سیندر سیاسی نسل
ہمارے معاشرے میں سیندر اس جانور یا انسان کو کہتے ہیں جسے جتنی بار کسی غلط حرکت یا عمل سے روکا جائے مگر اس پر کوئی اثر نہ ہو۔ جانور اگر اثر قبول نہ کرے تواس پر کوئی زیادہ حیرت کا اظہار نہیں کیا جاتا لیکن انسان اگر پرواہ نہ کرے تو اسے ایک ایسا فرد تصور کیا جاتا ہے جوشعور اور عزت نفس سے محروم ہے۔
اللہ تعالی نے انسان کو دنیا میں اپنا نائب بنا کر اسے اپنی مخلوقات میں سے سب سے اعلی و افضل رتبہ و مقام دیا ہے لیکن انسان نے خود غرضی اور نفس پرستی کا شکار ہو کر اپنا یہ مقام کھو دیا ہے۔ ایسا کیوں ہوتا ہے اور کیوں ہوا ہے؟ نفسیات دان کہتے ہیں اس کی وجہ ماحول ہے مگر یہ انسان ہی تو ہے جس نے معاشرے کی اصلاح کی جد وجہد کی اور منفی ماحول کو مثبت اور صحت مندانہ ماحول میں تبدیل کیا۔ نیکی اور بدی اگر پیدائشی یا فطری ہیں تو پھر یوم محشر حساب کتاب کس بات کا؟ اللہ تعالی نے انسان کو پیدا کر کے اس کی رہنمائی کے لیے رسول بھیجے ہیں۔ کتب نازل کی ہیں اور سیکھنے سکھانے کے اسباب پیدا کیے ہیں۔ انسان اگر خود نفس کا غلام بن جائے تواس میں کسی دوسرے کا دوش نہیں۔
نفس پرستی، خود غرضی اور خود نمائی وہ بیماریاں ہیں جو انسان کو بے حس، بے شرم اور عزت و احترام کے احساس سے محروم کر دیتی ہیں۔ ایسے انسانوں کو کوئی پرواہ نہیں ہوتی کہ دوسرے ان کے بارے میں کیا سوچتے ہیں۔ ان کو غلط کاموں سے روکنے کے چاہے کتنے جتن کیے جائیں وہ ٹس سے مس نہیں ہوتے۔ ہمارے معاشرے کے سیاستدانوں کی اکثریت آج اس بیماری میں مبتلا ہے جس کی ایک مثال یہ ہے کہ آئے روز پروٹوکول کے ساتھ ولیموں جنازوں اور نجی تقریبات میں ان کی شرکت پر تنقید کی جاتی ہے مگر انہیں کوئی پرواہ نہیں۔ ایک غیرت مند انسان کو اگر کوئی ایک بار ٹوکے تو وہ دوبارہ وہ کام نہیں کرتا۔ مگر ان سیندرسیاستدانوں کو کوئی پرواہ نہیں ہوتی۔ اب ایسے سیندر سیاستدانوں کا علاج کیا ہے؟
جہاں جمہوریت اور قانون کی بالا دستی ہو وہاں تو یہ مسئلہ پیدا ہی نہیں ہوتا اور اگر ہو جائے تو جمہوری طریقے سے عوام ایسے سیندر سیاستدانوں کو ووٹ کی طاقت سے اقتدار سے باہرپھینک دیتے ہیں۔قانون نافذ کرنے والے ادارے قانون کے مطابق قانون شکنی کرنے والوں کوسزا دیتے ہیں لیکن عوام کی بھاری تعداد خود چاہتی ہے کہ حکمران پروٹوکول کے ساتھ ان کے ولیموں اور جنازوں میں شرکت کریں۔اور اگر کوئی اکا دکا سیاستدان ایسا نہ کرے تو عوام شکوے شکایتوں کے انبار لگا دیتے ہیں جبکہ قانون کے مطابق کا م کرنے والے سرکاری افسر کو یہاں شاباش، پروموشن یا تمغہ نہیں بلکہ انتقامی تبادلوں کے ختم نہ ہونے والے سلسلے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یا بار بار معطل کر دیا جاتا ہے۔
میں ذاتی طور پر ایسے کئی انتظامی افسران کو جانتا ہوں جو انتقامی تبادلوں کا نشانہ بنے رہتے ہیں۔ ادارے اگر مخلص اور مضبوط ہوں تو کسی ملازم کے ساتھ انتقامی کارروائی نہیں ہو سکتی کیونکہ اداروں کی یونین احتجاج کر سکتی ہے لیکن یہاں بھی وہی خود غرضی آڑے آ جاتی ہے۔ جب کوئی ملازم یہ سوچے کہ دوسرا جائے اور میری جگہ بنے تو پھر باری باری ہر ایک کو نشانہ بننا پڑتا ہے۔
اب سوال ہے کہ اس سیندر نسل سے کیسے چھٹکارا حاصل کیا جائے؟ یہ سوال ایک اور سوال کو جنم دیتا ہے وہ یہ کہ آیا اصلاح ٹاپ ڈاؤن ہے یا باٹم اپ؟ اگر سیاسی قیادت مخلص اور باصلاحیت ہو تو وہ اوپر سے دباؤ ڈال کر بگڑے ہوئے لوگوں کو راہ راست پر لا سکتی ہے لیکن اگر اوپر والے خود بگڑے ہوئے ہوں تو پھر ان سے چھٹکارا پانے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ معاشرے کا جو چھوٹا سا باشعو ر اور غیرت مند طبقہ قوت تمیزرکھتا ہے وہ اپنی جد وجہد کو مزید تیزکر کے نچلے طبقے کو منظم کرے۔ اس طرح جب اکثریت نیکی کی حمایت کرے گی تو بدی خود بخود ختم ہو جائے گی۔
اسلام نے بھی امر باالمعروف اور نہی عن المنکر کا ہی درس دیا ہے۔ کویت میں کچھ عرصہ قبل اسلامی ممالک کے کے دانشوروں کی کانفرنس ہوئی تھی جس میں اسلامی ممالک میں اصلاح احوال پر بحث ہوئی مگر کوئی خاص نتیجہ نہ نکل سکا کیونکہ کوئی عرب بادشاہ مثبت تبدیلی کے لیے تیار نہیں۔ اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ ہرزندہ شے نے ایک دن فنا ہونا ہے۔ یوم حساب پر یقین رکھنے والا کوئی ایسا شخص نہیں جو جنت کے خواب نہ دیکھتا ہو۔ پھر کیا وجہ ہے کہ اس عارضی دنیا کی خاطر انسان اپنی اخروی زندگی کو داؤ پر لگا دیتا ہے۔ اور اپنے جیسے انسانوں کی خدمت کے بجائے ان کی حق تلفی کرتا ہے۔ ان کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھ کر اپنی آخرت خراب کرتا ہے۔
اس کی تو ایک ہی وجہ نظر آتی ہے کہ ایسا کرنے والا انسان کم عقل اور کم فہم ہے جس نے وقتی مفاد اور نمود و نمائش کی خاطر گھاٹے کا سودا کر رکھا ہے۔ اس لیے جن کو شعور اور فہم و فراست کی دولت نصیب ہوئی ہے ان کافرض ہے کہ وہ کم عقلوں کی مدد کرکے مزید نیکیاں کمائیں۔