وزیراعظم استعفیٰ نہیں دیں گے: وزیر خارجہ کا اپوزیشن کو جواب
- منگل 15 / دسمبر / 2020
- 4570
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ کی خواہش پر وزیر اعظم استعفیٰ نہیں دیں گے اور نہ ہی اسمبلیاں تحلیل نہیں کی جائیں گی۔ انہوں نے پی ڈی ایم کے مطالبے کو مسترد کیا ہے۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ تحریک انصاف کی نظر اپوزیشن بے معنی سی سرگرمی میں مصروف ہے۔ پی ڈی ایم کی صفوں میں استعفوں پر اتفاق نہیں ہے۔ یہ واضح نہیں ہے کہ استعفے دینے ہیں یا نہیں دینے ہیں یا کب دینے ہیں۔ پیپیلز پارٹی خاص طور سے بے یقینی کا شکار ہے۔
مسلم لیگ (ن) مین بھی استعفوں کے ایشو پر تقسیم موجود ہے۔ اس میں واضح دو دھڑے دکھائی دے رہے ہیں۔ ایک سوچ شہباز شریف کی ہے اور دوسری مریم نواز کی ہے۔ دونوں سوچوں میں ایک خلا ہے۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ میں ان سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اگر آپ کا استعفوں پر اتفاق ہے اور واقعتاً سنجیدہ ہیں تو 31 تاریخ تک آپ کے استعفے اسپیکر تک پہنچنے چاہئیں۔ قیادتوں کے پاس استعفیٰ پہنچانا تو دکھاوا ہے۔
شاہ محمود قریشی نے دعویٰ کیا کہ لانگ مارچ پر بھی ابھی تک پی ڈی ایم میں اتفاق نہیں ہے۔ لاہور میں ریلی کے بعد جاتی امرا میں جو ان کی نشست ہوئی اس میں کہا گیا کہ پہلی فروری کو پی ڈی ایم کا اجلاس بلایا جائے گا اور اس میں تبادلہ خیال کے بعد فیصلہ کیا جائے گا اور تاریخ دی جائے گی یعنی ابہام ہے۔ اس سے یہ وضاحت ہو گئی کہ نہ تو استعفوں پر اتفاق ہے نہ لانگ مارچ پر یکسوئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ 13 تاریخ کو کارکنوں کو دعوت دی گئی اور کارکن آ گئے کیونکہ کارکن کی قیادت سے وابستگی ہوتی ہے لیکن پی ڈی ایم عوام کو نکالنے میں ناکام رہی۔ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کی قیادت نے عوام کی طرف سے مسترد کئے جانے کے بعد اس پرغور فکر کرنے کی بجائے یہ بحث کی گئی کہ میڈیا کے فلاں چینل نے انصاف نہیں کیا۔ فلاں اینکر یہ بات کررہا تھا۔ یہ اپنی ناکامیوں کو میڈیا پر ڈال رہے ہیں۔
انہوں ئے کہا کہ لاہور ڈکلیئریشن میں الٹی میٹم دیا گیا کہ 31 جنوری تک وزیراعظم مستعفی ہو جائیں۔ لیکن کیوں مستعفی ہو جائیں۔ ان کے پاس عوام کا مینڈیٹ ہے۔ ان کی جماعت کو ایک کروڑ 70 لاکھ ووٹ پڑا ہے۔ آپ کے کہنے پر وہ کیوں مستعفی ہو جائیں؟
شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ان کے مقاصد کچھ اور ہیں، اگر آپ کو آج پی ٹی آئی کا مینڈیٹ منظور نہیں ہے اور آپ ایوان کے اندر تبدیلی نہیں بلکہ شفاف انتخابات چاہتے ہیں تو آپ کا یہ مطالبہ ہی غیرجمہوری، غیرآئینی اور غیراخلاقی ہے۔ ان کا کہنا تھا اگر نئے انتخابات ہو جاتے ہیں اور اپوزیشن کو مینڈیٹ مل جاتا ہے پھر پی ٹی آئی اسے کیوں تسلیم کرے گی؟ اگر آپ نے پی ٹی آئی کا مینڈیٹ تسلیم نہیں کیا تو پی ٹی آئی آپ کا مینڈیٹ کیوں تسلیم کرے گی
انہوں نے کہا کہ اگر آپ نے ملک کو مستقل طور پر عدم استحکام کی نذر کرنا ہے تو سوچنے کی بات ہے کہ کیا ہماری علاقائی صورتحال اس بات کی اجازت دیتی ہے، ہر پارٹی میں سنجیدہ عناصر ہیں اور انہیں اس بات پر توجہ دینی چاہیے۔ اگر آپ یہ بے یقینی کی کیفیت برقرار رکھتے ہیں تو اس کا لوگوں پر کیا اثر ہو گا۔ آپ کہتے ہیں کہ لوگ مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں تو اگر معیشت آگے بڑھ رہی ہے، معاشی اشاریے اوپر جا رہے ہیں تو آپ اس میں رخنہ اندازی کیوں کررہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آپ کے مقاصد کچھ اور ہیں اور قوم بھانپ چکی ہے، تب ہی انہوں نے 13 تاریخ کو عدم دلچسپی کا مظاہرہ کیا ہے۔ آپ مشروط گفتگو کرنا چاہتے ہیں جو ہمیں قابل قبول نہیں ہے۔ دھمکیوں سے تو بات نہیں چلے گی۔ بلاول نے کہا کہ گفتگو کا وقت گزر چکا ہے لیکن یہ ناتجربہ کاری ہے۔ کیونکہ سیاست میں گفت و شنید ہوتی ہے، سیاست میں دروازے بند نہیں ہوتے۔ اگر آپ نے سیکھنا ہے تو اپنے نانا سے سیکھ لیں۔
شاہ محمود قریشی نے مریم نواز اور بلاول بھٹو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ ہمارے دونوں مستقبل کے وزارت عظمیٰ کے منتظر افراد ایک دوسرے کو بھی برداشت نہیں کر پائیں گے۔ وہ وقت دور نہیں ہے کیونکہ یہ ایک عارضی اور غیرفطری اتحاد ہے جس کے منفی مقاصد ہیں۔
انہوں نے پی ڈی ایم کی قیادت کو خبردار کیا کہ اس رویے سے آپ جمہوریت کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ میں برملا کہتا ہوں اور تحریک انصاف کا مؤقف پی ڈی ایم کی اعلیٰ قیادت تک وقت ضائع کیے بغیر فی الفور پہنچانا چاہتا ہوں کہ ہم آپ کے الٹی میٹم کو مسترد کرتے ہیں۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم اس ڈیڈ لائن کو مسترد کرتے ہیں لیکن ہم ہٹ دھرم نہیں ہیں۔ اپنے ذاتی مفادات اور ایجنڈے کو ایک طرف رکھتے ہوئے سیاسی مفادات اور ایجنڈے کو ایک طرف رکھ کر قومی مفاد میں کوئی چیز ہے تو سامنے لائیں۔ اگر آپ شفاف انتخابات اور انتخابی اصلاحات چاہتے ہیں تو آئیں، بیٹھ کر بات کرتے ہیں۔