میڈیا مالکان نذر بلوچ کے دشمن کیوں ہوئے ؟
- تحریر رضی الدین رضی
- سوموار 21 / دسمبر / 2020
- 7400
آج ہی کے روز وہ دسمبر کی سردرات تھی جب نذرعباس بلوچ کو رخصت کیا گیا۔ اسلام آباد سے اس کا جسد خاکی ملتان آیا تو اس ہم سب دوست اس کو رخصت کرنے کے لیے موجود تھے۔
ایک دوسرے کو حوصلہ دیتے ہوئے ، ایک دوسرے کو پرسہ دیتے ہوئے کہ ہم اس دوست کو سفرآخرت پر روانہ کرنے آئے تھے جو ہمیں پرسہ دیتا تھا اور ہمیں حوصلہ دیتا تھا۔ وہ ایک سیلف میڈ انسان تھا۔ ایک کارکن صحافی جس نے مزاحمت سے زندگی کا آغاز کیااور یہی جنگ لڑتا ہوا زندگی کی بازی ہار گیا ۔ وہ پریس کلب کی سیاست میں بھی سرگرم رہا۔م لتان پریس کلب کے صدر سمیت مختلف عہدوں پر کام کیا۔ پی ایف یو جے اور نیشنل پریس کلب اسلام آباد سے بھی منسلک رہا۔ وہ آنکھوں میں آنکھیں ڈال کربات کرتا تھا لیکن وہ اپنی اور اپنے بچوں کی زندگیاں خوبصورت بنانے کی کوشش میں اس بدصورت معاشرے کی بھینٹ چڑھ گیا۔
وہ ان میڈیا مالکان کے رزق کا وسیلہ رہا جواسے بھوکا رکھتے تھے۔ نذربلوچ سے میری ملاقات اس زمانے میں ہوئی جب وہ سرائیکی لوک سانجھ اور این ایس ایف سے وابستہ تھا۔ وہ ان تنظیموں کا سرگرم کارکن تھا۔ مزاحمتی جدوجہد پر یقین رکھتاتھا۔ب عد کے دنوں میں نذربلوچ کے ساتھ مختلف اخبارات میں کام کرنے کا بھی موقع ملا۔ روزنامہ” قومی آواز“ ، روزنامہ ”اعلان حق“، روزنامہ” جنگ “ سمیت مختلف اداروں میں نذربلوچ رپورٹنگ سے منسلک تھا اور میں ڈیسک پر کام کرتا تھا۔
پریس کلب میں بھی وہ ایک جذباتی کارکن اور سچے دوست کی حیثیت سے میرے ساتھ ہوتا تھا۔ نذربلوچ روزنامہ” خبریں“ ، روزنامہ” جنگ“ ملتان کی بانی ٹیم کاحصہ بنا۔ دونوں اخبارات میں چیف رپورٹر کی حیثیت سے کام کیا۔ وہ ایک نڈر اوراصولوں پر سمجھوتہ نہ کرنے والا صحافی تھا۔ روہی ٹی وی اور ہفت روزہ ” ہم شہری “ کے ساتھ بھی اس کی وابستگی رہی۔
نذربلوچ آج کے ٹریڈ یونین رہنماﺅں اور صحافتی تنظیموں کے عہدیداروں کی طرح مالکان کا ٹاﺅٹ نہ بن سکا۔ وہ کسی ادارے کی پاکٹ یونین کا لیڈر نہیں تھا۔ وہ صحافیوں کاسچا نمائندہ تھا۔ ہرفورم پر ڈٹ کے بات کرتا تھا۔ لیکن اس کی کہیں شنوائی نہ ہوئی۔ صحافیوں کے حقوق تو اس نے کیا دلوانے تھے رفتہ رفتہ اس پر بھی رزق کے دروازے بند کردیے گئے۔ پھرایک روز وہ آخری بار ہمیں ملنے ملتان آیا ۔
اے پی پی کے دفتر میں افتخار اور میں بہت دیر تک اس سے بھلے دنوں کی باتیں کرتے رہے۔ اسے حوصلہ دیتے رہے لیکن اسے معلوم تھا کہ اس کا دل اب اس کا ساتھ چھوڑنے والا ہے۔ اور پھر 21دسمبر 2013 کو وہ نذربلوچ مجھے تنہا چھوڑ کر رخصت ہوگیا جس نے پریس کلب کے ایک الیکشن میں میری شکست پر ہچکیاں لیتے ہوئے مجھ سے کہا تھا: ”رضی، آج تمہارے دوستوں نے پھرتمہیں دھوکا دیا ، میں ان سے بدلہ لوں گا۔“
نذر بلوچ اب تو کوئی ایسا بھی نہیں رہا جو مجھے کبھی اتنا سا حوصلہ ہی دے سکے۔
( بشکریہ : روزنامہ سب نیوز اسلام آباد )