اپنےاناڑی ہونے کا اعتراف؟

کہنے والے کی ایک سو ایک باتوں کو کوئی جھوٹ یا غلط کہہ سکتا ہے لیکن اس بات میں شک کی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ ”بغیر تیاری کے حکومت نہیں ملنی چاہیے“۔ انگریزی محاورہ کے مطابق استحقاق کے بغیر خواہش نہ کرو۔

 حکومت و اقتدار تو خیر بڑی چیز ہے سمجھدار انسان کو تو بغیر تیاری کے کسی بھی دوڑ یا کسی بھی امتحان میں شامل نہیں ہونا چاہیئے، ورنہ سوائے رسوائی یا جگ ہنسائی کے کچھ حاصل نہیں ہو تا۔ مثال کے طور پر اگر کوئی یہ کہے کہ غلام رسول ہاکی کا بہت اچھا کھلاڑی ہے۔ یہ ہاکی کا بڑا کپ جیت چکا ہے، کھلاڑی کی حیثیت سے اس کی عالمی شہرت ہے، خدا نے اس کو مال و دولت سے بھی بہت نواز رکھا ہے، کسی چیز کی اس کے پاس کمی نہیں ہے، انگلینڈمیں رہ کر بھی یہ مزے کی زندگی گزار سکتا ہے اور دیکھیں یہ بزرگی میں بھی کیا ہینڈ سم ہے۔ اس کی اتنی زیادہ خوبیاں دیکھتے ہوئے آپ اپنی آنکھوں یا دل کا آپریشن اس سے کروا لیں گے؟

 ایمان سے کہئے کیا کوئی گنوار سے گنوار شخص بھی اس کیلئے آمادہ ہو جائے گا؟ چلیں آنکھ یا دل کا آپریشن تو ایک ٹیکنیکلی مشکل کام ہے اور اس میں انسانی زندگی کا ایشو ہے۔ اس کو رہنے دیں۔ آپ اس عالمی شہرت یافتہ خوبصورت آدمی سے اپنی خراب گاڑی کا انجن اوور ہال کروا لیں آپ تمام تر اپنائیت اور ہمدردی کے باوجود یہ رسک بھی نہیں لیںگے کیوں؟ اس لئے کہ یہ اس کی فیلڈ نہیں ہے۔ غلام رسول کی ہاکی میں جتنی بھی مہارت ہے اور جو بھی شہرت ہے، محض اس کی بنیاد پر کوئی بھی سمجھ دار آدمی اسے بینک منیجر یا پنجابی کا ٹیچر بھی نہیں رکھے گا۔

اگر کہا جائے کہ اسے اپنے گھر میں بطور ڈرائیور ہی رکھ لیں تو پوچھا جائے گا کہ کیا اس کو ڈرائیونگ آتی ہے؟ اس نے پہلے کہیں ڈرائیوری کی ہے؟ جواب ملے کہ جی ہاں پہلے اس نے پختون خطے میں پانچ سال ڈرائیوری تو کی ہے۔ زیادہ نہیں غلطی سے بس چار پانچ ایکسیڈنٹ کروا بیٹھا تھا۔ اب اگر آپ کو اپنی اور اپنے گھر والوں کی زندگیوں سے پیار ہے تو آپ بھائی جان غلام رسول کو تمام تر خوبیوں کے باوجود اسلام آباد میں ڈرائیور کی نوکری نہیں دیں گے۔ دنیا جہاں میں کوئی بھی فیلڈ ہو آپ اس میں نیچے سے اوپر جاتے ہیں۔ سیاست میں آنے کا ارادہ ہے تو بھی پہلے کسی سیاسی جماعت میں شامل ہو کر مختلف ذمہ داریوں پر کام کرتے ہیں۔ اس کے اسرار سمجھتے ہیں۔ ہم امریکا جیسے ملک کی مثالیں دیتے ہیں وہاں بھی لوگ کتنی چھانٹیوں سے گزرنے کے بعد آگے بڑھتے ہوئے اوپر آتے ہیں۔ لیکن اگر کوئی شخص تجربے کے لحاظ سے یونین کونسل کا چیئرمین بھی نہ رہا ہو، عالم بالا سے ڈائریکٹ چیف ایگزیکٹو کی پوسٹ پر تعینات کر دیا جائے تو پھر حالات ایسے ہی ہوں گے کہ آپ بھی شرمسار ہو اور لانے والے کو بھی شرمسار کر۔

کتنی بڑی سچائی بولی گئی ہے کہ باہر سے جو دیکھ رہے تھے اندر آ کر بہت مختلف نکلا۔ تین ماہ تو صرف معاملات سمجھنے میں ہی لگ گئے ڈیڑھ سال تک اعداد و شمار کا ہی پتہ نہیں چل رہا تھا۔ کھلاڑی تو خیر کھلاڑی ہوتے ہیں، آپ ناتجربہ کار پڑھے لکھے شاعر ادیب پر کسی انڈسٹری یا کاروبار کی ذمہ داری ڈال دیں بیچارے کو رات بھر نیند نہیں آئے گی، الجھ کر رہ جائے گا۔ اس لئے سیانے کہتے ہیں کہ جس کا کام اسی کو ساجھے۔ انسان کو اتنا ہی بوجھ اٹھانا چاہیے جتنی اس کی سمجھ اور سکت ہو۔

