مساوی انسانی حقوق کا عالمی عہد نامہ
- تحریر اطہر مسعود وانی
- جمعرات 17 / دسمبر / 2020
- 9430
انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کی بدولت دنیا کے تمام خطوں کے انسانوں کے لئے مساوی انسانی حقوق کے شعور اور مطالبے میں تیزی سے اضافہ ہوتا جار ہا ہے۔ ان انسانی حقوق میں شخصی، حقوق کے علاوہ سماجی، معاشی اور سیاسی حقوق بھی برابر کی اہمیت کے حامل ہیں۔
دنیا بھر کے انسانوں کے لئے شخصی،سماجی،معاشی اور سیاسی حقوق دیئے جانے کا سفر اقوام متحدہ کے ”یونیورسل ڈیکلریشن آف ہیومن رائٹس“ کے عہد اور عزم کی روشنی میں جاری ہے۔اقوا م متحدہ کا ’یونیورسل ڈیکلریشن آف ہیومن رائٹس‘ مقصد کے حصول کا عالمی عہد ہے جسے پورا کرنا ابھی باقی ہے۔بنیادی حقوق کے عالمی عہد میں انفرادی حقوق کے علاوہ سماجی،معاشی اور سیاسی حقوق بھی شامل ہیں۔
اقوام متحدہ کے یونیورسل ڈیکلریشن آف ہیومن رائٹس میں ایک بین الاقوامی اصول ہے کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی جس ملک میں ہو،وہ اس ملک کا اندرونی معاملہ تسلیم نہیں کیا جاتا۔پہلے اس پہ ابہام تھا لیکن اب وضاحت کے ساتھ اس کی تشریح آئی ہے کہ دوسرے ممالک میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر اقوام عالم کی یہ ذمہ داری بنتی ہے۔مثال کے طور پر اگر ہندوستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہو رہی ہے تو یہ اقوام متحدہ اور رکن ممالک کی ذمہ داری ہے۔کسی بھی ملک میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی پرکوئی بھی ملک اقوام متحدہ کے ضابطوں کے تحت براہ راست ایکشن لے سکتا ہے۔
اقوام متحدہ کے رکن ارکان کے مہذب، معتبر ہونے کا، اور اچھے ممالک میں ان کے شمار کے لئے ضروری ہے کہ ان کا اپنا انسانی حقوق کا ریکارڈ کیا ہے۔اسی لئے ہر ملک میں نیشنل ہیومن رائٹس کا ایک ادارہ ہوتا ہے جوہندوستان میں بھی ہے،پاکستان میں بھی ہے، ایران میں بھی ہے۔اس طرح دنیا کے تمام ممالک نے اپنے اپنے ملکوں میں انسانی حقوق سے متعلق ایک قومی ادارہ قائم کیا ہے۔،اچھے اور مہذب ممالک اقوام متحدہ کی ہیومن رائٹس کمیشن میں اپنی سالانہ رپورٹ پیش کرتے ہیں۔ ہیومن رائٹس کا اصول یہ ہے کہ”انسانی حقوق سب کے لئے، انسانی حقوق کا جاننا،اس کا مطالبہ کرنا اور اس کا دفاع کرنا“۔اس میں کوئی امتیاز نہیں ہے کہ یہ تمام انسانوں کے لئے یہ حقوق ہیں،ان حقوق کا جاننا بہت ضروری ہے اور ان کا مطالبہ کرنا،ان کے حصول کے لئے جدوجہد کرنا اوران کا دفاع کرنابھی ضروری ہے۔
اگر ہم پاکستان کے حوالے سے اقوام متحدہ کے یونیورسل ڈیکلریشن آف ہیومن رائٹس‘ کا اطلاق دیکھیں تو یہ اس بات کا متقاضی ہے کہ پاکستان میں آئین میں دیے گئے حقوق ایک غریب آدمی کی دہلیز تک جانے چاہئیں۔یعنی انسان ایک باعزت،معتبر اور آزاد زندگی بسر کرسکے اور وہ آپ کے ساتھ اختلاف کر سکے۔ مداخلت اور حق اختلاف انسانی معاشرے کی بنیاد ہے،جس ملک میں یہ حق معتبر ہے،اس کی عزت و توقیر ہے،ا س ملک کا دنیا میں بڑا مقام ہوتاہے۔ پاکستان میں اس وقت معاشرہ دو حصوں میں بٹا ہوا ہے،حکومت اور حزب اختلاف۔حزب اختلاف گورنمنٹ ان ویٹنگ ہوتی ہے۔ وہ ایک طرح سے حکومت پر نگران ہوتے ہیں،اس کے چوکیدار ہوتے ہیں،اس کی غلطیوں کا محاسبہ کرتے ہیں اور عام انسان کی آواز کو حکومت کے سامنے پیش کرتے ہیں،جنہوں نے ابھی حکومت میں آنا ہے۔پا
کستان کو دنیا کے اچھے ممالک میں لانا ہے،جہاں جمہوریت اور عدل و انصاف ہو۔ اقوام متحدہ کا یونیورسل ڈیکلریشن آف ہیومن رائٹس تقاضہ کرتا ہے کہ پاکستان میں آئین پر حقیقی معنوں میں عمل کیا جائے۔اور انسانی حقوق کے عالمی عہد کی پاسداری کی جائے۔یوں انسانی حقوق کا عالمی عہد نامہ دنیا کے تمام خطوں کے انسانوں کے لئے مساوی بنیادوں پہ شخصی،سماجی،معاشی اور سیاسی حقوق کے حصول کی منزل حاصل کرنے کا اعلان ہے اور اس مقصدکے حصول کے لئے ان حقوق کا شعور،مطالبہ اور دفاع کرنا ہر شہری کی ذمہ داری ہے۔