مغربی تہذیبی اقدار اور اسلامو فوبیا؟
- تحریر افضال ریحان
- سوموار 21 / دسمبر / 2020
- 12350
پروپیگنڈا فی زمانہ ایک ایسا مہلک ہتھیار ہے جس کی کاٹ سے کچے ذہنوں کو چھلنی کیا جا سکتا ہے۔ جاہل کو عالم اور عالم کو جاہل دکھایا جا سکتا ہے۔ فراڈ کو صادق و امین اور صادق و امین کو فراڈ یا ٹھگ ثابت کیا جا سکتا ہے۔
اگرچہ تحقیق سے اصلیت واضح ہو جاتی ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ یہاں تحقیق کرتے کتنے لوگ ہیں۔ اور پھر جب تک تحقیق سامنے آتی ہے تب تک موقع پرست اور مفادات کے پجاری اپنا الو سیدھا کر چکے ہوتے ہیں۔ پھر سچ جھوٹ کا نتھارتے کئی دہائیاں بیت جاتی ہیں بلکہ کئی گھتیاں تو صدیوں میں بھی نہیں سلجھتیں۔ ہمارے جیسے سماج میں جہاں روایتی طور پر گھڑے گئے مقدسات کے خلاف تحقیق کرنا اگر چھوٹا جرم ہے تو اسے منظر عام پر لانا یا آزادی اظہار سے کام لینا گھناؤنا جرم بن جاتا ہے۔ جب سماجی طور پر یہ پریشر بھی موجود ہو کہ اگر ان ’’مسلمہ حقائق‘‘ کو چھیڑا تو اڑائے جا سکتے ہو۔
ہماری سوسائٹی میں اس وقت جتنی بھی بڑی بڑی تاریخی منافرتیں یا مذہبی و سیاسی تعصبات ہیں، ان کی جڑیں اسی حقیقت میں پیوست ہیں۔ دنیا کے ہر نظریہ میں کچھ نہ کچھ شدت ہوتی ہے مگر دہشت کی حد تک پہنچی ہوئی جتنی شدت ہمارے نظریہ حیات میں ہے دنیا کی کوئی قوم اس کے آس پاس نہیں پھٹک سکتی۔ اس وقت مغربی افکار، تہذیب اور سماج میں جس قدر قوت برداشت، رواداری اور انسانی اپنائیت ہے کوئی جتنی چاہے لعن طعن کر لے دنیا کے دیگر کسی سماج یا تہذیب میں کیا تاریخ عالم میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ لیکن آفرین ہے مقدس نظریہ و تہذیب کے پیروکاران کی فکری اڑان پر کہ انہوں نے مغربی تہذیب و افکار کو بھی آگے لگا رکھا ہے۔
مغربی تہذیب اپنے فکری قلعوں میں خوفزدہ ہے کہ اس دہشت سے پیچھا کیسے چھڑایا جا سکتا ہے؟ ایسی کون سی قانین سازی کریں جس سے اعلیٰ انسانی اقدار کا تحفظ کر سکیں۔ جبکہ مغربی تہذیب پر وہ لوگ طعنہ زن یا حملہ آور ہیں جنہیں ان کے اپنے ممالک کا ریاستی جبر انسانی حقوق تو کیا سچی بات کرنے یا کھل کر سانس لینے کا حق بھی دینے کیلئے تیار نہیں ہے۔ درویش کو ایسے کئی احباب سے ملنے کا اتفاق ہوا جنہوں نے اپنے برادر مسلم عرب ممالک میں عمریں گزار دیں۔ نصف صدی تک رہ کر خدمات سرانجام دیں، نیشنلٹی ملنا تو دور کی بات ذرا سی بے اعتنائی پر بیک جنبش و دوگوش نکال باہر کئے گئے۔ دوسری طرف غیر قانونی طور پر مغربی ممالک میں گھسنے والے ایسے نوجوان بھی دیکھے ہیں جنہوں نے طرح طرح کی جھوٹی کہانیاں گھڑتے ہوئے ان ممالک میں پناہ حاصل کی۔ قانون کو دھوکا دیتے ہوئے غیر قانونی دھندے بھی کیے اور بے روز گاری الائونس بھی وصول کیا۔ مغربی تہذیب کے خلاف نعرے لگانے اور پروپیگنڈا کرنے میں بھی پیش پیش رہے۔ مفادات مغرب سے اٹھاتے ہیں لیکن دل نظریہ جبر کی محبت میں دھڑکتے ہیں۔ یہ ہے بچپن میں انڈیلے گئے یا ذہن نشین کروائے گئے ابتدائی پروپیگنڈے کا بلاتفریق اثر۔ سر برٹرینڈرسل نے کہاتھا کہ سارا المیہ ہی یہ ہے کہ بے وقوف اور جنونی لوگ ہمیشہ اپنے خیالات کو ہی سچا اور مکمل مانتے ہیں جبکہ شعور والے ہمیشہ اپنے خیالات کے متعلق شبہات کا شکار ہوتے ہیں۔
ہمارے سامنے منڈی بہاؤ الدین سے غیر قانونی طور پر یورپ گئے ہوئے ایک نوجوان کی ویڈیو ہے جو ’کافر ملک‘ میں پناہ لے کر انسانی حقوق کے نام پر اہل فرانس کی سہولیات سے بھی مستفید ہو رہا تھا لیکن وڈیو میں کہہ رہا تھا کہ میں فلاں حضرت صاحب کی اپروچ سے بے حد متاثر ہوں۔ اور اب میں ان کافر گستاخوں کو سبق سکھانے یا حملہ آور ہونے کیلئے جا رہا ہوں۔ پھر وہ دو ’کافروں‘ کو چھرا گھونپ کر زخمی بھی کرتا ہے۔ ایک چیچن مسلم نوجوان ایک فرانسیسی استاد سموئیل پیٹی کو اس کے خیالات کی وجہ سے وحشیانہ طور پر قتل کرتا ہے اور ہمارے لوگوں کا ہیرو قرار پاتا ہے۔
