ڈاکٹر مظہر محمود شیرانی
- تحریر ڈاکٹر علی محمد خاں
- بدھ 23 / دسمبر / 2020
- 16150
حافظ شیرازیی نے کس قدردرست کہا ہے:
ہرگز نہ میرد آنکہ دِلش زندہ شد بہ عشق
ثبت است، بر جریدہ عالمِ دوامِ ما
جب میں نے اپنے ایک دوست کی زبانی یہ اندوہ ناک خبر سنی کہ ڈاکٹر مظہر محمود شیرانی 31 جون 2020 کی شب ہم سب سے رخصت ہو کر اپنے خالقِ حقیقی کے پاس چلے گئے ہیں تو میں دل مسوس کر رہ گیا اور زبان پر نظیر اکبر آبادی کا یہ شعر آ گیا:
دنیا میں کوئی خاص نہ کوئی عام رہے گا
آخر وہی اللہ کا اِک نام رہے گا
میرے دل میں یہی آیا کہ مظہر محمود شیرانی کبھی نہیں مر سکتے کیوں کہ وہ فارسی اور اردو ادب کے عاشقِ صادق تھے۔ وہ اپنی کتابوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ معاً میری آنکھوں کے سامنے آج سے بیالیس سال پہلے کا وہ زمانہ آ گیا جب میں دسمبر 1987 کو جائن کرنے کے لیے گورنمنٹ ڈگری کالج شیخوپورہ پہنچا تھا تو کالج کے صدر دروازے پر نک سَک سے درست ایک خوش لباس و خندہ جبیں اور سیاہ طیلسان (بلیک گاؤن) میں ملبوس ایک چُست و توانا شخص نظر آیا۔ میں نے انہیں اپنا نام اور کالج میں آنے کی غرض و غایت بتائی اور ان سے اردو ڈیپارٹمنٹ تک رہنمائی چاہی تو وہ میرے ساتھ ہی اردو ڈیپارٹمنٹ کی طرف چل پڑے۔ میری حیرت کی انتہا نہ رہی جب انہوں نے مجھے بتایا کہ میرا نام مظہر محمود شیرانی ہے اور میں یہاں فارسی پڑھاتا ہوں۔ جب میں نے دبی زبان، پھٹی پھٹی آنکھوں اور استفسارانہ لہجے میں حافظ محمود خاں شیرانی کا نام لیا تو انہوں نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے کہا: ”ہاں!میں حافظ محمود شیرانی کا پوتا ہوں۔“ اس وقت تو میں اپنی طمانیت کو پوشیدہ رکھتے ہوئے صرف اتنا ہی کہہ سکا: ”وہ ایک عظیم محقق تھے۔ ان کے پائے کا محقق ان کے بعد اردو ادب کو آج تک میسّر نہیں آیا۔ میں آپ کی خدمت میں، جب بھی مجھے موقع ملا، ضرور حاضر ہوں گا۔ ویسے بھی مجھے فارسی زبان کے ساتھ بچپن ہی سے بڑا لگاؤ ہے۔“
شیخوپورہ ٹرانسفر سے پہلے میں نے سیالکوٹ کے ایک گاؤں میترانوالی میں جسے میرا آبائی وطن ہی کہنا چاہیے کیوں کہ قیامِ پاکستان کے بعد پانی پت چھوڑ کر ہمارے خاندان نے یہیں مستقل طور پر بود و باش اختیار کی تھی اور میں نے وہیں کچّی پکّی جماعت سے لے کر میٹرک تک تعلیم حاصل کی تھی اور میرے بچپن کی بے فکری کا زمانہ بھی اسی گاؤں کی گلیوں میں گزرا تھا اور اب ملازمت اور ساتھ ساتھ لکھنے پڑھنے کے لحاظ سے کچھ کر گزرنے کا زمانہ تھا۔ میترانوالی کے قومیائے گئے انٹرکالج میں، میں نے پانچ سال پڑھایا۔ جب میرا بہ ہزار دِقّت و مِنّت لاہور کے بجائے گورنمنٹ کالج شیخوپورہ میں تبادلہ ہو گیا تو میں نے اسے بھی غنیمت سمجھا کہ لاہور میں نہ سہی، لاہور کے نواح میں تو آیا کہ یہاں سے لاہور ٹرانسفر کا چانس تو ہے۔ خیر انہی خیالات میں غلطاں و پیچاں میں مظہر محمود شیرانی کے ہمراہ اردو ڈیپارٹمنٹ پہنچا۔ اس زمانے میں صدیق علی مرزا صدرِ شعبہ تھے۔ شیرانی صاحب تو مجھے صدیق علی مرزا کے سپرد کر کے رخصت ہوئے۔ وہ مجھے کلاسوں میں لے گئے۔ میرا بڑے حوصلہ افزا الفاظ میں تعارف کرایا اور طلبہ کو بتایا کہ یہ وہ پروفیسر ہیں جو آج سے آپ کو اردو پڑھائیں گے۔
