ترک اسرائیل تعلقات کی بحالی اور ہم
- تحریر مظہر چوہدری
- بدھ 23 / دسمبر / 2020
- 13470
عالمی سطح پر اسرائیل پر کڑی تنقید کرنے اور فلسطینیوں کے حقوق کے سرگرم حمایتی ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے ایک ہفتہ قبل اسرائیل سے گزشتہ دو سال سے منقطع سفارتی تعلقات کو یک طرفہ طور پر بحال کرنے کا اعلان کرکے دنیا کے ساتھ ساتھ پاکستان کو بھی حیران و پریشان کر دیا ہے۔
واضح رہے کہ کچھ عرصہ قبل متحدہ عرب امارات سمیت دیگر عرب ریاستوں کی جانب سے اسرائیل سے سفارتی تعلقات استوار کرنے کے شروع ہونے والے سلسلے کو ترک صدر نے"فلسطین سے غداری"اور "فلسطینیوں کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے"کے مترادف قرار دیتے ہوئے سخت تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔یاد رہے کہ غزہ میں فلسطینی مظاہرین کے خلاف پرتشدد اسرائیلی کاروائیوں کے ردعمل میں ترکی اپنے سفیر کو تل ابیب سے واپس بلا لیا تھا۔یہ مظاہرے صدر ٹرمپ کی جانب سے امریکی سفارت خانہ تل ابیب سے یروشلم منتقل کرنے کے فیصلے کے خلاف شروع کئے گئے تھے۔ ترکی کی جانب سے اسرائیل سے سفارتی تعلقات بحال کرنے کے اعلان کے پیچھے چھپے اسرارو موز پر بات کرنے سے پہلے ترک اسرائیل تعلقات کی تاریخ پر ایک سرسری نظر ڈالنا اس لئے بھی ضروری ہے کہ سادہ لوح عوام کے ساتھ ساتھ میڈیا پر لکھنے اور بولنے والے کچھ "بے خبرحضرات "بھی اس افسانے پر یقین کئے بیٹھے ہیں کہ ترکی نے اسرائیل کو کسی معاہدے کی مجبوری سے تسلیم کیا تھااور2023میں اس معاہدے کی سو سالہ مدت ختم ہونے کے بعددیگر کئی معاملات میں آزادیاں اور اختیارات حاصل کرنے والا ترکی اسرائیل سے تعلقات پر نظر ثانی کرنے میں بھی آزاد ہو جائے گا۔
جہاں تک ترکی اور اسرائیل کے دوطرفہ تعلقات کے آغاز کی بات ہے تو ترکی اسرائیل کے قیام) 1949)کے فوری بعد اسے تسلیم کرنے والا پہلا اسلامی ملک تھا۔اس میں کوئی شک نہیں کہ مسئلہ فلسطین کی وجہ سے دونوں ملکوں کے تعلقات میں تین سے چار بار کشیدگی اور تناؤ ضروردیکھنے میں آیا تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ زیادہ تر مواقع پرکشیدگی وتناؤ کا یہ عمل "سفارتی سطح" تک ہی محدود رہا۔جغرافیائی قربت اور مشترکہ مفادات کے باعث دونوں ملکوں کے مابین معاشی، تجارتی، سیاحتی اور دفاعی شعبوں تک پھیلے دو طرفہ تعلقات میں اسرائیل پر کڑی تنقید کرنے والے طیب اردگان کے ادوار میں مزید وسعت آئی۔
ترک حکومت کا اسرائیل سے سفارتی تعلقات کی حالیہ بحالی کا اعلان امریکہ کی جانب سے اس پر تجارتی پابندیاں عائد کرنے کے فیصلے کے ایک دن بعد سامنے آیاہے۔واضح رہے کہ امریکہ نے رواں برس کے اوائل میں روسی ساخت کے جدید ترین میزائل دفاعی نظام کی خرید داری پر ترکی کو جدید ترین ایف35امریکی لڑاکا طیاروں کی فروخت اور ترکی کی فضائیہ کے ہوابازوں کا تربیتی پروگرام سمیت کئی اور معاہدوں کو منسوخ کر دیا تھاتاہم ترک صدر نے امریکی دباؤ کے باوجود روسی میزائل شکن نظام کی خرید داری سے پیچھے ہٹنے سے انکار کر دیا تھا۔روسی میزائل شکن نظام کی خرید اری پرڈٹے رہنے کی پاداش میں صدر ٹرمپ نے جاتے جاتے ترکی پر پابندیاں عائد کر دیں۔
