محمدعامر نے احتجاجاً ریٹائر ہونے کا اعلان کردیا، کرکٹ بورڈ کی تصدیق
- جمعرات 17 / دسمبر / 2020
- 9340
فاسٹ باؤلر محمد عامر نے احتجاجاً انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ موجودہ مینجمنٹ کے ساتھ کرکٹ نہیں کھیل سکتے۔
بورڈ اور مینجمنٹ کے رویے سے دلبرداشتہ محمد عامر نے احتجاجاً ریٹائرمنٹ کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کی موجودہ مینجمنٹ کے ساتھ کرکٹ نہیں کھیل سکتا۔ نمائندہ ڈان نیوز سے خصوصی گفتگو میں عامر نے ریٹائرمنٹ کی تصدیق کی اور کہا کہ موجودہ ٹیم مینجمنٹ مجھے ذہنی اذیت کا نشانہ بنا رہی ہے۔ میں موجود صورتحال میں ذہنی دباؤ برداشت نہیں کر سکتا۔
ان کا کہنا تھا کہ جب تک مصباح الحق اور وقار یونس ٹیم مینجمنٹ کے ساتھ ہیں، اس وقت تک میں نہیں کھیلوں گا۔ پرفارمنس کے باوجود مجھ پر طنز کیا جاتا ہے اور موجودہ کوچز دبے لفظوں میں کہتے ہیں عامر نے دھوکا دیا۔ عامر نے الزام لگایا کہ انہیں منصوبہ کے تحت سائیڈ لائن کیا گیا اور ان کے بارے میں تاثر قائم کیا گیا کہ وہ ملک کے لیے نہیں کھیلنا چاہتے۔
فاسٹ باؤلر نے پاکستان کرکٹ بورڈ سے درخواست کی کہ انہیں مستقبل کی سیریز میں سلیکشن کے لیے زیر غور نہ لایا جائے۔ عامر جلد اس معاملے پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے میڈیا کو صورتحال سے آگاہ کریں گے۔
دوسری جانب پاکستان کرکٹ بورڈ نے محمد عامر کی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کی تصدیق کی ہے۔ پی سی بی کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق چیف ایگزیکٹو وسیم خان نے ریٹائرمنٹ کے اعلان کے بعد محمد عامر سے فون پر گفتگو کی۔ وسیم خان نے کہا کہ یہ عامر کا ذاتی فیصلہ ہے جس کا پاکستان کرکٹ بورڈ احترام کرتا ہے اور بورڈ اس معاملے پر مزید کوئی تبصرہ نہیں کرے گا۔
واضح رہے کہ گزشتہ سال محمد عامر نے ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کردیا تھا جس پر انہیں شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ وہاب ریاض نے بھی ٹیسٹ کرکٹ چھوڑ دی تھی۔ جس کے بعد سے دونوں کرکٹرز شدید تنقید کی زد میں تھے۔
قومی ٹیم کے ہیڈ کوچ مصباح الحق نے عامر اور وہاب دونوں کی ریٹائرمنٹ پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ عامر اور وہاب کی ریٹائرمنٹ سے مشکل دوروں میں پاکستان کو تجربہ کار باؤلرز کی کمی محسوس ہوگی۔ گزشتہ دنوں دورہ نیوزی لینڈ کے لیے قومی ٹیم کے اسکواڈ کا اعلان کیا گیا تو وہاب ریاض تو اس ٹیم میں شامل تھے لیکن محمد عامر جگہ بنانے میں ناکام رہے تھے۔
اس معاملے پر جب محمد عامر سے پوچھا گیا تھا تو انہوں نے جواب دیا تھا کہ 'مصباح صاحب ہی بہتر بتا سکتے ہیں'۔ گزشتہ دنوں یہ معاملہ اس وقت شدت اختیار کر گیا تھا جب قومی ٹیم کے باؤلنگ کوچ وقار یونس نے ایک بیان میں محمد عامر کی ریٹائرمنٹ کے حوالے سے سوال کے جواب میں کہا تھا کہ اس کی وجہ ورک لوڈ نہیں تھی۔
وقار یونس نے کہا تھا کہ میں نہیں سمجتا کہ عامر نے ورک لوڈ کی وجہ سے ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ لی۔ میں نے انہیں حال ہی میں فرنچائز کرکٹ میں حصہ لیتے ہوئے دیکھا اور وہ محدود اوورز کی کرکٹ میں پاکستان کی نمائندگی کر رہے ہیں لہٰذا ریڈ بال کرکٹ نہ کھیلنا ان کا اپنا فیصلہ ہے۔
2010 کے اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل میں سزا یافتہ محمد عامر نے 36 ٹیسٹ، 61 ون ڈے اور 50 ٹی 20 میچوں میں پاکستان کی نمائندگی کی ہے۔ محمد عامر کے ٹیسٹ کیریئر کا آغاز 2009 میں اسی انگلش سرزمین پر ٹی20 میچ سے ہوا تھا جس میں 2010 میں انہیں اسپاٹ فکسنگ کے جرم میں سزا سنائی گئی تھی۔
محمد عامر نے جولائی 2009 میں سری لنکا کے خلاف میچ سے اپنے ٹیسٹ کیرئیر کا آغاز کیا تھا۔ انہوں نے 36 ٹیسٹ میچز میں 30.47 اوسط سے 119 وکٹیں حاصل کیں۔ کیریئر کی ابتدا میں ہی رفتار، سوئنگ اور سیم کے ساتھ عمدہ باؤلنگ کرنے پر محمد عامر کا مستقبل تابناک نظر آتا تھا۔ لیکن پھر 2010 میں لارڈز ٹیسٹ نے نہ صرف اس نوجوان کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگا دیا بلکہ پاکستان کو بھی ایک بہترین باؤلر سے محروم کردیا۔