میں شیخوپورہ میں اپنی تعیناتی پر بڑا خوش تھا۔ ایک تو مجھے یہاں مظہر محمود شیرانی، عبدالجبار شاکر اور عقیل روبی جیسے لوگ ملے تھے، دوسرے یہاں آنے کے بعد میرے دل میں پہلے ہی دِن سے ایک امید بندھی تھی کہ یہاں سے لاہور ٹرانسفر آسان ہے۔ جب مجھے ایک پروفیسر کی زبانی یہ معلوم ہوا کہ اُسے لاہور سے شیخوپورہ آنے جانے میں اتنا طویل عرصہ ہو گیا ہے اور دوسرے کی زبانی یہ پتا چلا کہ اسے اتنا زمانہ بیت گیا ہے، تو میرے ارمانوں پر اوس پڑ گئی۔ مگر دل و دماغ کے کسی کونے کھدرے میں تبادلے کی امید کا دیا بجھا نہیں بلکہ دھیما دھیما روشن ہی رہا۔
مجھے شیخوپورہ کالج میں ڈیڑھ ماہ کا عرصہ بیت گیا۔ کالج کے اوقات میں مجھے جب کبھی وقت میسّر آاتا تو میں شیرانی صاحب کو ضرور تلاش کرتا اور اگر وہ مجھے لائبریری میں یا کہیں اور بیٹھے مل جاتے تو دل کی مراد بر آتی اور اُن سے گفت گو ہوتی۔ ہمارے مابین بالعموم حافظ محمود شیرانی یا ان کی تصنیف ”پنجاب میں اُردو“، ”دیوانِ حافظ شیرازی“ یا ”گُلستانِ سعدی“ پر مشتمل کورس کی اس کتاب کے بارے میں باتیں ہوتیں جو پنجاب یونیورسٹی کے بی اے آپشنل کے کورس میں داخل تھی۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ ایک دن میں نے اُن سے ”آوردہ اند“ کے معنی پوچھے تو کہنے لگے: آپ اس کے معنی ”کہتے ہیں کے بجائے اگلے وقتوں کی بات ہے“ کر لیجئے۔ یہ مفہوم صرف مظہر محمود شیرانی ہی بتا سکتے تھے۔
بزرگوں کی دعاؤں اور کوششوں سے چار ماہ بعد میرا تبادلہ گورنمنٹ کالج شیخوپورہ سے گورنمنٹ کالج آف سائنس وحدت روڈ لاہور میں ہو گیا۔ اس دن میرے لبوں پر رات گئے تک مولانا روم کا یہ شعر رہا:
گر توکّل می کنی در کار کن
کِشت کن، پس تکیہ بر جبّار کن
اُس زمانے میں گورنمنٹ کالج شیخوپورہ کے پرنسپل محمد نواز چودھری تھے، جو پرنسپل ہونے سے پہلے گورنمنٹ کالج لاہور میں صدرِ شعبہ جغرافیہ، بڑے رکھ رکھاؤ کے مالک اور نظم و ضبط کے معاملے میں خاصے سخت گیر مشہور تھے۔ و ہ بھی لاہور ہی کے رہنے والے تھے اور میری طرح لاہور سے بس یا ٹرین میں روزانہ آنا جانا اُن کا بھی معمول تھا۔ جب میں حسبِ ضابطہ کالج سے فارغ ہونے کے لیے ان کے پاس گیا تو انہوں نے یہ کہتے ہوئے صریحاً انکار کر دیا کہ طلبہ کے پڑھائی کے دن ہیں، ان کا سالانہ امتحان سر پر ہے، میں آپ کو اُس وقت تک فارغ نہیں کرسکتا جب تک متبادل نہیں آجاتا۔ شاید وہ حق بجانب تھے مگر اُن کے اس رویّے سے میں بڑا دل برداشتہ ہوا۔ نہ جائے ماندن، نہ پائے رفتن۔ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ کیا کروں۔ اس طرح منہ لٹکائے مظہر محمود شیرانی کے پاس پہنچا تو شیرانی صاحب نے میری پریشانی بھانپ لی وہ مجھے لے کر شعبہ اردو میں پہنچے جہاں عبدالجبار شاکر صاحب موجود تھے۔
