بنگلہ دیشی قوم کو یومِ آزادی مبارک

آج ہمارے برادر مسلم ملک بنگلہ دیش کا یوم آزادی ہے ۔ کسی بھی قوم کے لیے اُس کا یومِ آزادی ایک خوشی و مسرت کا تہوار ہوتا ہے جیسے کہ ہم پاکستانی 14اگست کو اپنا یومِ آزادی جوش و جذبے کے ساتھ مناتے ہیں۔

انسانیت کے لیے آزادی ایک نعمت ایزدی ہے اور غلامی ایک لعنت ہے چاہے اپنوں کی ہو یا بیگانوں کی ۔ ایک بلند حوصلہ قوم جس طرح اپنی آزادی کو قدرکی نگاہ سے دیکھتی ہے اُسی طرح اُسے دیگر ہم عصر اقوام کی آزادیوں کو بھی اُسی احترام ، وقار اور محبت سے دیکھنا چاہیے ۔ مثال کے طور پر اگر کوئی فرد، گروہ ، پارٹی ، یا قوم 14اگست کو ہماری خوشیوں میں شامل ہونے کی بجائے جلی کٹی سنانا شروع کردے، پرانے زخموں کو کریدے یا 14اگست کو ’ یومِ سوگ ‘ کی حیثیت سے یاد کرے ، اگرچہ اُس کے پاس اپنے نقطہ نظر کی حمایت میں کتنا ہی مواد کیوں نہ ہو، ہم پاکستانیوں کوبہر حال اس سے دکھ پہنچے گا۔ ہم ایسے لوگوں کو اپنا ہمدرد ہرگز نہیں سمجھیں گے ۔ ہمارے درمیان بہت سے لوگ ہوں گے جن کے لیے یونا ئیٹڈ انڈیا کے تصور میں ایک رومانوی و طلسماتی کشش ہوگی جنوبی ایشیا میں لاکھوں کروڑوں انسان ہوں گے جو صدیوں کی اور نسلوں کی یکجائی کو دو ٹکڑے ہوتا نہیں دیکھنا چاہتے ہوں گے۔ جو جنوبی ایشیا کے اس تاریخی و تہذیبی گہوارے کا بٹوارہ ہونے پر آج بھی دکھی ہوں گے ۔

دہلی میں مجھے قدم قدم پر ایسے لوگ ملے جو لاہور کو دیکھنے کے لیے بے تاب تھے جن کی نئی نسلیں اپنے بزرگوں کی لاہور، پشاور، پنڈی اور کراچی سے وابستہ یا دوں کو دہراتی ہیں تو ہمارے یہاں بھی ایسے دردمندوں کی کمی نہیں ہے، جو خواجہ غریب نوازؒ اور حضرت نظام الدین اولیاء ؒ کے آستانوں پر حاضری کے لیے دیدہ ودل فرشِ راہ کیے ہوئے ہیں۔ لکھنو اور دہلی کے علمی وادبی گہواروں کے لیے جن کی آنکھیں پرُنم ہیں ۔ جن کے آبا علی گڑھ کے پڑھے ہوئے تھے وہ آج بھی تربتِ سیدؒ پر جانے کے لیے بے تاب ہیں ۔ کتنے ہیں جو آج بھی اپنے نام کے ساتھ علیگ لکھتے ہیں ۔ رائے بریلی اور دیوبند جیسے بڑے شہر انڈیا کے ہیں لیکن ہمارے پاکستانی مسلمانوں کے دو بڑے فرقوں نے تو مستقل طور پر خود کو بریلی اور دیوبند سے وابستہ کر رکھا ہے۔ دیوبندی یا بریلوی کہلوانے کو وہ اپنے لیے کسی اعزاز سے کم نہیں سمجھتے ۔ کو نساصاحب دل پاکستانی ہے جو آگرہ کی یا ترا نہیں کر نا چاہتا اور وہاں تاج محل کے محبت بھرے مسحور ماحول کا نظارہ کرنا نہیں چاہتا؟ ہماری جواں نسل میں ممبئی کے ستاروں کے لیے جو کشش ہے اُس کی مثال کیا کسی اور ملک کے لیے دی جاسکتی ہے ؟

اس سب کے باوجود ہمیں اپنی آزادی پر کتنا ناز ہے جو کوئی آزادی کے حوالے سے جلی کٹی سنانے کی کوشش کرے ہم اُ س کے لتے لے لیتے ہیں۔ حالانکہ شبِ آزادی اس خطے میں جتنی انسانی بربادی ہوئی اُس کا تصور ہی خون کے آنسور لا دینے والا ہے ۔ انسانی حرمت مذہبی جنونیوں اور لوٹ مار کرنے والے خونیوں کے جوتوں تلے روندی گئی مگر ہمیں اپنی آزادی پر فخر ہے ہمارے دو قومی نظریہ کے پہلوان ایسی زبانوں کو کاٹ دینا چاہتے ہیں جو ان کی آزادی کے متوازی اپنے لیے محض آزادی اظہار کا حق مانگیں۔ تو پھر سوال یہ ہے کہ ہمیں بنگلہ دیشی قوم کی آزادی اتنے برس گزرنے کے باوجود کیوں ایک آنکھ نہیں بھاتی ؟ 16دسمبر آتی ہے تو

