہیں کہ اس کا ایک طریقہ کار ہونا چاہیے۔ اٹھارویں ترمیم کے بعد ایسے مسائل سامنے آئے ہیں جن کو حل کرنا بہت ضروری ہے۔ صوبائی حکومت کے وسائل کا طریقہ کار طے ہو اور کوئی احتساب بھی ہو۔
شبلی فراز نے کہا کہ میں یہ نہیں کہہ رہا کہ اٹھارویں ترمیم کو ختم کریں لیکن جو سقم رہ گئے ہیں ان کا جائزہ لینا چاہیے۔ صوبائی خود مختاری سے متعلق جو چیزیں ہیں ان میں دیکھنا چاہیے کہ کن چیزوں پر ہمیں کام کرنا اور کن چیزوں کو بہتر کرنا ہے کیونکہ ملک میں کوئی وبا آتی ہے تو وفاق کو فنڈز دینے پڑتے ہیں۔ اس کی وجہ سے وفاقی حکومت کے پاس زیادہ فنڈ نہیں بچتا اور پھر تنخواہیں اور اخراجات کے لیے ہمیں قرضہ دینا پڑتا ہے۔