تھوڑی دیر کے بعد صدیق علی مرزا اور عقیل روبی بھی آ گئے اور انہوں نے یہ معاملہ ان کے سامنے رکھا۔ ان سے کچھ بات چیت کی اور پھر یہ چاروں دوست پرنسپل سے ملے۔ اس وفد میں عبدالجبار شاکر پیش پیش تھے۔ پرنسپل صاحب نے وہی عذرِ دُہرایا، جو وہ مجھے سنا چکے تھے۔ اس پر شاکر صاحب جھٹ کہنے لگے:
”جناب! آپ کا فرمان بجا ہے۔ طلبہ کی پڑھائی کا نقصان نہیں ہونا چاہیے۔ ان کا ایک ایک پیریڈ یہ دونوں حضرات اور دو پیریڈ میں لینے کو تیار ہوں۔ اس طرح طلبہ کا ہرگز نقصان نہ ہو گا۔“ اس طرح شاکر صاحب نے پہلے ہی دن میری طرف جو دوستی کا ہاتھ بڑھایا تھا، اس کا حق ادا کر دیا اور دوستی کی اس کسوٹی پر پورا اترے:
دوست آں دانم کہ گیرد دستِ دوست
در پریشاں حالی و در ماندگی
لاہور آنے کے بعد جب میں یہاں کے پروفیسروں سے ملا تو ان سے بہت متاثر ہوا۔ اُن میں ایک سے بڑھ کر ایک تھا۔ کس کس کا نام گِنواؤں: پروفیسر اسرار احمد، نبوّت یار خان، افسر حسین رضوی، سرفراز حسین قاضی، حیدر قلی قطب، معراج نیّر زیدی، احسان الٰہی سالک، خواجہ ڈاکٹر محمد کبریا، غلام محمد، عبدالمقیت کاردار، غنی شاہ سید، افتخار احمد باجوہ۔ اُن میں سے ہر شخص اپنی اپنی ذات میں ایک انجمن تھا۔ اپنے رفقائے کار میں سے میں جس شخص سے سب سے زیادہ متاثر ہوا وہ پروفیسر عمر محمد خاں فیضی تھے۔ فیضی صاحب مرزا غالب کے معروف شاگرد منشی ہرگوپال تفتہ کے گھر سے متصل سکندر آباد (یو پی) کے رہنے والے، علیگ، انتہائی وضع دار اور نستعلیق آدمی تھے۔ ان کے تمام دوست احباب بھی: ”کند ہم جنس با ہم جنس پرواز“ کے مصداق ان ہی کی طرح وضع دار اور رکھ رکھاؤ والے تھے، جن میں پروفیسر سجاد باقر رضوی، سید وحید الحسن ہاشمی، پروفیسر شہرت بخاری، اظہار الحسن رضوی، ظفر شارب، مشکور حسین یاد، سجاد رضوی، حسن طاہر اور پروفیسر صابر لودھی شامل تھے۔
مجھے یہ تسلیم کرنے میں کبھی باک نہیں ہوا کہ مجھے پی ایچ ڈی کرانے میں سب سے زیادہ تحریک اور اعانت فیضی صاحب سے ملی۔ میرے مقالے کا عنوان ”لاہور کا دبستانِ شاعری“ بھی فیضی صاحب ہی کا تجویز کردہ ہے اور یہ فیضی صاحب ہی تھے جو مجھے اپنے ہمدمِ دیرینہ پروفیسر سجاد باقر رضوی کے پاس لے گئے جو اورینٹل کالج میں پڑھاتے تھے۔ وہ بعد میں پنجاب یونیورسٹی کی طرف سے میرے مقالے کے نگران مقرر ہوئے۔ میں سمجھتا ہوں فیضی صاحب جیسے فاضل، عالی ظرف اور دوستوں کے دوست اب چراغ لے کر ڈھونڈنے سے بھی نہ ملیں گے۔