مشرق وسطی کے امور پر نظر رکھنے والے بیشتر تجزیہ نگاروں کے مطابق ترکی نے اسرائیل سے سفارتی تعلقات کی بحالی کا فیصلہ نئی امریکی انتظامیہ سے بات چیت کی گنجائش پیدا کرنے او ر ترکی پر چاروں طرف سے بڑھنے والے دباؤ سے نکلنے کے لئے کیا ہے۔واضح رہے کہ ایک طرف بحیرہ احمر میں تیل اور گیس کی تلاش کے معاملے میں قبرص اور یونان سے ترکی کا جھگڑا چل رہا ہے جس میں فرانس اور متحدہ عرب امارات عملی طور پر قبرص اور یونان کا ساتھ دے رہے ہیں تو دوسری طرف لیبیا اور شام کے معاملات میں بھی ترکی کو مصر، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور فرانس کے علاوہ روس سے بھی مخالفت درپیش ہے۔
اس ساری صورت حال کو بیان کرنے کا مقصد یہ واضح کرنے کے سوا کچھ نہیں کہ قوموں اور ملکوں کے تعلقات میں کچھ بھی حرف آخر نہیں ہوتا۔ برطانوی ڈپلومیٹ لارڈ پامرسن نے خارجہ معاملات کے بارے کیا خوب کہا تھا: "بین الاقوامی تعلقات میں نہ تو کوئی مستقل دوست ہوتا ہے اور نہ مستقل دشمن، بلکہ استقلال صرف قومی مفادات کو ہی حاصل ہوتا ہے۔" اس میں کوئی شک نہیں کہ ماضی میں بعض قومی ریاستیں کسی فکریا نظریے سے وابستہ ہونے کے باعث قومی مفاد کے تعین میں فکری اصولوں کو مقد م رکھتی رہی ہیں یا پالیسی سازی کی تشکیل میں کسی حد تک اب بھی نظریاتی عوامل کو اہمیت دیتی ہیں لیکن گزشتہ دو تین دہائیوں سے ریاستوں کی اکثریت ایک طرف قومی مفاد کا تعین کرتے ہوئے حالات سے ہم آہنگی کے معیارکو ترجیح دے رہی ہیں تو دوسری طرف ان کی پالیسی کی تشکیل میں معاشی عوامل کی اہمیت پہلے سے کہیں بڑھ گئی ہے۔
ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم اکیسویں صدی کی دوسری دہائی میں بھی قومی مفاد کے تعین اور خارجہ پالیسی کی تشکیل میں فکری معیار اور نظریاتی عوامل پر ضرورت سے کہیں زیادہ زور دے رہے ہیں۔ خارجہ پالیسی میں عرب ممالک سمیت مسلم ریاستوں سے تعلقات کوفروغ دینے کو مقدم رکھنا قابل اعتراض نہیں لیکن عالم اسلام کی یک طرفہ محبت میں تسلسل سے مبتلا رہنا یاعرب ریاستوں کے کسی مسئلے پر ان ریاستوں سے بھی کہیں زیادہ کمٹمنٹ دکھاناکسی بھی طرح دانش مندی نہیں۔ حقیقت پسندی کی دنیا میں رہنے والے باشعور افراد کے نزدیک مسلم امہ پہلے بھی ایک واہمہ ہی تھی لیکن ہم لوگ اس سراب کو حقیقت سمجھتے رہے۔تلخ حقائق یہ ہیں کہ جن کے مسئلے(مسئلہ فلسطین) کو ہم نے اپنا مسئلہ سمجھے رکھا، انہوں نے ہمارے مسئلے(مسئلہ کشمیر)کو ذرا بھی اہمیت نہیں دی۔
تازہ ترین صورت حال یہ ہے کہ متحدہ عرب امارات اور بحرین کے بعدسوڈان اورمراکش نے بھی اسرائیل سے تعلقات قائم کرنے کے معاہدے پر اتفاق کر لیا ہے۔مصر اور اردن بہت پہلے ہی اسرائیل کو تسلیم کر چکے ہیں۔آنے والے دنوں میں سعودی عرب سمیت چار سے پانچ مزید عرب ریاستیں اسرائیل سے تعلقات استوار کر نے کے اعلانات کر سکتی ہیں۔اسرائیل کے ساتھ دیرینہ دشمنی رکھنے والی عرب ریاستیں اگر اس سے تعلقات قائم کر رہی ہیں تو ہم کیوں اور کس لئے اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے کی ضد پر اڑے ہوئے ہیں۔ترکی اپنے علاقائی اور معاشی مفادات پر پڑنے والی زد کو سمجھتے ہوئے اسرائیل سے سفارتی تعلقات بحال کرنے کا اعلان کیا ہے لیکن ہم اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے کی ضد پر اڑے رہ کر اپنے آپ کو دنیا میں تنہا کرتے جا رہے ہیں۔
دنیا میں اس وقت ایران اور پاکستان کے علاوہ دو ٹوک الفاظ میں اسرائیل کوتسلیم نہ کرنے کا عزم رکھنے والی کوئی ریاست نہیں۔ایران کی عالمی تنہائی اور مشکلات سب کے سامنے ہیں۔سعودی عرب سمیت دیگر عرب ریاستوں کی جانب سے اسرائیل کو تسلیم کئے جانے کے بعد ہمارے سامنے اسرائیل کوچارو ناچار تسلیم کرنے یا عالمی سطح پر مزید تنہا ئی کا شکار ہونے کے دوہی آپشنز باقی رہ جائیں گے۔