آسمانی قوتوں کی زمین سے جنگ
- تحریر مسعود مُنّور
- سوموار 21 / دسمبر / 2020
- 11730
قرآن و سُنت نے بنی نوعِ انسان کو جو حتمی مذہب دیا تھا، اُس کی بنیاد وہ اصول ہیں جو عالمِ انسانیت کو سماجی رشتے میں جوڑ کر رکھنے کے لیے وضع کیے گئے تھے۔ یہ پانچ اصول : محبت، حکمت، صداقت، مساوات اور خُلق ہیں۔
یہ اصول در حقیقت وہ عظیم اور برتر سماوی قوتیں ہیں جو ہر انسانی شعور میں کارفرما ہیں، خواہ ان کا عمل غیر شعوری ہی کیوں نہ ہو ۔ یہ ایک فرد کے وجود کی اہم ترین قوتیں ہیں ۔ اِن پانچوں اصولوں کو زندگی کی اساس بنانے کے لیے ہمیں اُن دماغی صلاحیتوں کو فروغ دینا ہوتا ہے جو ان اصولوں کو رو بہ عمل لانے کی ذمہ دار ہیں۔ جب کوئی فرد اخلاقیات کے اعلیٰ ترین معیار تک رسائی پا کر اُس مکمل دسترس حاصل کرلیتا ہے تو اُس پر منکشف ہوتا ہے کہ زندگی کا مطلب کیا ہے اور اُسے محسوس ہونے لگتا ہے کہ ذات کی انفرادی تکمیل ہی ہر فرد کا مقصدِ حیات اور نصب العین ہے۔۔ محولہ بالا پانچ اصول انسانی ارتقا کے مندرجات ہیں اور جو شخص فطرت کے مقاصد کی نگرانی کرنا چاہتا ہے ، اُس کے لیے یہی پانچ اصول رہنما ہیں۔
المیہ یہ ہے کہ یہ پانچ آسمانی قوتیں اس وقت فرد کی زندگی میں عملی طور پر موجود نہیں ہیں۔ ہر چند کہ مذہب کے حوالے سے بہت کچھ زیرِ بحث ہے ، بڑی بڑی باتیں بنائی جا رہی ہیں مگر ان مسلکی اور فرقہ وارانہ مکاتبِ فکر کے ہاں عملی گواہی کا فقدان ہے ۔ یہاں قرآنِ حکیم کے اُس نُکتے کو سمجھنا ضروری ہے جس میں (لما تقولون ما لا تفعلون) کے حکم کی روشنی میں ہدایت کی گئی ہے کہ وہ بات زبان پر کیوں لاتے ہو جس پر عمل نہیں کرتے۔ اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ وہ باتیں کہنا جن پر عمل نہیں کیا جاتا جھوٹ، فریب اور دھوکے کے سوا کچھ نہیں ہے ۔ چنانچہ جن مقدس اقوال کو ہم دوہراتے ہیں وہ ہمیں قولوی تو بنا سکتے ہیں مگر مولوی نہیں۔ کیونکہ مولوی تو مولا کے احکامات کی جیتی جاگتی عملی تصویر ہوتا ہے۔
حضرت فضل شاہ نور والے کا بیان ہے کہ قول سچا ہوتا ہے اور نہ ہی جھوٹا بلکہ وہ تو عمل کی گواہی سے سچا یا جھوتا قرار پاتا ہے۔ چنانچہ وہ آسمانی قوتیں جو انسانی وجود میں کارفرما ہوتی ہیں جب اپنی کارکردگی کو درست، معیاری اور بر محل نہیں پاتیں تو وہ اپنے ردِ عمل کا اظہار کرتی ہیں ، جو احتساب کی صورت میں ہوتا ہے ، کیونکہ خُدا جو سزا اور جزا کا مالک ہے۔ جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جب آسمانی قوتوں کو نظر انداز کیا جاتا ہے تو وہ غیظ و غضب میں آ جاتی ہیں جس کا اشارہ سورہ فاتحہ میں غیر المغضوب کی آیت میں پنہاں ہے ۔