ہماری تحریک آزادی کے مزاروں کی مجاوری کرنے والے پورے میڈیا میں ایک نوع کی صفِ ماتم بچھا دیتے ہیں ۔ کسی کو یہ توفیق نہیں ہوتی کہ باشعور بنگالی قوم کی خوشیوں میں شریک ہوتے ہوئے اُن سے اظہار یکجہتی کرے۔ چار دہائیاں قبل اُن کے جسدِ قومی پر جو گہری چوٹیں لگائی گئی تھیں، جو گھناؤنے وار کیے گئے تھے، اُن پر اظہار شرمندگی کرتے ہوئے اُن کے زخموں پر دوستی و محبت کا مرہم لگائے ۔ کیا یہ ممکن ہے کہ ہم اُن کے بابائے قوم شیخ مجیب الرحمن ؒ کا بھی ویسا ہی احترام کریں جیسا احترام ہم اپنے بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناح ؒ کے لیے دوسروں سے چاہتے ہیں ۔ ہم اپنے بچوں کو تاریخ کے نام پر جو جھوٹ پڑھاتے ہیں، اس سے بازآجائیں۔ ہم انہیں بتائیں کہ یونا ئیٹڈ پاکستان میں بنگالیوں کے ساتھ پیہم زیادتیاں ہوئیں۔ اس سے بڑی زیادتی کیا ہوسکتی ہے کہ حسین شہید سہروردی ؒ جیسے عظیم رہنما کی تشکیل کردہ عوامی لیگ شیخ مجیب الرحمنؒ جیسے عوامی و جمہوری قائد کی قیادت میں قطعی میجارٹی حاصل کرتی ہے، تو اُ سے اقتدار منتقل کرنے سے صاف انکار کردیا جاتاہے۔ نہ فوجی جنتا کے چیف کو شرم آتی ہے اور نہ مغربی پاکستان کی عوامی جنتا کے رہنما کی حب الوطنی جاگتی ہے۔

ہم پوچھتے ہیں ڈھاکہ میں نومنتخب اسمبلی کا اجلاس ملتوی کرنے والی ’ ہستی کون تھی ‘۔ عظیم بنگالی قوم کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے والے کون لوگ تھے؟ اس زمانے میں ہمارے محبِ وطن میڈیا کا مکروہ رول کیا تھا؟ جب اہل بنگال کے بچے مارے جارہے تھے، ان کے جسموں کو چیتھڑے بنا کر اڑایا جارہا تھا، ذرا اُس دور کا اخبار ی ریکارڈ تو نکال کر دیکھیں کہ وہ کو ن ’پارسا‘ تھے جو فرمارہے تھے کہ پاکستان کو بچایا جارہا ہے ۔ تِلکَ الایام قدخلت۔۔۔۔۔۔ ہم عرض کرتے ہیں کہ 1975 میں14اور 15اگست کی درمیانی شبِ تاریک جب فوجی آمریت نے منتخب جمہوری قیادت پر گھناؤنا وار کیا قصائی خوند کرمشتاق نے شیخ صاحب کے معصوم بچوں کو بھی ذبح کر ڈالا۔ ہم پوچھتے ہیں تب جمہوریت کے لیے ٹسوے بہانے والے ہمارے لیڈر ان کا ردِ عمل کیا تھا ؟

آج کے تاریخی دن ہم بنگلہ بدھو کی درد مند بیٹی عظیم جمہوری قائد محترمہ شیخ حسینہ کو سلام پیش کرتے ہیں۔ خداوند انہیں اپنی قوم کی خدمت کے زیادہ سے زیادہ مواقع فراہم کرے۔ شیخ صاحب کی یادگار کو تا دیر سلامت رکھے جو ایک نئے عزم کے ساتھ آج اپنی قوم کی قیادت کر رہی ہیں۔ سلام ہے اس باشعور بنگالی قوم کو جنہوں نے محترمہ شیخ حسینہ کو دوتہائی اکثریت سے نوازتے ہوئے اپنے اُور اُن کے بابا کی تاریخی جیت اورعوامی مینڈیٹ پر مہر تصد یق ثبت کر دی ہے۔ آج وزیراعظم بنگلہ دیش جہاں اپنے ملک کی غربت اور پسماندگی سے لڑ رہی ہیں، وہیں بدعنوان عسکری ، سیاسی اور مذہبی قیادت کی پھیلائی ہوئی گندگی کو صاف کرنے کے لیے بھی کوشاں ہیں۔ پاکستانی سپریم عدلیہ کی طرح بنگلہ دیشی سپریم عدلیہ بھی حق و صداقت کی سر بلندی کے لیے عوامی امنگوں کا احساس و ادراک کررہی ہے جس کا بین ثبو ت بنگالی بابائے قوم شیخ مجیب الرحمن کے قاتلوں خونی درندوں کے متعلق اس کا تا ریخی فیصلہ ہے۔

ہم محترمہ شیخ حسینہ سے یہ توقع رکھتے ہیں کہ وہ بنگلہ قوم کے دکھوں پر مرہم لگاتے ہوئے نہ صرف یہ کہ اپنے وطن کی سیکولر بنیادوں کو مستحکم کریں گی بلکہ ترقی و خوشحالی کے نئے دور کا آغاز بھی کریں گی۔