چیئرمین نیب کو سینیٹ میں طلب کیا جائے گا

  • اتوار 20 / دسمبر / 2020
  • 4280

ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سلیم مانڈوی والا نے کہا ہے کہ قومی احتساب بیورو کے چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال کو سینیٹ میں طلب کیا جائے گا۔ اور اگر وہ نہ آئے تو قانونی اختیارات استعمال کرتے ہوئے  وارنٹ جاری کیے جائیں گے۔

لاہور میں پریس کانفرنس میں ان کا کہنا تھا کہ سینیٹ میں لوگوں کو طلب کرنے کے طریقہ کار پر عمل کیا جائے گا۔ قائمہ کمیٹی وارنٹ جاری کرسکتی ہے اور میں نے خود بحیثیت کمیٹی چیئرمین لوگوں کے وارنٹ جاری کیے ہیں جو پہنچنے سے قبل وہ حاضر ہوگئے۔ اس لیے اگر نیب کے چیئرمین نہ آئے تو ان کے وارنٹ بھی جاری کیے جائیں گے انہیں پیش ہونا پڑے گا۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اگر سیاسی جماعتیں فیصلہ کرتی ہیں کہ استعفے دینے ہیں تو انہیں کوئی روک نہیں سکتا اور یہ سیاسی نظام کا حصہ ہے۔ دنیا بھر میں استعفے، تحریک عدم اعتماد پیش کی جاتی ہیں۔ پی ٹی آئی نے بھی اپوزیشن میں رہتے ہوئے استعفے دیے تھے جو بعد میں انہوں نے واپس لے لیے تھے، اس میں کوئی غیر جمہوری بات نہیں ہے۔

نیب قانون میں ترمیم کے بارے پوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ حکومت نیب قوانین میں ترمیم کے لیے آرڈیننس لائی تھی جو بہت واضح تھا کہ نجی کاروبار اور بیوروکریسی سے نیب کا تعلق نہیں رہے گا۔ لیکن اس میں اپوزیشن کو یہ اعتراض تھا کہ صرف ان دو شعبوں کو استثنیٰ کیوں دیا جارہا ہے لہٰذا اس پر کوئی اتفاق نہیں ہوسکا۔ انہوں نے کہا کہ میں سمجھتا تھا کہ اتفاق ہوجائے گا اور یہ قانون کی شکل اختیار کرلے گا جس کے بعد نیب صرف حکومت اور اپوزیشن کی بدعنونی تک محدود ہوجائے گا، جس کے لیے اسے تشکیل دیا گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ چیئرمین نیب کو میں نے کہتے ہوئے سنا کہ انڈر انوائسنگ کے کیسز ایف بی آر کو دیے جارہے ہیں۔ تو سوال یہ ہے کہ یہ کیسز نیب کے پاس کیسے آئے۔ نیب کا تعلق کب سے درآمدات اور برآمدات سے ہوگیا۔ ہمارے پاس سینیٹ میں شکایتوں کی طویل فہرست بن چکی ہے۔ نیب کی وجہ سے لوگ ملک چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ یہ لوگوں پر اتنا دباؤ ڈالتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم آپ کا کاروبار ختم کردیں گے۔ آپ کسی کمپنی کے ڈائریکٹر نہیں بن سکتے، ہم آپ کو کہیں کا نہیں چھوڑیں گے ہمارے ساتھ پلی بارگین کرلیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میں آج بھی اس بات پر قائم ہوں کہ چیئرمین نیب کو سینیٹ میں طلب کیا جائے گا اور اگر وہ نہیں آتے تو قانونی اختیارات استعمال ہوں گے اور وارنٹ جاری کیے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ نیب آرڈیننس میں ترمیم نہ ہونا سیاسی جماعتوں کی ناکامی ہے۔ اگر وہ اپنے دور حکومت میں ترمیم کرلیتے تو آج یہ حال نہ ہوتا۔ سیاسی انتقام اپنی جگہ لیکن کاروباری افراد کا نیب سے کیا لینا ہے۔ نجی پلاٹ بیچنے، ہاؤسنگ سوسائٹیز کو، ملک میں کچھ امپورٹ کرنے پر نیب کا نوٹس آجاتا ہے۔ سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ اسی لیے میں کہتا ہوں کہ سارے ادارے بند کرکے نیب کو ہر چیز کا انچارج بنادیں۔