گھمسان کا رن ؟

جہاں پی ڈی ایم کی احتجاجی تحریک کے پہلے راؤنڈ کے اتوار کو لاہور میں آخری شو کے بعد اپوزیشن کی آئندہ حکمت عملی پر مباحث جاری ہیں کہ اس نے کیا کھویا کیا پایا ؟ وہاں مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر اور عملی طور پر میاں نواز شریف کی جانشین مریم نواز مصر ہیں کہ لاہور کا جلسہ حاضری اور جوش وخروش کے لحاظ سے تاریخی اور کامیاب ترین تھا ۔

پی ٹی آئی کی پراپیگنڈا مشین تو ایک طرف، خود ان کی اپنی ہی جماعت مسلم لیگ(ن) کے لوگ جلسہ کے منتظمین پر کڑی نکتہ چینی کر رہے ہیں کہ جلسے کے انتظامات ناقص تھے۔ حتیٰ کہ سابق وفاقی وزیر ریلوے اور لاہو ر سے رکن قومی اسمبلی خواجہ سعدرفیق اتنے شدید دباؤ میں آئے کہ انہیں اپنے اس دعوے کی تردید کرنا پڑی کہ میں نے اصلاح احوال کے لیے بات کی تھی لیکن اسے منفی انداز میں اچھالا گیا۔ سابق حکمران جماعت، جس کے قائد میاں نواز شریف تین بار وزیر اعظم، ان کے برادر خورد شہبازشریف تین مرتبہ وزیرا علیٰ پنجاب رہ چکے ہیں اور جس کے پاس لاہور میں شفقت محمود کا حلقہ چھوڑ کر قومی اسمبلی کی تمام نشستیں ہیں۔ نیز یہ کہ باقی ماندہ پنجاب میں بھی مسلم لیگ (ن) کو غلبہ حا صل ہے، اس کے باوجود یہ تاثر جاگزین کر گیا ہے کہ لاہور کے جلسے سے لاہوریے عنقا تھے۔

اس دعوے کو محض پی ٹی آئی کے ترجمانوں کی پرا پیگنڈا یلغار قرار دے کر رد نہیں کیا جا سکتا ۔ یہ تاثر بھی دیا جا رہا ہے کہ عوام نواز شریف کے انتہائی اینٹی اسٹیبلشمنٹ استدلال سے اکتا گئے ہیں اور یہ ا ن کا خاموش احتجاج تھا ۔ بہرحال مسلم لیگ (ن) دوراہے پر کھڑی ہے کہ آخر اس کا لائحہ عمل ہے کیا ؟ میاں نوازشریف کے بیرون ملک طویل قیام، شہبازشریف اور ان کے برخوردارحمزہ شہباز کے مسلسل پابند سلاسل ہونے کی وجہ سے اس وقت محترمہ مریم نواز پارٹی کی آواز بن کر ابھری ہیں ۔ بعض لوگ اس پر بھی حیران ہیں کہ محترمہ کیونکر آزاد ہیں حالانکہ انہیں تو اپنے والد میاں نواز شریف کی تیمارداری کے لیے رہا کیا گیا تھا ۔ کیا اس کے پیچھے بھی کوئی وسیع تر حکمت عملی ہے؟

جہاں تک پی ڈی ایم کا تعلق ہے ، وہ احتجاجی تحریک کا پہلا راؤنڈ مکمل ہونے کے بعد شتر بے مہا ر بن گئی ہے ۔ اس اتحاد نے فروری سے لانگ مارچ کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ مولانا فضل الرحمن گزشتہ برس اپنی پہلی تحریک میں بھی لانگ مارچ کی سعی کر چکے ہیں جو لاحاصل ثابت ہوئی۔ اب بھی واضح حکمت عملی کے بغیر لانگ مارچ کا فائدہ نہیں ہو گا۔ یہ مارچ ہو بھی گیا تو اس سے کون سے مقاصد کی تکمیل ہوگی۔ جہاں تک اسمبلیوں سے استعفے دینے کا تعلق ہے اب اس کی ڈیڈ لائن 31دسمبر کردی گئی ہے اور پی ڈی ایم کے جن ارکان نے استعفے دینے ہیں، اپنی جماعتوں کی قیادت کے حوالے کرنے ہیں ۔ اس کے برعکس 2014میں پی ٹی آئی نے ڈی چوک میں دھرنا دیا تھا تو اس کے ارکان نے اپنے استعفے من حیث الجماعت سپیکر قومی اسمبلی کو دیئے تھے۔ یہ الگ بات ہے کہ جا وید ہاشمی کے سوا دیگر ارکان اسمبلی استعفوں کی تصدیق کیلئے سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کے سامنے پیش نہیں ہوئے تھے ۔

