سینیٹ انتخابات سے متعلق حکمت عملی پی ڈی ایم طے کرے گی: مریم نواز

  • جمعرات 17 / دسمبر / 2020
  • 4980

حکومت کی جانب سے فروری میں ہونے والے سینیٹ کے انتخابات شو آف ہینڈز کے ذریعے کروانے پر مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے کہا کہ وہ شو آف ہینڈز کے خلاف نہیں لیکن حکومت کو اس اعلان سے شفافیت مقصود نہیں۔

انہوں نے کہا کہ جب چیئرمین سینیٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد آئی تھی اس وقت انہیں شو آف ہینڈز یاد نہیں آیا۔ لاہور میں پریس کانفرنس میں مریم نواز نے کہا کہ اس وقت اپوزیشن اراکین توڑے گئے، دباؤ کے لیے اداروں اور ریاستی طاقت کا استعمال کیا گیا اور خفیہ رائے شماری کی حمایت کی گئی۔ اور آج جب آپ کو محسوس ہوتا ہے کہ کمزور ہوگئے ہیں، اپنے اراکین اسمبلی پر اعتماد نہیں رہا تو شو آف ہینڈز یاد آگیا۔

انہوں نے واضح کیا کہ چونکہ مسلم لیگ (ن) پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کا حصہ ہے اس لیے اس حوالے سے حکمت عملی پی ڈی ایم ہی طے کرے گی۔ انہوں نے کہا جب کوئی نالائق، ناکام حکومت عوام کے گھیرے میں آجاتی ہے تو وہ ایسے ہی ہتھکنڈوں پر اتر آتی ہے۔ سینیٹ کے انتخابات ایک ماہ پہلے کروالیں یا بعد میں اس سے آپ کی جاتی ہوئی حکومت کو کوئی دوام نہیں ملے گا۔ آپ حکومت کو نہیں بچا سکتے۔

ان کا کہنا تھا کہ جب عوامی قہر جاگ اٹھتا ہے تو اس طرح کے انتطامات کارگر ثابت نہیں ہوسکتے۔ اگر آپ کو پی ڈی ایم کی تحریک یا جلسوں سے کوئی فرق نہیں پڑ رہا تو ایسی کیا ایمرجنسی آگئی کہ حکومت کو ایک ماہ قبل انتخابات کروانے کا اعلان کرنا پڑا جو پاکستان کی 73 سالہ تاریخ میں کبھی نہیں ہوا۔

انہوں نے کہا کہ جن اراکین نے 11 مارچ کے بعد حلف اٹھانا تھا انہیں پہلے منتخب کرنے کی منطق سمجھ نہیں آرہی لیکن یہ بات واضح ہے کہ حکومت کے پاس اب کم دن رہ گئے ہیں۔ اس لیے جو بھی ہتھکنڈے استعمال کرلیں گھر تو آپ کو جانا پڑے گا اور جلدی جانا پڑے گا۔

مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر نے کہا کہ حکومت نے جیسے افواج پاکستان کو اپنے مقصد کےلیے استعمال کیا ہے، اس سے ان اداروں کو نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں انتخابات کا اعلان کرنے کے لیے آئین کے تحت الیکشن کمیشن آف پاکستان نام کا ادارہ بنایا گیا ہے۔ یہ سارے فیصلے اور اعلانات ای سی پی کو کرنے ہیں، کوئی وزیراعظم یہ کام نہیں کرسکتا۔

وزیراعظم کو مخاطب کرتے ہوئے مریم نواز کا کہنا تھا کہ کس حیثیت سے ایک ماہ قبل انتخابات کروانے کا اعلان کیا۔ کیا آپ نے آئین پاکستان کو نہیں دیکھا، کیا وزرا اور مشیروں کی فوج نے آپ کو نہیں بتایا کہ آئین پاکستان کی رو سے آپ یہ اعلانات نہیں کرسکتے۔ یہ الیکشن کمیشن کا کام ہے۔

انہوں نے کہا کہ شو آف ہینڈز کے لیے آئینی ترمیم کی ضرورت ہے۔ اسے آرڈیننس کے ذریعے بلڈوز نہیں کیا جاسکتا۔ اگر کوئی آئینی ترمیم بھی کرنی ہے تو یہ پارلیمان کا کام ہے۔ سپریم کورٹ آف پاکستان صرف اس کی تشریح کرسکتی ہے لیکن نہ وہ نیا قانون بنا سکتی ہے نہ اس میں ترمیم کرسکتی ہے۔