پاکستان کے دوسرے دارلحکومت ڈھاکہ کی یاد میں

میں قراردادِ لاہور سے عمر میں چھ سال چھوٹا ہوں۔  میرے بچپن میں دو ہی شہر تھے جو پاکستان کی تخلیق میں کلیدی حیثیت کے حامل تھے۔ ایک تو ڈھاکہ جو  آل انڈیا مسلم لیگ  کی جنم بھومی تھی  اور دوسرا لاہور جہاں 1940 میں مولوی فضل الحق نے قراردادِ لاہور پیش کی جو برِ صغیر میں مسلمانوں کے الگ وطن کا مطالبہ تھا۔  

مسلم لیگ بنگالی ذہن کی تخلیق تھی ۔ جب یہ جماعت وجود میں آئی تو مسلمانوں کے رہنما اور بانی  پاکستان کانگریس میں گوکھلے  کے سیاسی سکول سے وابستہ تھے اور پھر اُنہیں مسلم لیگ میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی۔ پاکستان کوئی نظریہ نہیں تھا کیونکہ مسلمانوں کا نظریہ تو اسلام تھا  جو پچھلی پندرہ صدیوں سے مسلمانوں کا متفقہ طرزِ حیات تھا  لیکن  مسئلہ یہ تھا  کہ متعدد رنگوں، نسلوں اور زبانوں کے مسلمان  اس پیغام کو جو آسمانوں سے  تمام مذاہب کو ایک  ہی تسبیح میں پرونے کے لیے  اُتارا گیا تھا، وہ  مختلف لسانی، تہذیبی اور علاقائی روایتوں  کے زیر اثر اپنی  حقیقی صوررت برقرار نہ رکھ سکا۔  اور  مفسروں، فقیہوں اور احادیث کے شارحین  کے ہاتھوں  بہتر ٹکڑوں میں بٹ گیا۔ ہر چند کہ قرآن نے ولا تفرقو کا حکم  نافذ کیا تھا مگر قرآن کے واضح احکامات کے باوجود  فرقہ آرائی کو جلا ملی اور  محدثین جیت گئے۔

 سننِ ابی داأود کی بہتر فرقوں والی حدیث نے قرآن کی تعلیم کے برعکس  ملتِ اسلامیہ کے فرقوں میں بٹ جانے کو  رضائے الٰہی قرار دے دیا۔ اسلام پر دوسرا وار  سیاسی تھا۔ کربلا کے میدان میں  خلفائے راشدہ کے طرزِ حکومت  کو تہِ تیغ کر کے اموی بادشاہت  کا آغاز ہوا۔  دنیا بھر میں مسلمانوں کی تاریخ  اموی خلفا ، سلاطین  اور بادشاہوں کی  لشکر کشی اور کشور کشائی کی  تاریخ رہی ہے۔  مطلق العنان بادشاہوں کی  شمشیر زنی کی تاریخ  جس میں اسلام کے نام پر ظِلِ اِلٰہی  کے مونہہ سے نکلا ہر جملہ قانون تھا۔  مگر ہندوستان پر برطانوی تسلط کے ساتھ  جب مشرق و مغرب  ملے  تو  مغربی طرز کی جمہوریت  نے  مسلمان ذہنوں کو اپنے رنگ میں رنگ لیا۔

 مسلم لیگ جس نے انگریزی تسلط کے عہد میں آنکھ کھولی تھا  کانگریس کی طرز اور پیٹرن پر منظم تھی۔  قائد اعظم جب  مسلم لیگ کے لیڈر بنے تو  تو  اُنہیں مغربی جمہوری روایت کے مطابق  پاکستان کا کیس سیاسی میدان میں لڑنا پڑا۔ یہ کوئی جنگی  معرکہ نہیں تھا۔ انہوں یہ جنگ اسلحے کے زور سے نہیں اپنے دلائل سے جیتی اور  مسلمانوں کے  سیاسی ہیرو بنے۔ اس ساری سیاست میں عسکریت کا کوئی عمل دخل نہیں تھا۔  اُن کی جدوجہد کے بارے میں یہ بات کہی جاتی ہے کہ اُنہوں نے پاکستان کی جنگ طاقت سے  نہیں دلائل سے جیتی ۔  قائد اعظم رُخصت ہوئے تو دلیل بھی وفات پا گئی اور پھر بیوروکریسی  نے سیاست دانوں کو  امورِ حکومت سے بیدؒخل کردیا۔ 

