علی وزیر گرفتاری کے بعد سندھ پولیس کے حوالے، بلاول کی مذمت

  • جمعرات 17 / دسمبر / 2020
  • 8250

پشاور میں گرفتار رکن قومی اسمبلی علی وزیر کو راہداری ریمانڈ منظور ہونے پر سندھ پولیس کے حوالے کردیا گیا ہے۔

وزیرستان سے تعلق رکھنے والے رکن قومی اسمبلی کو گزشتہ روز پشاور کے تھانہ شرقی نے گرفتار کیا تھا۔ علی وزیر کے خلاف ملک مخالف تقریر پر کراچی میں مقدمہ درج ہوا تھا اور سندھ پولیس نے محکمہ داخلہ خیبر پختونخوا کو ان کی گرفتاری کی درخواست کی تھی۔

آج انہیں جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا گیا تھا۔ عدالت نے علی وزیر کو سندھ پولیس کے حوالے کرنے کا حکم دیا۔ عدالتی حکم نامے کے مطابق کراچی پولیس نے ملزم کا 3 روزہ راہداری ریمانڈ دیا گیا ہے۔ کراچی میں علی وزیر کو علاقہ مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا جائے گا۔

علی وزیر کو گزشتہ روز اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب وہ شہدا آرمی پبلک اسکول کی چھٹی برسی کے موقع پر تقریب میں شرکت کے بعد آرکائیوز ہال سے نکل رہے تھے۔ علی وزیر اور پی ٹی ایم کے متعدد دیگر رہنماؤں کے خلاف 7 دسمبر کو کراچی کے تھانے سہراب گوٹھ میں تعزیرات پاکستان کی متعدد دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا جس میں ان پر اشتعال انگیز اور نفرت انگیز تقاریر کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔

اس دوران پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے علی وزیر کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے اسے جمہوری روایات کے منافی قرار دیا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ جلسے اور عوامی ریلیاں کوئی جرم نہیں کہ اس کی بنیاد پر کسی کو گرفتار کیا جاسکے۔

قبل ازیں علی وزیر کی گرفتاری کے حوالے سے پیپلز پارٹی سندھ کے صدر نثار کھوڑو کا کہنا تھا کہ میرے خیال میں انہیں حکومت سندھ نے گرفتار نہیں کیا بلکہ وفاق نے یہ کام کیا ہے۔ سندھ پولیس کی درخواست پر گرفتاری کی نشاندہی کرانے پر ان کا کہنا تھا کہ کیس شاید یہاں رجسٹر ہوا ہوگا لیکن انہیں اس کی تفصیلات کا علم نہیں ہے۔