پیرس کے نواح میں ایک مسجد کا نوجوان امام لقمان حیدر سوشل میڈیا پر تشدد کا پرچار کرتا ہے، اپنے لوگوں کو ان پر حملہ آور ہونے کیلئے اکساتا ہے۔ ثبوتوں کے ساتھ معاملہ عدالت میں پہنچتا ہے تو جواب دیتاہے کہ میں تو سوشل میڈیا پر پاپولریٹی لینے کیلئے یہ سب کچھ کر رہا تھا۔ کیا سستی شہرت کیلئے یہ وتیرہ درست مان لیا جائے کہ ایک شخص سوشل میڈیا پر نفرت آمیز پوسٹیں لگاتے ہوئے اپنے لوگوں کو اس امر پر اکسائے کہ فلاں کافر یا فاسق کو جہنم واصل کر دو؟ ایمانوئیل میکرون کو کورونا ہوتا ہے تو ان کی باچھیں کھل اٹھتی ہیں حالانکہ اس موذی وبا سے ہمارے اپنے کئی نیکوکار مبلغین حوروں کے پاس تشریف لے جا چکے ہیں۔
اب اگر وہ اپنی تہذیبی اقدار کے تحفظ کی خاطر” ریپبلکن ویلیوز” کا قانون لاتے ہیں جس میں مذہبی اشتعال انگیزی کو روکنے کیلئے اس نوع کے اقدامات تجویز کئے جاتے ہیں کہ ایک آئمہ کونسل تشکیل دی جائے گی جو مساجد کے آئمہ کو منافرت پھیلانے سے روکے گی۔ یا سماجی جبر کو روکنے کیلئے جبری شادی یا شادی پر شادی کو روکنے کیلئے باہمی رضا مندی سے کوئی ایسا اقدام اٹھایا جائے گا کہ مذہب کا کسی بھی صورت سیاسی استعمال نہیں ہونا چاہئے تو کہا جا رہا ہے کہ یہ اسلامو فوبیا ہے۔
جذبہ خود احتسابی کےتحت اگر یہ جائزہ لیا جائے کہ کہیں ہم خود ہی تہذیبی فوبیا کا شکار تو نہیں ہیں؟ آخر ہماری مغربی تہذیبی اقدار سے لڑائی کس بات پر ہے؟ اگر سماجی فلاح و بہبود یا حقوق نسواں کو تحفظ دینے کیلئے ہم اپنے ملک میں عائلی قوانین کا نفاذ کرتے ہیں اور علمائے دین کے مخالفانہ پروپیگنڈے کے باوجود ہمارا سماج پچھلی 6 دہائیوں سے انہیں اپنائے ہوئے ہے۔ اور اسے اسلامو فوبیا قرار نہیں دیتا، تو مغرب کی جمہوری سوسائٹی کو اپنی ان تہذیبی اقدار کے تحفظ کا حق کیوں نہیں ہے، جن کی بنیاد انسانی مساوات حقوق اور آزادیوں پر استوار ہے۔ ان معاشروں میں نسلی و جنسی امتیاز کو ایک برائی اور جرم کی صورت دیکھا جاتا ہے، جہاں خواتین، بچوں اور اقلیتوں کے حقوق کو ہم سے کہیں بہتر تحفظ فراہم کیا جاتا ہے۔
فرانس میں اس وقت ستاون لاکھ سے زائد مسلمان بخوشی آباد ہیں۔ اپنی روزی روٹی کمانے کے ساتھ مسلم ممالک میں آباد اپنے خاندانوں کی کفالت کیلئے زرکثیر بھیجتے ہیں۔ وہاں کی آزاد سوسائٹی میں میسر تمام تر سہولیات سے مستفید ہوتے ہیں۔ اگر چند ہزار کو ان کی تہذیبی اقدار پسند نہیں ہیں تو بجائے وہاں منافرت پھیلانے اور قتل و غارت گری پر اکسانے کے ، کیا یہ بہتر نہیں ہو گا کہ وہ اس ’کافر‘ معاشرےکو خیرباد کہتے ہوئے اپنے اسلامی معاشروں میں واپس لوٹ آئیں۔ لعنت ڈالیں ان کافروں پر جہاں آپ کے عقائد محفوظ نہیں ہیں۔ آپ اپنے اس مقدس کلام پر عمل پیرا کیوں نہیں ہوتے ہیں کہ اے ایمان والو! دارالحرب کو چھوڑ کر دارالسلام میں لوٹ آؤ۔
سچائی تو یہ ہے کہ تہذیبی اقدار اور حریت فکر کے حوالے سے ہمیں مغرب سے بہت کچھ سیکھنے کی ضرورت ہے۔ ہمارے وچار اور سماج دونوں ان سے صدیوں پیچھے ہیں۔ دوسروں کے خلاف نفرت پھیلانے اور انہیں کسی فوبیا کا شکار کہنےسے پہلے ہمیں اپنے گریبانوں میں جھانکنا چاہیے۔ کہیں ہم ان کی تہذیبی اقدار اور تعمیر و ترقی سے حسد کی بیماری میں مبتلا تو نہیں ہیں ؟ کہیں ہم خود مغربی تہذیبی فوبیا کا شکار تو نہیں ہیں؟ انسانیت، انسان نوازی اور انسانی مفاد ایک ایسا نقطہ اتصال ہے جس پر آج نہیں تو کل پوری دنیا کو ایکا کرنا ہوگا۔