مولانا فضل الرحمٰن سمیت 20 سیاستدانوں کی زندگی کو خطرہ ہے: وزیر داخلہ
- سوموار 21 / دسمبر / 2020
- 4000
وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ پاکستان ڈیمو کوریٹک موومنٹ کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن سمیت 20 سیاستدانوں کی زندگیوں کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔
اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شیخ رشید نے کہا کہ 2019 میں دہشت گردی کے حملوں میں ہلاکتیں 482 تھیں اور 2020 دسمبر تک 357 ہیں۔ دہشت گردی کے حملوں میں ہلاکتوں میں 40-50 فیصد کمی ہوئی ہے۔ اس سال صرف دو خود کش حملے ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس ملک میں سی پیک کو خطرات لاحق ہیں۔ افواج پاکستان، پولیس اور دیگر اداروں نے سی پیک کو تحفظ فراہم کیا ہے۔ نیکٹا نے وقت سے قبل اطلاعات دیں اور حملوں کی منصوبہ بندی کو ناکام بنایا گیا۔ ہم اس نظام کو بہتر بنانا چاہتے ہیں۔
وزیر داخلہ نے انکشاف کیا کہ پاکستان کے 20 سیاستدانوں کی زندگی کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔ ملک میں اپوزیشن سمیت متعدد سیاستدانوں پر پچھلے سالوں میں حملے ہو چکے ہیں۔ ان سیاستدانوں کو ہائی الرٹ جاری کیا گیا ہے۔ ان میں مولانا فضل الرحمٰن بھی شامل ہیں جنہیں ہائی الرٹ کے بارے میں اطلاع دے دی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سیاست میں پیپلز پارٹی نے مثبت بات کرتے ہوئے الیکشن کمیشن سے کہا ہے کہ ضمنی الیکشن کرائے جائیں اور یہ ضمنی الیکشن انہی تاریخوں میں ہوتے ہیں جن میں انہوں نے چڑھائی کی کال دی ہے تو میرے خیال میں ان کی سوچ میں فرق آرہا ہے۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ نواز شریف فوج اور ججوں کے بارے میں تناؤ رکھتے ہیں۔ کوئی آرمی چیف ایسا نہیں جس سے انہوں نے اختلاف نہ رکھا ہو اور کوئی جج ایسے نہیں ہیں جس کے ساتھ انہوں نے جھگڑا نہ کیا ہو۔ اس طرح انہوں نے اپنے پاؤں پر خود کلہاڑی ماری ہے۔
انہوں نے پی ڈی ایم سے اپنے فیصلوں پر نظرثانی کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ کورونا جس تیزی سے پھیل رہا ہے، اس میں انہیں عوام کے بارے میں سوچنا چاہئے۔ آپ کہتے ہیں ووٹ کو عزت دو لیکن ووٹر کو موت کی طرف دھکا دینا چاہتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ووٹ کو عزت دو۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان پانچ سال پورے کرے گا اور اگر سینیٹ کے الیکشن میں اپوزیشن حصہ لے گی تو یہ بہت اچھا ہو گا۔ بالآخر مسائل کا حل اسمبلیوں سے نکلے گا۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ بھارت پاکستان میں انتشار کے لئے مداخلت کررہا ہے۔ اگر اس نے پاکستان کی سرحدوں کی طرف دیکھا تو یہ آخری جنگ ہو گی جسے تاریخ یاد رکھے گی۔ ہم پاکستان کو آگے لے جانا چاہتے ہیں، ہم ساری دنیا سے اچھے تعلقات چاہتے ہیں لیکن پاکستان پر کوئی حملہ ہوا تو پھر یہ آخری جنگ ہو گی۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے مزید کہا کہ اس ملک میں جو بھی ہو رہا ہے، مولانا اس کا محور ہیں۔ پیپلز پارٹی مثبت سوچ رکھتی ہے لیکن فضل الرحمٰن ذاتی لڑائی لڑ رہے ہیں۔ نیکٹا کے حوالے سے سوال پر انہوں نے کہا کہ سب سے پہلے تو انہیں پیسہ دیں، پیسہ ہی نہیں ہے تو جدت اور تبدیلی کیا لائیں گے۔ 30 کروڑ روپے میں کیا کریں گے۔