پاک بھارت تعلقات اور پاکستان مخالف بیانیہ
- تحریر سلمان عابد
- بدھ 23 / دسمبر / 2020
- 5710
جنوبی ایشیا کا سیاسی و معاشی استحکام کے لئے ایک دوسرے سے بہتر تعلقات اہم ہیں۔ یہ ہی اہم سیاسی ترجیح ہونی چاہیے۔ خطہ کی سیاست میں ایک بڑا نکتہ پاک بھارت تعلقات ہیں۔ ان تعلقات کا مثبت ا ثر پورے خطہ کی سیاست سے جڑ ا ہوا ہے۔
لیکن بدقسمتی سے اس وقت دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں بہتری تو کجا بلکہ ہر سطح پر بات چیت کے سیاسی دروازے بھی بند ہیں۔پاکستان نے مذاکرات کی بحالی کے لیے پچھلے چند برسوں میں جو بھی آپشن اختیار کیے ان کا کوئی مثبت جواب نہ مل سکا۔بھارت سمجھتا ہے کہ مذاکرات کی بحالی پاکستان کو فائدہ دے گی، یہ ہی وجہ ڈیڈ لاک کی وجہ ہے۔
بنیادی نکتہ یہ ہی ہے کہ کیا بھارت پاکستان کو مستحکم اور اپنے ساتھ بہتر تعلقات کی صورت میں دیکھنا چاہتا ہے؟ اس وقت اگر ہم بھارت اوربالخصوص نریندر مودی کی حکومت کو دیکھیں تو اس کی سیاسی سوچ اور فکر بنیادی طو رپر پاکستان مخالفت کی بنیاد پر کھڑی ہے۔مودی حکومت نے جو بیانیہ داخلی او رخارجی محاذ پر اختیار کیا ہوا ہے وہ پاکستان مخالف پر استوار ہے۔ وہ عالمی دنیا میں چار باتوں پر پاکستان کا بیانیہ بیان کرتا ہے۔ اول پاکستان دہشت گردی او رانتہا پسندی میں حقیقی اقدامات کی بجائے محض عالمی دباؤ کم کرنے کے لیے مصنوعی اقدامات سے آگے بڑھ رہا ہے۔ دوئم ایف اے ٹی ایف پر بھی اس کے اقدامات میں جان نہیں بلکہ غلط معلومات او راعدادوشمار کی بنیاد پر عالمی دنیا کو گمراہ کیا جارہا ہے۔ سوئم پاکستان دہشت گردی اور دہشت گردوں کو بطور پر ہتھیار نہ صرف استعمال کرتا ہے بلکہ بھارت کی داخلی سیاست کا جو انتشار یا دہشت گردی ہے اس کے پیچھے بھی پاکستان ہے۔چہارم وہ اپنے اورعالمی میڈیا، تھنک ٹینک، رائے عامہ تشکیل دینے والے افراد یا ادارے اور سوشل میڈیا کو بنیاد بنا کر پاکستان مخالفت کی جنگ میں نہ صرف شدت پیدا کررہا بلکہ پروپیگینڈا مہم کو بطور ہتھیار استعمال کرتا ہے۔
حال ہی میں ای یو ڈس انفولیب کی تحقیقی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بھارت بطور ریاست وحکومت جعلی خبروں کو بنیاد بنا کر یورپی یونین او راقوام متحدہ کو اپنے بیانیہ کے حق میں گمراہ کرنے کہ منصوبہ پر عمل پیرا ہے۔اس تحقیق کے مطابق ”ائی یو کرائیکل ویب سائٹ“ کو پاکستان مخالفت میں بطور ہتھیار استعمال کیا جارہا ہے۔ ویب سائٹ پر شائع ہونے والے بہت سے کالم یورپی قانون سازوں اور صحافیوں کے ناموں سے غلط طور پر منسوب کیے جاتے ہیں۔ایسے مواد کو جو پاکستان مخالفت پر ہوتا ہے اسے دوبارہ بھارت کے اخبارات و رسائل میں نمایاں طور پر شائع کیا جاتا ہے۔اس تحقیق کے مطابق بھارتی ادارہ ”سری واستو“ اس منصوبے کی پشت پناہی کررہا ہے او ریہ تنظیم بھارتی مفادات کو آگے بڑھاتی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس تحقیقی رپورٹ کے مطابق ایک مردہ پروفیسر، کئی غیر فعال تنظیمیں اور 750کے قریب مقامی میڈیا کی تنظیموں کی مدد سے بھارت دس انفارمیشن، بھارتی مفادات او رپاکستان مخالفت کی بنیاد پر کام کررہا ہے۔اس سے ہٹ کر اگر دیانت داری سے کوئی بھی فرد بھارت کے رسمی میڈیا جس میں پرنٹ، الیکٹرانک او رسوشل میڈیا کا تجزیہ کرے تو اس میں پاکستان کے میڈیاکے مقابلے میں زیادہ شدت، نفرت، غصہ اور پاکستان دشمنی کا رنگ نمایاں نظر آتا ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں ففتھ جنریشن وار یا ڈیجیٹل میڈیا یا سوشل میڈیا وار ایک بڑا سیاسی ہتھیار ہے جو ہمارے خلاف بڑی شدت سے استعمال ہورہا ہے جو بھارتی سیاسی حکمت عملی کا خاصہ ہے۔
