نیا قومی و جمہوری بیانیہ
- تحریر افضال ریحان
- جمعرات 17 / دسمبر / 2020
- 8280
کسی بھی ملک میں سیاسی عدم استحکام کا فوری نتیجہ معاشی تباہی کی صورت نکلتا ہے۔ جب بڑے بڑے جلسوں کے بعد ہڑتالیں اور پہیہ جام کی باتیں ہوں گی، جب لانگ مارچ اور گھیراؤ جلاؤ کے نعرے لگ رہے ہوںگے تو بے یقینی کی ایسی فضا میں کاروباری سرگرمیاں کیسے جاری رہ سکیں گی؟
پہلے ہی گزشتہ دو اڑھائی سالوں سے سیاسی کمزوری و نااہلی اور اناڑی پن کے ساتھ ساتھ ٹھوس اور واضح معاشی پالیسی نہ ہونے پر کسمپرسی کا عالم ہے۔ غربت، بے روزگاری اور مہنگائی کے ہاتھوں عام آدمی کی زندگی اجیرن ہو چکی ہے۔ ملک اگر بحرانوں کا شکار ہو تو یہ سیاسی قیادت کا امتحان ہی نہیں، حکومت وقت کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ اپوزیشن کو مطمئن کرے یاجیسے تیسے بھی افہام و تفہیم کی صور تحال پیدا کرتے ہوئے اسے بحران سے نکالے۔ نارمل حالات میں تو کمزور اناڑی یا نکھٹو بھی کشتی تھوڑی بہت آگے پیچھے لے جا سکتا ہے۔ ناخدا کی صلاحیتوں کا پتہ اس وقت چلتا ہے جب بحرانی یا طوفانی صورتحال پیدا ہوتی ہے۔
ایسی ہنگامی صورتحال میں بھی اگر آپ جذبہ صلح جوئی سے سب کو ساتھ لے کر چلنے کی بجائے، اپنی جبلی منتقم مزاجی کا مظاہرہ کرتے ہوئے منہ پر ہاتھ پھیریں اور اپنے سیاسی مخالفین کو اس نوع کی دھمکیاں دیں کہ تم مجھے جانتے نہیں ہو کہ میں کیا ہوں اور کیا کر سکتا ہوں، تو معاف کیجئے گا ایسی سوچ کو کم از کم کسی سیاستدان یا نارمل انسان کی سوچ کیسے قرار دیا جا سکتا ہے؟ چہ جائیکہ آپ اپنے سیاسی مخالفین کو ملک دشمن اور بیرونی قوتوں کی سازشوں کے آلہ کار گرداننا شروع کر دیں۔ قومی میڈیا کی طرف سے یہ سوال اٹھانا بنتا ہے کہ ’’مخالف جمہوری تحریک کے پیچھے غیر ملکی ہاتھ سے کیا مراد ہے‘‘؟ کون کون سے بیرونی ممالک اس سازش میں ملوث ہیں اور اس حوالے سے حکومت کے پاس کیا شواہد ہیں کیونکہ دوسری جانب اپوزیشن فارن فنڈنگ کیس کا ایشو اٹھانے میں حق بجانب ہے۔ جب اپنی عدالتوں میں دور دور کی کوڑیاں لا کر اپنے سیاسی مخالفین کوپھنسوانے یا پکڑوانے کا اہتمام کیا جا رہا ہے تو یہ کیس جس کے متعلق حکمران پارٹی کے اپنے سابق ذمہ داران بہت کچھ کہہ چکے ہیں، ہنوز کیوں سرد خانے میں پڑا ہے؟
اپنے سیاسی مخالفین پر کرپشن اور لوٹ مار کے الزامات عائد کرنے کا کلچر اتنا ہی پرانا ہے جتنا خود یہ ملک پاکستان، وزیراعظم حسین شہید سہروردی مرحوم وہ شخصیت تھے جن کا پاکستان بنانے میں کلیدی رول تھا۔ پارٹیشن سے پہلے، پورے متحدہ بنگال جس کا دارالحکومت کلکتہ تھا وہ اس کے وزیراعظم تھے۔ انہوں نے مشکل ترین میں بڑھ چڑھ کر جناح صاحب کا ساتھ دیا تھا لیکن پاکستان میں اسٹیبلشمنٹ نے جب ان کی حکومت توڑی تو اس مسٹر کلین پر
گندا اور گھناؤنا الزام کرپشن کا ہی لگایا گیا۔ ساتھ ہی انہیں ملک دشمن اور غدار وطن بھی قرار دیا گیا۔ سیاسی مخالفت میں ملک دشمن اور انڈیا کی ایجنٹ ہونے کا خطاب جناح صاحب کی بہن پر بھی عائد کر دیا گیا تھا۔ اس لیے پاکستان میں اسٹبلشمنٹ کا یہ دھندا کوئی نئی بات نہیں ہے، یہاں جتنی بھی منتخب جمہوری حکومتیں مارشل لائی ڈنڈے کے ساتھ رخصت کی جاتی رہی ہیں، حالات جیسے بھی رہے الزامات لوٹ مار اور کرپشن کے ہی عائد کئے گئے۔ یعنی یہ سب خود تو دودھ یا زمزم کے نہائے ہوئے ہیں اور دوسرے ملک دشمن لٹیرے ہیں۔