یہ اس زمانے کی بات ہے جب پنجاب یونیورسٹی لائبریری ابھی نیو کیمپس میں منتقل نہ ہوئی تھی بلکہ اولڈ کیمپس ہی میں تھی۔ ایک دن میں لائبریری گیا تو مجھے وہاں مظہر محمودشیرانی ملے۔ میرے جسم میں شادمانی کی لہر دوڑ گئی اور جب انہوں نے بتایا کہ وہ بھی میری طرح پی ایچ ڈی کرنے کے چکروں میں ہیں اور روزانہ یہاں آ جاتے ہیں تو میں اور بھی خوش ہو گیا۔ اب میرا معمول یہ ہو گیا کہ میں روزانہ صبح نو دس بجے لائبریری میں آ جاتا، اِدھر سے شیرانی صاحب بھی آ جاتے اور ہم اپنے اپنے مقالے کے زاویہ نگاہ سے تحقیقی مواد اکٹھا کرتے اور کچھ نوٹس لینے میں منہمک ہو جاتے۔ میں کتابوں کے بارے میں مظہر محمود شیرانی کی معلومات اور تحقیق و تنقید میں ان کے اعلیٰ معیار کو دیکھ کر حیران رہ گیا۔ میرے ذہن میں بار بار ان کے دادا جان حافظ محمود خاں شیرانی کی تصویر آ جاتی تھی، جن کے ساتھ پوتے کی حیرت انگیز مشابہت و مماثلت تھی۔ ایک دن تو مجھے یوں لگا کہ میرے پاس یہ حافظ محمود خاں شیرانی ہی تو بیٹھے ہیں جنہوں نے اردو تحقیق کے بچّے کو، جوگھٹنوں کے بَل چلتا تھا، اپنے پاؤں پر کھڑا کیا اور اب یہ بچّہ بڑا ہو کر چاروں طرف بھاگنے دوڑنے لگا ہے۔
ایک دن میں لائبریری میں بیٹھا تھا کہ انہوں نے مجھے ”پنجاب میں اردو“ کا وہ نسخہ نکال کر دیا جو ڈاکٹر وحید قریشی نے مرتّب کیا تھا۔ اُن کا کہنا تھا کہ یہ نسخہ اغلاط سے پاک ہے۔ اسی طرح ایک دن وہ میرے پاس پنڈت سری رام لالہ کی تصنیف ”خُم خانہ جاوید“ کی چار جلدیں لے کر آئے اور کہا: ”یہ آپ کے لیے بڑے کام کی کتاب ہے، اس کی پہلی جلد اپنی جگہ پر موجود نہیں ہے، وہ بھی جلد یا بدیر مل جائے گی اور میں اس وقت حیران رہ گیا جب انہوں نے اگلے ہی دن ”خم خانہ جاوید“ کی پہلی جلد بھی مجھے تھما دی جو واقعی میری ضرورت تھی۔ اسی طرح ایک دن سدید الدین محمد عوفی کی کتاب ”لباب الالباب“ ایک دن عبدالحکیم حاکم کی ”مردمِ دیدہ“ اور ایک دن خواجہ عبدالرشید کی ”تذکرہ شعرائے پنجاب“ نکال کر دی۔ میں یہ بَرملا کہتا ہوں کہ مظہر محمود شیرانی نے نہ صرف مجھے ”لاہور کا دبستانِ شاعری“ کا سیدھا راستہ دکھایا بلکہ جس راستے پر میں سنبھل سنبھل کر چل رہا تھا، اس پر مجھے تیز تیز دوڑایا تاآنکہ میں نے اپنی منزل کو جلد پا لیا۔
جن دنوں مظہر محمود شیرانی اپنے دادا، جنہیں وہ پیار سے ”دلدادہ“ اور ان کے ”دلدادہ“ انہیں پیار سے ”خوشنود“ کہتے تھے، کی علمی و ادبی خدمات کے موضوع پر اپنا ڈاکٹریٹ کا مقالہ لکھ رہے تھے، اُنہی دِنوں میرے ساتھ ان کا اٹھنا بیٹھنا بہت زیادہ تھا۔ اُن کے مقالے کے نگران ڈاکٹر وحید قریشی تھے، جو بلند پایہ محقق اور نہایت زِیرک و دانا شخص تھے اور جن کے پاس میں کبھی کبھی حاضر ہوتا تھا اور جو بعد میں میرے ڈاکٹریٹ کے مقالے کے بھی بیرونی ممتحن مقرر ہوئے۔ اُن دنوں شیرانی صاحب مقالہ لکھنے کے ساتھ ساتھ اپنے دادا جان کے اُن مقالات و مضامین کو بھی تلاش کر رہے تھے جو مختلف رسائل و جرائد اور کتابوں میں بکھرے پڑے تھے تاکہ انہیں یکجا کیا جا سکے۔ یہ میرے ذاتی علم میں ہے کہ وہ جب بھی ڈاکٹر وحید قریشی کو ملے اور ان کے سامنے اپنی کارکردگی رکھی تو ان کے مُنہ سے سوائے ”شاباش“ کے سوا کوئی اور لفظ نہ نکلا۔