پی ڈی ایم میں پس پردہ اور حکومت میں ناقدین مسلسل پراپیگنڈا کر رہے تھے چونکہ پیپلز پارٹی سندھ میں برسر اقتدار ہے وہ کیونکر استعفے دے گی لیکن پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے یہ کہہ کر کہ حکمرانوں کو گھر بھیجنے کے لیے سندھ میں اپنا اقتدار قربان کر دیں گے، ناقدین کا منہ بند کرنے کی کوشش کی ہے۔ لہٰذا یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ استعفوں کا معاملہ ہنوز دلی دوراست کے مترادف ہے ۔

حکومت نے کابینہ کے حالیہ اجلاس میں ایک نیا شوشہ چھوڑ دیا ہے کہ سینیٹ کے انتخابات شو آف ہینڈز کے طریقہ کار سے وقت مقررہ مارچ کے بجائے فروری میں ہوں گے ۔ اپوزیشن نے ان تجاویز کو مسترد کر دیا ہے، پی ڈی ایم کا کہنا ہے کہ شو آف ہینڈز اور الیکشن کی تاریخ میں ردوبدل کی کوشش غیر آئینی ہے ۔ جہاں تک شو آف ہینڈ زکا تعلق ہے اس سے مراد اوپن بیلٹ ہے جس سے یہ سب کے علم میں ہوگا کہ کس رکن اسمبلی نے اپنے ووٹ کا استعمال کس کے حق میں کیا ۔ عموما ً ایسی تجاویز اپوزیشن کی طرف سے آتی ہیں۔ نہ جانے حکمران جماعت کو کیوں خدشا ت ہیں کہ ان کے ووٹوں پر شب خون ما را جائے گا ۔ سینیٹ کے یہ انتخابات اس لحاظ سے انتہائی اہم ہیں کہ ان کے ذریعے پی ٹی آئی پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں اکثریتی جما عت کے طور پر ابھرے گی اور اس طرح اپنے ڈھب کے قوانین منظور کر اسکے گی ۔

اگر سینیٹ میں جیسا کہ اس وقت ہے کسی اپوزیشن پارٹی کی اکثریت ہو تو اس سے حکومت کو قانون سازی میں مشکلات تو پیدا ہوتی ہیں لیکن چیک اینڈ بیلنس کا نظام قائم رہتا ہے اور اس اصول پر عمل درآمد کیلئے حکومت کو قانون سازی کی خاطر اپوزیشن کا تعاون حاصل کرنا پڑتا ہے۔ خاص طور پر پاکستان جیسا ملک جہاں حکومتیں نظریاتی طور پر جمہوری پراسس کو تج کرنے کو تیا ر رہتی تھیں، اس رجحان کا خیرمقدم ہی کیا جا سکتا ہے ۔ ما ضی میں ایسی مثالیں موجود ہیں جیسا کہ میاں نوازشریف کے دوسرے دور میں جب ان کے سر پر بھاری مینڈیٹ کا بھوت سوار تھا اور وہ امیر المومنین بننا چاہتے تھے ۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کے پہلے دور حکومت میں بھی ان کو6اگست 1990 کو فارغ کرنے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ اس وقت کی عسکری قیادت سمجھتی تھی کہ پیپلز پارٹی کو سینیٹ کے انتخابات میں اکثریت حاصل ہوگئی تو پتہ نہیں وہ کیا گل کھلائے گی؟

اس پس منظر میں سینیٹ انتخابات میں گھمسان کا رن پڑے گا ۔ پارٹی پوزیشن کو سامنے رکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ پی ٹی آئی یقیناً سینیٹ میں غالب جما عت ہوگی جہاں تک الیکشن فروری میں کرانے کی تجویز ہے، ماہرین آئین و قانون کے مطابق یہ کروائے جا سکتے ہیں لیکن اس بارے میں ضد کی تُک سمجھ میں نہیں آتی۔ بہرحال ان معاملات میں سپریم کورٹ ہی بہترفیصلہ کرسکتی ہے جب اس سے رہنمائی کرنے کی درخواست کی جائے گی ۔

(بشکریہ: روزنامہ 92)