ہماری قومی سیاست میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ جیسی ہر دو بڑی پارٹیوں کی حیثیت ایسے ہی رہی ہے جیسے امریکا میں ڈیمو کریٹس اور ری پبلکن کی یا برطانیہ میں لیبر پارٹی اور کنزرویٹو کی یا انڈیا میں جنتا پارٹی اور کانگرس کی۔ کسی بھی جمہوری ملک میں جوں جوں جمہوریت مستحکم و توانا ہوتی ہے وہاں دو پارٹی سسٹم مضبوط ہونا فطری عمل ہے۔ مگر ہمارا ہی یہ انوکھا سماج ہے جہاں اسٹبلشمنٹ نے اپنے گماشتوں کو لانے کیلئے اس کے برعکس پروپیگنڈا کرتے ہوئے نفرت پھیلائی اور کہا کہ لوٹ مار کو تحفظ دینے کیلئے انہوں نے باریاں مقرر کی ہوئی ہیں۔
درحقیقت یہاں اسٹبلشمنٹ بوجوہ اتنی مضبوط ہے کہ وہ پوری کی پوری جینوئن سیاسی قیادت اور جمہوری سیٹ اپ کو جڑوں سے اکھاڑ کر باہر پھینک سکتی ہے۔ مشرف دور میں کیا ہوا؟ جنرل اسد درانی کی نگارشات ملاحظہ فرما لیں، ان کا خیال تھا کہ اب ملک کرپٹ مافیا سے صاف کر دیا گیا ہے اور یہ جمہوری لوگ اب کبھی یہاں آ کر اپنی جگہ نہیں بنا سکیں گے لیکن جن کی جڑیں عوام میں ہوتی ہیں، آپ ظلم و جبر کے ساتھ کب تک انہیں دیس نکالا دے سکتے ہیں، جونہی حالات بدلتے ہیں سانس لینے کی گنجائش نکلتی ہے آؤٹ کرنے والے نام نہاد محب وطن خود آؤٹ ہو جاتے ہیں۔
آج اگر وطن عزیز کی جینوئن سیاسی قیادت میں یہ سوچ ابھری ہے کہ ہمیں کم از کم دو ٹرمز یعنی دس سالوں کیلئے قومی یکجہتی اور جذبہ خیر سگالی کے تحت ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے اور غیر جمہوری قوتوں کے مذموم مقاصد کو ناکام بنانے کی خاطر ایک ایسا قومی، سیاسی اور انتخابی الائنس تشکیل دے لینا چاہیے جس کے مخالف محض عسکریت کے ترجمان ہوں، کٹھ پتلیوں کو عوامی احتجاجی طاقت اور متفقہ انتخابی کامیابی سے غیر موثر کرتے ہوئے ان کے آقاؤں کو بھی مجبور کر دیا جائے کہ وہ آئینی حدود میں رہ کر اپنی ذمہ داریاں سرانجام دیں۔ جس کا جو کام ہے، وہ خود کو وہیں تک رکھے۔ سیاست یا جمہوری و آئینی جدوجہد سیاستدانوں کی فیلڈ ہے۔ اس پر کوئی دوسرا فیلڈ مارشل بن کر مسلط ہونے کی کوشش نہ کرے۔ آج قوم کو اسی نئے جمہوری قومی بیانیے کی ضرورت ہے۔
رہ گئے کرپشن کے الزامات۔ وہ چاہے مالی ہوں یا انتخابی یعنی ووٹ چرانے کی صورت میں جب ایسا بڑا قومی جمہوری سیاسی الائنس پوری عوامی و احتجاجی طاقت کے ساتھ موجود ہوگا تو پورے کے پورے قومی و سیاسی سسٹم کی اوور ہالنگ ناممکن نہیں رہے گی۔ مضبوط و غیر جانبدار احتسابی ادارے بھی بنائے جا سکیں گے اور الیکشن کمیشن کو بھی انڈیا اور بنگلہ دیش کی طرح توانا و مضبوط بنایا جا سکے گا۔ آئین و قانون میں عسکریت و آمریت کی لیکیج یا دراندازی کے کلی خاتمے کی تدابیر بھی اسی طرح موثر ہو سکیں گی جس طرح اٹھارویں ترمیم کے ذریعے اس کا کچھ نہ کچھ اہتمام کیا جا چکا ہے۔
اب انہی لائنوں پر آگے بڑھنے اور آئین و جمہوریت کی طاقت منوانے کی ضرورت ہے۔ اگر جمہوری و عوامی قوتوں نے حکمت ، اعتماد اور اتحاد کے ساتھ استقامت دکھائی اور میڈیا نے بھی اپنی ذمہ داری کا احساس کیا تو پاکستان کو اس منزل تک پہنچنے سے کوئی نہیں روک سکے گا جس میں طاقت کا سرچشمہ کوئی اور نہیں اس ملک کے بائیس کروڑ عوام ہوں گے۔