خیر ہم دونوں کے مقالے لکھے گئے، جو ضابطے کے تحت مختلف مراحل سے گزرے اور پنجاب یونیورسٹی نے ہمیں ڈاکٹریٹ کی ڈگری کا مستحق قرار دے دیا۔ اس معاملے میں شیرانی صاحب مجھ سے سبقت لے گئے کیوں کہ اُن کا نوٹیفکیشن ایک سال قبل ہوگیا۔ لیکن یہ بڑی خوش آیند بات ہے کہ ہمیں ایک ہی کانووکیشن میں ڈگری ملی جس کا انعقاد پنجاب یونیورسٹی کے فیصل آڈیٹوریم میں سولہ سترہ سال کے بعد ہوا تھا اور جس کے مہمان خصوصی اس وقت کے صدرِ پاکستان غلام اسحاق خان تھے۔
ڈگری کی وصولی کے بعد میں ڈاکٹر مظہر محمود شیرانی سے ایک طویل عرصہ تک نہ مل سکا اور ان سے رابطہ بھی نہ رکھ سکا۔ ملتا بھی کیسے، وہ شیخوپورہ میں رہتے تھے اور میں لاہور میں، جب کہ زندگی روزانہ تیز سے تیز تر ہو رہی ہے مگر شیرانی صاحب وضع دار گھرانے کے عظیم فرد تھے۔ انہوں نے مجھے دو خط لکھے اور دو بار ہی اپنی تازہ ترین تصانیف بذریعہ ڈاک ارسال کیں، جس کا میں نے بذریعہ خط ہی بھرپور شکریہ ادا کیا مگر افسوس پھر ان سے تادیر رابطہ نہ ہو سکا یہاں تک کہ ان کے ناگہانی انتقال کی سناؤنی آ گئی۔
ڈاکٹر مظہر محمود شیرانی تو اس دنیائے فانی میں نہیں رہے مگر ان کی یاد میرے دل میں باقی ہے اور شاید کبھی نہ نکلے گی۔ وہ ہمہ صفت موصوف، انتہائی ذہین و فطین اور عالم بے بدل تھے۔ اردو اور فارسی زبان و ادب میں ان جیسا پارکھ اب شاید ڈھونڈے سے بھی نہ ملے۔ وہ حقیقتاً ”ظہیر الادبا“ اور ”محقق الملک“ کے خطابات کے مستحق تھے۔
جب مجھے کچھ عرصہ پہلے ڈاکٹر اشفاق احمد ورک، جو سرزمینِ شیخوپورہ سے ٹوٹ کر پیار کرتے ہیں اور ڈاکٹر مظہر محمود شیرانی کے مداحین میں شامل ہیں، کی زبانی یہ معلوم ہوا کہ گورنمنٹ کالج شیخوپورہ نے ڈاکٹر مظہر محمود شیرانی اور ان کے خاندان کی گراں قدر علمی و ادبی خدمات کے اعتراف میں اس بطلِ جلیل کے نام سے معنون کرتے ہوئے گورنمنٹ کالج شیخوپورہ کی ”بزمِ ادب و ثقافت“ کا نام ”بزمِ شیرانی“ اور کالج لائبریری کا نام ”شیرانی لائبریری“ رکھ دیا ہے تو مجھے ان کے اس اقدام سے بہت خوشی ہوئی۔ جب مجھے یہ معلوم ہوا کہ ”بزمِ شیرانی“ کے آفس میں حافظ محمود خاں شیرانی، اخترشیرانی اور ڈاکٹر مظہر محمودشیرانی کی تصاویر بھی آویزاں کر رکھی ہیں تو مزید خوشی ہوئی۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ اُردو اور فارسی ادب خاندانِ شیرانیہ کے ان تینوں افراد پر بجا طور پر فخر کر سکتا ہے۔ اسی لیے میں یہ کہتا ہوں کہ:
رفتید ولے نہ از دلِ ما