چاند پہ چہل قدمی کون کر رہا ہے؟
- تحریر ڈاکٹر طاہرہ کاظمی
- ہفتہ 19 / دسمبر / 2020
- 4930
وہ ایسے چلتا جیسے چاند پہ چل رہا ہو، ایک قدم آگے، دو قدم پیچھے۔پھونک پھونک کے رکھے قدم، کشش ثقل سے آزاد ایک مخصوص جنبش۔ کون کر سکتا تھا بھلا ایسا، بریک ڈانس کے شہنشاہ مائیکل جیکسن کے سوا!
حیدر میاں ڈانس سیکھنے کے شوقین اور وہ بھی بریک ڈانس۔ کل ان کو اپنی مشق کرتا دیکھ کے ہمیں نہ صرف مائیکل جیکسن یاد آئے بلکہ ان کا مشہور زمانہ ڈانس مون واک یا چاند پہ چہل قدمی کی فلم بھی نظر کے سامنے گھومنے لگی اور یہ گم گشتہ یاد سوچ کا ایک اور دریچہ وا کر گئی۔ چونکہ گیس لائٹنگ کا پچھلے دونوں کالمز میں ذکر ہوا تو سوچا کہ لگے ہاتھوں مون واکنگ یا دوسرے لفظوں میں چاند پہ چہل قدمی پہ بھی روشنی ڈال دی جائے:
’تمہیں محفل میں اتنی گرم جوشی دکھانے کی قطعی ضرورت نہیں تھی‘
’تم نے میرے والدین سے اچھی طرح بات نہیں کی‘
’تم نے میری بہن کی خاطر خواہ تواضع نہیں کی‘
’تم نے میرے بھائی کو درشتی سے جواب دیا‘
’تم مجھے حقیر جانتے/ جانتی ہو‘
’تم اپنی ذاتی دلچسپیوں میں گم رہتے/ رہتی ہو‘
’تمہیں بچوں کی پروا نہیں‘
یاد رکھیے ان الزامات کا تبادلہ دو ساتھیوں کے درمیان ہے، سو آغاز بیوی یا شوہر کسی بھی فریق کی جانب سے ہو سکتا ہے۔ اب جس فریق پہ بارود داغا گیا ہے یا گیس لائٹنگ کی گئی ہے وہ برافروختہ ہو کے غصے کی حالت میں ایک درد محسوس کرتے ہوئے احتجاج کرتے ہوئے کہتا ہے:
’تم نے یہ سب سوچا کیسے میرے متعلق؟‘
’میرے والدین کے متعلق تم نے یہ کیوں کہا؟‘
“’تمہارے منہ سے یہ سب سن کر رنج بھی ہوا اور تکلیف بھی‘
’میری سمجھ سے باہر ہے کہ تم ایسا ہتک آمیز رویہ کیوں اختیار کرتے ہو؟‘
گیس لائٹر یہ احتجاج سن کے دو قدم پیچھے ہٹتا ہے اور اپنے الفاظ اور رویے پہ شرمندگی محسوس کرنے کی بجائے دوسرے فریق پہ چڑھ دوڑتا ہے کچھ ایسا کہتے ہوئے:
’تم بہت حساس ہو‘
’تم بات کو بڑھا رہے/ رہی ہو‘
’میں نے مذاقاً کہا تھا‘
’میرا یہ مطلب نہیں تھا‘
’تم نے غلط سمجھا‘
’تمہارا تو دماغ خراب ہے‘
لیجیے جناب ، گیس لائٹر نے ایک لحظہ شکار کی ہتک اور عزت نفس مجروح کی اور دوسرے ہی لمحے شکار کے احتجاج کے بعد اسے یہ باور کروانے کی کوشش کی کہ یا تو شکار کو سمجھنے میں غلطی ہوئی ہے یا شکار باتوں کو محدب عدسے سے دیکھتے ہوئے کوئی اور رنگ دے دیتا ہے۔ اب گفتگو شکار کے ردعمل کے گرد گھومنا شروع ہو گئی اور گیس لائٹر کا رویہ اور الفاظ جس سے گفتگو کا آغاز ہوا تھا، ان کا وجود ہی دھندلا پڑ گیا۔
یہ انداز گفتگو مون واکنگ یا چاند پہ چہل قدمی کہلاتا ہے جہاں گیس لائٹر ساتھی کی عزت نفس کو مجروح کرنے کے بعد اسی کو جھٹلا دیتا ہے۔ یعنی سب کچھ کہہ بھی دیا اور خود رہے دودھ کے دھلے۔ اماں ایک پنجابی کہاوت بڑی لگاوٹ سے سنایا کرتی تھیں: ’چور نال چتر نال دڑوپا کچھ دے تھلے ‘۔
ایک مثال دیکھیے: ’آج مجھے تنخواہ ملی تو میں نے تمہارے لئے یہ تحفہ خریدا، دیکھو کتنا اچھا ہے، مجھے بہت مزا آیا‘
’اچھا، شکر ہے تمہیں بھی بڑھیا چیز خریدنے کی عقل آئی۔ پچھلی دفعہ تو تمہاری لائی ہوئی چیز کی کوالٹی بالکل اچھی نہیں تھی۔ یاد ہے فوراً ہی رنگ چھوڑ دیا تھا‘
لیجیے جناب ، ایک سادہ خوشی کے احساس کو فوراً ماضی کی کسی یاد سے جوڑ کے احساس جرم میں مبتلا کر دیا گیا۔ اب ظاہر ہے، جواب یہی ہو گا:
’میرے ایک اچھے اقدام اور میری خوشی کے احساس کو روند کے تمہیں کیا ملا؟ کیا تم خاموش نہیں رہ سکتے تھے/ تھی؟‘
’ارے، تم تو ہر بات ہی دل پہ لے لیتی/ لیتے ہو۔اب بندے کو اتنا بھی حساس نہیں ہونا چاہئے‘
لیجیے ایک ایسی بحث کا آغاز ہو چکا جو ایک پیار بھرے جملے سے شروع ہو کر نہ جانے کن کن الزامات اور کمزوریوں کو گنوانے پہ ختم ہو گی۔ وجہ کیا بنی؟ ایک فریق کی خوشی کی کیفیت پہ دوسرے نے طعن و تشنیع کا تیل چھڑک دیا گیا جس کی شاید تیاری پہلے سے کر رکھی تھی، بس موقع ملنے کی دیر تھی۔
مون واکنگ، گیس لائٹنگ کی طرح ہی ایک سٹریٹجی ہے جس میں طاقت و اختیار کا شائق فریق دوسرے پہ تنقید بھی کرتا ہے اور اس کے احتجاج پہ اسے ہی مورد الزام بھی ٹھہراتا ہے۔ بات پھر وہی پہ آن پہنچی۔ طاقت و اختیار کا کھیل ۔ دیکھیے آپ کے گردونواح میں کون کون اسے کیسے کھیل رہا ہے؟
(بشکریہ: ہم سب لاہور)