بیورو کریسی اور عدلیہ کے گٹھ جوڑ سے ملک میں سیاسی  گاڑی کا پہیہ جام کردیا گیا  اور پھر وہی قوت  جو کئی صدیوں سے برِ صغیر پر بیرونی ممالک سے حملہ آورر ہوتی رہی تھی، ایک نئے لباس میں پاکستان پر مسلط ہوگئی۔  یہ تھی پاکستان کی فوج   عربوں ،  مغلوں، پٹھانوں اور ترکوں کی جانشین۔ چنانچہ ڈھاکہ جو آل انڈیا مسلم لیگ کا مولد تھا،  نئے حکمرانوں کے لیے  ایک دور افتادہ  مقام بھی تھا اور اُس کو  زیرِ نگیں اور زیرِ تسلط رکھنا مشکل تھا۔  ایوب خان کو شکایت تھی کہ بنگالی اطاعت گزار نہیں ہیں۔ چنانچہ پہلے تو اُنہیں طاقت سے فتح کرنے کی کوشش کی گئی  مگر بے سود۔  اور پھر وہ شرمناک المیہ رونما ہوا جس نے پاکستان کو دولخت اور فوجی حکمرانوں کو  پسپا کردیا۔ اس  موقع پر عدیم ہاشمی نے ایک شعر کہا جو  پوری اسلامی تاریخ کا احاطہ کرتا ہے۔ انہوں نے کہا:

ہم ایک لاکھ تھے ہم نے تو سر جھکا ڈالے

حسین!  تیرے بہتر سروں کو لاکھ سلام

اور اس کے ساتھ ہی مسلم لیگ کی جنم بھومی اور  قرار دادِ لاہور پیش کرنے والے شیرِ بنگال  مولوی فضل الحق کا وطن سندر بن کا دیس مشرقی پاکستان  ہم سے روٹھ گیا۔ جُدا ہو گیا۔ قائدِ اعظم کا  پاکستان اپنے اکثریتی  حصے سے محروم ہوگیا۔ پاکستان کا دوسرا  دارالحکومت  ڈھاکہ ڈُوب گیا۔  وہ اوریجنل پاکستان جسے قائد اعظم نے تشکیل دیا تھا، معدوم ہو گیا اور برِ صغیر کے نقشے پر بنگلہ دیش کے نام سے ایک  نئی ریاست  کی سرحدیں  ابھریں  اور  پاکستان  نصف سے بھی کم رہ گیا۔  اس کے بعد برِ صغیر کے مسلمان تین حصوں میں تقسیم ہوگئے اور مسلمان جمعییت جس نے لگ بھگ سات سو سال تک اس خطے کی  سیاسی اور نتظامی قیادت کی تھی، اپنی روایتی شان و شوکت سے محروم ہوگئی۔ ڈھاکہ کے بعد ہمارے پاس دوسرا دارالحکومت کراچی تھا، جس کی اہمیت یہ تھی کہ وہ قائد اعظم  کا جنم استھان تھا  لیکن چونکہ فوج کے تسلط کے بعد  پاکستان کی سیاست کا یہ نقش بھی مٹا دیا گیا، جس سے تحریک پاکستان کی سیاسی جدوجہد کی ساری نشانیاں مٹ گئیں۔ دارالحکومت  کراچی سے منتقل کردیا گیا۔  اور نئے  دارالحکومت  کے لیے 1958 کے مارشل لا کے  بعد اسلام آباد کا مصنوعی شہر آباد کیا گیا جو خیر سے اب ہماری سیاست کا قبلہ ہے۔