چنانچہ اوپر بیان کی گئی پانچ سماوی قوتیں انسانی معیار کے پانچ مندرجات یا ہدایات ہیں جن پر عمل درآمد کرنا ہوتا ہے اور حکم عدولی کی صورت میں سزا واجب ہوجاتی ہے۔ آسمانی قوانین کی خلاف ورزی سنگین ترین جرم ہے ۔ سورہ بقر میں سبت والوں کے قصے میں بیان کیا گیا ہے کہ قانون خواہ دنیوی ہو یا دینی، خلاف ورزی کی صورت میں سزا کی دفعات نافذ ہو جاتی ہیں اور قانون شکنی کی پاداش میں انسان اپنا انسانی سٹیٹس کھو بیٹھتا ہے۔ اپنی اوریجنلٹی سے محروم ہوجا ہے ، بندر یا نقال بن جاتا ہے جیسا کہ سبت کا قانون توڑنے والوں کو بندر بنا دیا گیا تھا۔
اس وقت کوویڈ 19 اپنی بدلتی ہوئی صورتوں کے ساتھ دنیا بھر میں لوگوں کے لیے پیکِ اجل بناہوا ہے اور کشتوں کے پُشتے لگتے چلے جا رہے ہیں۔ دنیا بھر میں ہر جگہ لوگ اس آسمانی بلا کے ہاتھوں لقمہ اجل بن رہے ہیں اور یہ بلا روپ بدل بدل کر واپس آ جاتی ہے اور انسانی بستیوں میں موت تقسیم کرتی ہے۔ فی زمانہ یہ تباہ کُن صورتِ حال (نحن قدرنا بینکم الموت) کی تفسیر ہے۔ یہ عذاب صرف کوویڈ 19 کی صورت میں ہی نہیں اُترا بلکہ تمام خطوں میں لڑی جانے والی جنگیں، اخلاقی زوال، جنسی بے راہروی اور جنسی دردنگی کے بعد کم سنوں کا بہیمانہ قتل، اس عذاب کی مختلف قسمیں ہیں جو آسمان سے مسلسل اُتر رہا ہے۔ اور ہم سمجھتے ہیں کہ استغفار، اور دعاؤں کا زبانی جمع خرچ ہمیں اس عذاب سے نجات دلا سکتا ہے مگر ایسا سوچنا ہماری غلط فہمی ہے ۔
تبدیلی لانے اور وسماوی قوتوں کو دوست بنانے کے لیے ہمیں نظامِ اعمال کو بدلنا ہوگا اور باہمی نفرتوں کو تج کر محبت کی اقلیم میں داخل ہونا ہوگا ۔ مگر یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ محبت کیا ہے؟ محبت ایک روحانی اصول، ایک شعوری قوت اور دل کی گہرائیوں میں مقیم اُمنگ ہے۔ صوفیا کہتے ہیں کہ ساری دنیا محبت کا مادی اور طبعی اظہار ہے چنانچہ محبت کے بغیر انسان مکمل نہیں۔ محبت کے بعد حکمت ہے جو تخلیق کا سر چشمہ ہے۔ کہتے ہیں کہ خُدا نے حکمت سے دنیا پیدا کی ہے۔ حکمت اس بے حدود و ثغور خلا کی نہ بجھنے والی روشنی ہے جس کا راستہ بہت دشوار گزار ہے جو پیغمبروں، عارفوں، رشیوں اور درویشوں کا راستہ ہے۔ حکمت کے بعد تیسرا قانون صداقت ہے جو انسان کی ارفع ترین روحانی قوت ہے۔ یہ وہ حساس ترین قوت ہے جو جہالت، کمزوری اور کثافت یا آلودگی کو برداشت نہیں کرسکتی۔ صداقت تمام اشیا کا آغاز اور انجام ہے جس کے بغیر انسان کا شعوری ارتقا ممکن ہی نہیں۔
چوتھا اصول یعنی قانون مساوات ہے جو خُدا کی نعمتوں کی تقسیم کے علم پر مبنی ہے ۔ مساوات محبت کا طبعی اور مادی پہلو ہے جس کے بغیر انسانوں کے مابین احترام کا رشتہ استوار ہو ہی نہیں پاتا اور اس کے بعد سب سے اہم اصول خُلق ہے۔ خُلقِ محمدی ﷺ۔ حقیقی خُلق زندگی، روشنی اور آزادی کا مظہر ہے اور یہی وہ روشنی ہے جو محبت اور حکمت کا راستہ دکھاتی ہے۔ اور جب ہم ان اصولوں پر نہیں چلتے تو ہمیں کوویڈ در کوویڈ در کوویڈ کے لیے تیار رہنا چاہیے کیونکہ یہ سماوی قوتوں سے انحراف اور بنیادی فطری اصولوں کی خلاف ورزی کی سزا ہے۔ اور ہم سارے انسان ہر جگہ، ہر ملک اور ہر بر اعظم میں یہ سزا سہ رہے ہیں۔ جو بویا تھا وہ کاٹ رہے ہیں اور ہم سب اس کے ذمہ دار ہیں۔