ہم نظام میں زیادہ سے زیادہ جمہوری اقدار لائیں گے: چیف جسٹس
- ہفتہ 19 / دسمبر / 2020
- 4850
چیف جسٹس پاکستان گلزار احمد نے کہا ہے کہ ہم اپنے سسٹم میں زیادہ سے زیادہ جمہوری اقدار لائیں گے اور انہی اقدار کے تحت آگے بڑھیں گے۔
لاہور میں پنجاب بار کونسل کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس گلزار احمد کا کہنا تھا کہ ججز اور وکلا کے درمیان باہمی بات چیت کے حوالے سے جو دیوار تھی اسے کافی حد تک مسمار کردیا گیا ہے۔ کوشش کر رہے ہیں وکلا اور ججز کے درمیان عدالتوں سے متعلق معاملات کو باہمی مشاورت سے حل کریں۔ عدالتوں اور وکلا سے متعلق معاملات میں ہم دونوں ایک دوسرے کو اعتماد میں لیتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ججز کے معاملات میں بہت ساری چیزیں تبدیل کی ہیں۔ وکلا کی مشاورت کو تسلیم کیا ہے۔ ہم نے وکلا کو ججز کے تقرر کے معاملے میں شامل کیا ہے جبکہ باہمی مشورے سے مزید ججز کی تقرریاں بھی کریں گے۔ لاہور ہائیکورٹ کے ججز کی بھی تقرریاں کرنے میں کامیاب ہوں گے۔
انہوں نے وکلا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وکلا کو کسی بھی طرح پرتشدد نہیں ہونا چاہیے، اگر جج کا فیصلہ پسند نہیں تو اس سے جھگڑا نہیں کرنا۔ یہ بات مجھے بہت پہلے سمجھ آگئی تھی۔ انہوں نے اپنے وکالت کے دور سے متعلق یہ بتایا کہ وہ بھی گرم دماغ کے وکیل تھے تاہم وکیل تجربے سے سیکھتا ہے۔
دوران خطاب انہوں نے اپنے ماضی کا ایک قصہ سناتے ہوئے بتایا کہ انہیں ایک مرتبہ ان کے والد نے جج کے پاس معافی مانگنے کے لیے بھی بھیجا تھا۔ انہوں نے کہا کہ نئے نئے وکیلوں کے خون میں گرمی ہوتی ہے تاہم وقت کے ساتھ ساتھ بات سمجھ آتی ہے۔ انہوں نے وکلا برادری کو ہڑتال کلچر ختم کرنے پر مبارک باد دی۔
چیف جسٹس نے کہا کہ اب ہم اپنے نظام میں زیادہ سے زیادہ جمہوری اقدار لائیں گے اور جمہوری اقدار کے تحت آگے بڑھیں گے۔
چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ قاسم خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہم جو کہتے ہیں وہ سوشل میڈیا سمیت دیگر میڈیمز میں رپورٹ کیا جاتا ہے، لہٰذا اب یہ نامکمن ہے کہ ہم جو بات کریں اس کی پردہ پوشی کی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ پسے ہوئے محروم طبقات کو قانون کے مطابق انصاف دلوانا ہماری ذمہ داری ہے۔ اسی سلسلے میں زیر التوا مقدمات کے فیصلوں کو تیزی سے نمٹانا ہوگا۔
چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کا کہنا تھا کہ اب یہ ختم ہونا چاہیے کہ دادا مقدمہ دائر کرے گا تو پڑپوتے کے وقت فیصلہ ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ بار کے مسائل کے لیے میرے دروازے کھلے ہوئے ہیں۔ ہم اپنے حصے کا کام کر رہے ہیں، اب دیکھنا ہے کون کون اپنے حصے کا کام کرتا ہے۔