بھارت کے سامنے ایک بڑا چیلنج سی پیک کی کامیابی اور افغان امن کی بحالی بھی ہے۔ بھارتی قیادت ایک سے زیادہ مرتبہ یہ اعتراف کرچکی ہے کہ اسے سی پیک موجودہ صورتحال میں قبول نہیں او روہ افغان امن کو بھی اپنے لیے ایک بڑا خطرہ سمجھتی ہے۔یہ ہی وجہ ہے کہ ان دونوں محاذ پر ہمیں ناکامی سے دوچار کرنا یا بڑی مشکلات کو پیدا کرنا بھی بھارت کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔اس وقت ایف اے ٹی ایف میں اس کی پوری کوشش ہے کہ پاکستان کو ہر صورت میں بلیک لسٹ میں شامل کیا جائے او راگر یہ ممکن نہ ہوتو کم ازکم وہ گرے لسٹ کا حصہ رہے۔بھارت کی پوری کوشش ہوتی ہے کہ وہ سفارت کاری یا ڈپلومیسی کے محاذ پر پاکستان کو زیادہ سے زیادہ سیاسی تنہاہی میں رکھا جائے۔بھارت کی مشکل یہ بھی ہے کہ حالیہ ایک برس میں اسے سب سے زیادہ کشمیر کے معاملے پر عالمی میڈیا کے سامنے کافی پسپائی کا سامنا ہے۔اس میں بھارت کا اپنا میڈیا مودی کی ناکامی اور عمران خان یا پاکستان کی کامیابی کے طو رپر پیش کرتا ہے۔ایمنسٹی انٹرنیشنل کے بقول صرف ایک برس میں مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی بربریت کی وجہ سے 270افراد کو شہید کیا گیا۔ایمنسٹی کے بقول انتہا پسند ہندووں نے 2100سے زیادہ مسلم لڑکیوں کی شادی ہندوؤں سے کروانے کے لیے بی جے پی کے عسکری ونگ کو ٹاسک دیا گیا ہے۔
حالیہ دنوں میں پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت نے پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی میں بھارت کے ملوث ہونے سمیت مقبوضہ کشمیر میں ریاستی دہشت گردی او رانسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے شواہد عالمی دنیا کے سامنے پیش کیے ہیں۔یہ شواہد ڈویزئر کی صورت میں سلامتی کونسل کے پانچوں مستقل اراکین او راقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو پیش کیے ہیں۔پاکستان بنیادی طور پر ان شواہد کو بنیاد بنا کر دنیا، عالمی میڈیا اور تھنک ٹینک کو اپنے حق میں استعمال کرنا چاہتا ہے۔ہم دنیا کو یہ باور کروانے کی کوشش کررہے ہیں کہ دنیا اس وقت بھارت کے مجموعی کردار کا جائزہ لے او رپاکستان مخالفت میں بھارت بطور ریاست جو کچھ کررہا ہے اس پر نوٹس بھی لے۔
لیکن اس میں ہمیں تین بڑے چیلنجز درپیش ہیں۔ اول ہمیں دنیا کے حکمرانوں اور میڈیا کو یہ باو رکروانا ہے کہ پاکستان نے دہشت گردی، انتہا پسندی اور ایف اے ٹی ایف کے معاملات پر جو سنجیدگی دکھائی ہے اسے ہر سطح پر تسلیم کیا جائے۔ دوئم بھارت جو کچھ مقبوضہ کشمیر میں کررہا ہے اس پر دنیا بھارت پر دباؤ ڈالے کہ وہ نہ صرف پاکستان سے تعلقات کی بہتری میں پیش رفت کرے بلکہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی سمیت تمام معاملات میں بہتری اور منفی اقدامات سے گریز کرے۔سوئم سی پیک او رافغان امن سے جڑے معاملات پر مشکلات پیدا کرنے کی بجائے خطہ کی ترقی، خوشحالی اور توازن پیدا کرنے میں پیش رفت کرے ہم اس کا بھرپور ساتھ دیں گے تاکہ خطہ میں استحکام پیدا ہو۔
لیکن یہ سب کچھ اسی صورت میں ممکن ہوگا جب پاکستان داخلی سیاست سے جڑے مسائل، سیاسی و معاشی استحکام، سفارت کاری یا ڈپلومیسی کے محاذ پر سرگرم اور فعالیت کے عمل کو آگے بڑھائے۔سب سے بڑھ کر ہمیں دنیا میں اس پیغام کو واضح طور پر اور شفاف انداز میں آگے پیش کرنا ہوگا کہ پاکستان ہر صورت میں بھارت سے تعلقات میں بہتری کا خواہش مند ہے۔ ایسے کسی مثبت عمل میں ہم بھارت کا ساتھ دیں گے او راگر کہیں تعلقات کی بہتری میں کوئی رکاوٹ ہے تو اس میں ہم نہیں بلکہ بھارت کا زیادہ کردار ہے۔