بھارت، پاکستان پر حملہ کی تیاری کررہا ہے: وزیر خارجہ
- جمعہ 18 / دسمبر / 2020
- 3940
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے انکشاف کیا ہے کہ بھارت، پاکستان کے خلاف سرجیکل اسٹرائیک کی منصوبہ بندی کررہا ہے۔ ہم بھارت کو بتا دینا چاہتے ہیں کہ ہم اس منصوبے سے آگاہ ہیں اور جواب دینے کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔
ابوظہبی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ متحدہ عرب امارات میں ملاقاتوں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مجھے خفیہ ذرائع سے پتا چلا ہے کہ بھارت، پاکستان کے خلاف سرجیکل اسٹرائیکس کی منصوبہ بندی کر رہا ہے اور یہ ایک انتہائی سنجیدہ پیش رفت ہے۔ میرے پاس یہ اطلاعات بھی ہیں انہوں نے اہم 'کھلاڑیوں' سے اس کی منطوری لینے کے لیے رابطہ بھی کیا ہے جنہیں وہ اپنا پارٹنر تصور کرتے ہیں۔
وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ بھارت نے یہ منصوبہ اپنے اہم اندرونی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے تیار کیا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں صورتحال کبھی بھی اچھی نہیں رہی۔ موجودہ حکومت کی پالیسیوں کی وجہ سے ملک بھر میں کسان احتجاج کررہے ہیں۔ بھارتی حکام کورونا وائرس سے نمٹنے میں ناکام رہے۔ انہیں معاشی مسائل کا بھی سامنا ہے۔
بھارت میں اقلیتیں بھارت میں مستقل بے چینی کا شکار ہیں۔ آسام میں این آر سی کی وجہ سے مسئلہ ابھی موجود ہے۔ مسلم، دلت اور سکھوں سمیت اقلیتیں پریشانی سے دوچار ہیں۔ اس بات کو دیکھتے ہوئے نئی دہلی کی حکومت توجہ ہٹانا چاہتی ہے۔ ان کا خیال ہے کہ پاکستان کو نشانہ بنا کر یہ مقصد حاصل ہوسکتا ہے۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم نے ڈوزیئر کے ذریعے بھارت کے منصوبوں کو بے نقاب کردیا ہے۔ اس میں پاکستان میں بھارتی دہشت گردی کے ناقابل تردید ثبوتوں کی نشاندہی کی تھی۔ ای یو ڈس انفو لیب نے حال ہی میں بھارت کی جانب سے بنائی گئی جعلی ویب سائٹس، جعلی انٹرویوز، غیر رسمی پارلیمانی گروپس کو نقاب کیا ہے جس کا مقصد بھارت کی طرف سے پاکستان کو بدنام کرنا تھا۔
انہوں نے کہا کہ میں بھارت کو خبردار کرنا چاہتا ہوں کہ پاکستان، ان کے منصوبوں کا جواب دے گا۔ ہم مؤثر طریقے سے بھارتی جارحیت کا مقابلہ کریں گے۔ فروری 2019 میں بھہ پاکستان نے فوری اور مؤثر طریقے سے جواب دیا تھا۔
شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہم نے اہم ممالک تک یہ بات پہنچا دی ہے اور ہمارے پاس موجود تمام معلومات ان سے شیئر کی گئی ہیں لہٰذا وہ بھی بھارتی منصوبوں اور ہمارے عزم سے پوری طرح آگاہ ہیں۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان کے خلاف کوئی مس ایڈونچر افغان امن عمل کو بھی متاثر کرے گا۔ یہ خطے کے امن اور استحکام کو داؤ پر لگانے کا اقدام ہوگا۔ اس کے اثرات تباہ کن ہوں گے۔
انہوں نے بتایا کہ میں دو روزہ دورے پر متحدہ عرب امارات آیا تھا۔ یہاں ہماری اچھی ملاقاتیں ہوئی ہیں۔ پاکستان اور متحدہ عرب امارات میں تجارت اور دیگر امور پر اچھی گفتگو ہوئی۔ میں نے مشکل وقت میں پاکستان کی غیرمشروط حمایت پر متحدہ عرب امارات اور وزیر اعظم کا شکریہ ادا کیا۔ ہم اسٹریٹجک پارٹنرز ہیں اور ہمیشہ رہیں گے۔