 اور اس شہر میں رہنے والوں کو شاید یہ بھی یاد نہیں کہ آج کے دن کیا ہواتھا۔ آج کے دن پاکستان ٹوٹا تھا۔ دو لخت ہوا تھا۔ نوے ہزار پاکستانی فوجی اور ہزاروں سول افسر جن میں مسعود مفتی بھی شامل تھے، بھارت کے جنگی قیدی بن گئے تھے۔ اور المیہ یہ ہے کہ پاکستانیوں آج تک یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ سب کیوں اور کیسے ہوا۔ ہم  اس سانحہ پر مرتب ہونے والی  حمود الرحمان کمیشن رپورٹ  کو چھپاتے رہے اور دور بیرونی ممالک میں یہ مختلف ٹکڑوں میں بٹ کر چھپتی رہی  لیکن پاکستانی حکمرانوں نے اسے  سرکاری طور پر شائع کرنا مناسب نہیں جانا۔  سقوطِ مشرقی پاکستان کی ذمہ داری شیخ مجیب الرحمان اور ذوالفقار علی بھٹو پر ڈال کر فوج سرخرو ہو گئی۔  اور حوالے کے طور پر  روزنامہ آزاد کی سرخی پیش کی گئی جو  بھٹو کی تقریر کے عنوان کے طور پر لگائی گئی تھی کہ اُدھر تم اِدھر ہم۔  اور ایک بہت بڑی سیاسی لابی نے اس سرخی کی بنیاد پر  بھٹو کو پاکستان توڑنے کا ذمہ دار قرار دیا اور آج تک دیتے چلے آ رہے ہیں۔  حالانکہ بھٹو کی حیثیت ایسی نہیں تھی کہ وہ پاکستان توڑنے کا فیصلہ کرسکتا۔

 اور اخباری بیانات یا اسمبلی میں کی گئی تقریروں سے ملک نہیں ٹوٹا کرتے بلکہ وہ معروضی حالات اور کمزور حکومت کا  حاصل ہوا کرتے ہیں۔  پاکستان اس لیے ٹوٹا کہ حکمرانوں نے جمہوری روایات کو مسخ کیا۔ لوگوں کو ان کے بنیادی حقوق نہیں دیے  جس کا مطلب ہے لوگوں سے زندہ رہنے کا حق چھین لینا۔  اور یہی اب بھی ہو رہا ہے۔  لیکن ایسے میں ایک بات  مجھے شدت سے  اذیت دیتی ہے کہ تحریکِ پاکستان کے نام پر جو مثالیہ تخلیق کیا گیا تھا اور جس  سیاسی نظریے  بنیاد رکھی گئی تھی،  وہ  اب  حرفِ غلط کی طرح مٹا دیا گیا ہے۔  اور اس کی جگہ ایک متبادل پاکستان تخلیق کیا گیا ہے   جو پچھلے بہتر سال سے اپنی بقا کی جانگ لڑ رہا ہے اور اب تک اپنے پاؤں پر ایک خود کفیل مملکت بن کر مستحکم نہیں ہوسکا۔  اس سانحے پر عام پاکستانیوں کے ساتھ شاعر ادیب، فن کار اور دانشور بھی بہت روئے۔ بڑے نوحے لکھے گئے ۔ ناصر کاظمی کا یہ شعر اب بھی میرے حلق میں ایک انگارے کی طرح  دہک رہا ہے؛ انہوں نے کہا:

یہاں تک آئے ہیں چھینٹے لہو کی بارش کے

وہ رن پڑا ہے کہیں دوسرے کنارے پر

میرے نزدیک پاکستان کا ٹوٹنا  دو قومی  نظریے میں  ایک فیصلہ کُن ترمیم  یا  تبدیلی تھی۔  اب بر صغیر دو قومی نظرے کا خطہ نہیں بلکہ سہ قومی نظریے کی وادی ہے جس میں  پاکستانی مسلمان، بنگالی مسلمان اور بھاتی مسلمان رہتے ہیں۔ پاکستان زندہ باد