ماحولیاتی آلودگی ختم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے: وزیراعظم

  • سوموار 21 / دسمبر / 2020
  • 5470

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ماحولیاتی آلودگی پاکستان کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہے اور اس کو ٹھیک کرنا ہماری حکومت کی ذمہ داری ہے۔

بلین ٹری پروگرام کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کے سب سے بڑے چیلنجز میں اپنے ملک کے ماحولیات کا خیال رکھنا شامل ہے۔ انگریز نے جو جنگلات بنائے تھے وہ ہم نے ختم کردیے اور دریاؤں کو آلودہ کردیا۔ زیر زمین پانی آلودہ ہورہا ہے۔ سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ سندھ میں 70 فیصد زیر زمین پانی آلودہ ہے۔ ہوا کو آلودہ کردیا اور لاہور میں خاص طور پر سردیوں میں آلودگی خطرے سے بھی اوپر جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان ماحولیاتی تبدیلیوں سے بدترین متاثرین ہونے والے ممالک میں پانچویں نمبر پر ہوگا۔ یہ ہمارے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ اس سے پہلے جو بھی آیا اس نے اپنے 5 سال اور الیکشن کا سوچا اور کسی نے آگے کا نہیں سوچا کہ کس طرح کا پاکستان چھوڑ کر جائیں گے۔ میری حکومت کی ذمہ داری ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی کے  مسائل ٹھیک کریں، جنگلات کو بڑھائیں اور فضائی آلودگی  ختم کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں ایک ارب درخت لگانے کا کامیاب تجربہ ہوا۔ اب نئے منصوبے سے مقامی لوگوں کو فائدہ ہوگا۔ اپنے جنگلات کو شہد کی پیداوار کے لیے استعمال کرنے کا منصوبہ زبردست ہے کیونکہ اس سے مقامی لوگوں کو فوری طور پرروزگار ملے گا۔ ہمارے ملک میں 12 مختلف موسمیاتی زون ہیں جہاں مختلف قسم کے پودے اور درخت اُگتے ہیں۔ اس لیے شہد بھی مختلف اقسام کے بنا سکتے ہیں۔ اس منصوبے میں حکومت مدد کرے گی۔

پاکستانی پھلوں کی بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمارے پاسدنیا کا بہترین پھل ہے لیکن کوالٹی کنٹرول نہیں ہے جس کی وجہ سے فروخت نہیں ہوتی۔ مشرق وسطیٰ میں ہم پھل برآمد کرسکتے ہیں اور اس کا کوئی مقابلہ نہیں کرسکتا۔  اس حوالے سے پاکستان کی برآمدات بہت کم ہے۔ پوری حکومت اور وزارت سائنس اور ٹیکنالوجی کو مدد کرنا پڑے گی۔  کوالٹی کنٹرول بہتر ہو تو فوری طور ہمارے پاس صرف شہد ہی نہیں ہرقسم کی پیداوار کی برآمد ہوسکے گی۔

عمران خان نے کہا کہ دوسرا مسئلہ ہماری برآمدات کا ہے۔ جب تک ہم اپنی برآمدات نہیں بڑھائیں گے پاکستان کبھی بھی امیر ملک نہیں بنے گا۔ کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں پھنسے رہیں گے جو ختم نہیں ہوتا۔ ہمارے ملک میں نوجوانوں کو روزگار چاہیے اور اس سے یہ تیسری چیز بھی پوری ہوگی کیونکہ ان علاقوں میں نوجوانوں کو نوکریاں ملیں گی۔

وزیراعظم نے کہا کہ ہمین زیتوں کے درخت لگا کر اپنی ضروریات پوری کرنی چاہئیں تاکہ غیر ضروری طور سے زرمبادلہ صرف نہ کیا جائے۔ حکومت بلین ٹری منصوبے میں زیتون کی پیداوار پر زور دے گی۔ زیتون سے جو آمدنی ہوگی اس سے ان علاقوں میں غربت کے خاتمے کے لیے فائدہ ہوگا۔