ہم تو ماقبل خود یہ تسلیم کر چکے ہیں کہ خدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے جو اس نے ہمیں 2013 کے معرکے میں شکست دلوا دی ورنہ بغیر کسی تیاری کے اگر ہمیں اس بڑی ذمہ داری پر فائز کر دیا جاتا تو بری طرح ناکام ہو جاتے۔ ہم تو پیہم پہلے بھی یہ کہتے رہے ہیں اگر اوپر بیٹھا ایماندار ہو تو نیچے بے ایمانی نہیں ہو سکتی۔ اورپھر دور دور تک سب نے دیکھا کہ ہمارے نیچے بلکہ ہماری ناک کے نیچے کیسے کیسے سیکنڈل اور ڈرامے ہوئے۔ پختون خطے میں ہمارے اچھے بھلے ذمہ داران نے کیا کیا گل نہیں کھلائے۔ درجنوں ممبران اسمبلی نے کس کس طرح اپنی قیمتیں نہیں لگوائیں اور اب آٹا چینی جیسی بنیادی ضروریات پر ہمارے زیر سایہ کیسے کیسے مافیاز نمودار نہیں ہوئے۔

ہمیں ایک قدم آگے بڑھاتے ہوئے کھلے بندوں یہ تسلیم کر لیناچاہیے کہ اس سب میں ہماری ناتجربہ کاری کا کتنا رول ہے۔ ہمارے سارے اندازے اور تخمینے وقت نے غلط ثابت کر دیے۔ ہم تو تصور کی آنکھ سے اپنے ساتھ دو سو ماہرین کی ٹیم دیکھ رہے تھے، ہم نے تو سمجھا کہ پھول کھلے چن چن کے دیکھا تو کانٹے ملے۔ ہمارا ایمان تھا کہ ایک کروڑ نوکریاں اور پچاس لاکھ گھر بنادینا، چنداں مشکل نہ ہو گا۔ لوگ نوکریاں لینے بیرون ملک سے یہاں دوڑے چلے آئیں گے۔ سمندر پار پاکستانیوں کی مدد سے یہاں ڈالروں کی بارش ہو جائے گی۔ اسی لئے ہم خودکشی کر لیں گے مگر آئی ایم ایف میں نہ جائیں گے۔ مگر الٹی ہو گئیں سب تدبیریں کچھ نہ خوابوں نے کام کیا۔

ڈالر ہم نے کسی کے منہ پر کیا مارنے تھے جنہوں نے دیے تھے، انہوں نے بھی آنکھیں پھیر لیں اور واپسی کے تقاضے شروع کر دیے۔ ہم تو کٹے ، کٹیوں، بھینسوں، مرغیوں اور انڈوں کے ذریعے یہاں خوشحالی آتے دیکھ رہے تھے۔ ہم تو بلین ٹریز کے ذریعے یہاں سبز باغ دیکھ اور دکھا ہے تھے مگر افسوس کہ پچھلی حکومتیں کتنی غلط تھیں۔ نہ جانے انہوں نے کن مصنوعی طریقوں سے ڈالر کو کنٹرول کر رکھا تھا جواب کسی طرح ہمارے کنٹرول میں نہیں آرہا۔ سونا ملکی تاریخ کے تمام ریکارڈ توڑتے ہوئے اس قدر مہنگا کیوں ہو گیا ہے؟

ہم تو بہت کوشش کر رہے ہیں کہ کسی طرح مہنگائی کا جن قابو میں آ جائے اس کے لیے کون کون سی مناجات و تسبیحات ہیں جو ہم نے پڑھ نہیں ڈالی ہیں لیکن نہ جانے کیوں ہماری ہر تدبیر الٹی کیوں ہو جاتی ہے۔ جن کو ہم چپڑاسی رکھنا نہیں چاہتے تھے وہ داخلہ پالیسیوں کے ہیڈ بن رہے ہیں۔ جن کو ہم ڈاکو قرار دیتے تھے، کیسی الٹی گنگا چلی ہے کہ ہم ان کے بڑے بھائی کو یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ آپ ہمیں وہی سمجھیں، اسی نظر سے دیکھیں۔ غیروں کو جو ناپسندیدگی آٹھ دس سالوں پر ملتی تھی آخر محض ڈھائی سالوں میں وہ ہمارا مقدر کیوں بن رہی ہے؟

داخلی الجھنوں کا رونا کیا روئیں خارجی محاذ پر ہمیں جس پسپائی کا سامنا ہے، اس کا تو ہم نے کبھی خواب میں بھی نہ سوچا ہو گا۔ جن کی ڈرائیونگ کو ہم نے فخریہ اعزاز کے ساتھ قبول کر لیا تھا، آخر ایسی کون سی ناتجربہ کاری ہے جو انہوں نے بھی ہمیں مشکل گھڑی میں آنکھیں دکھا دی ہیں۔ اب ہمارے لئے اس کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا ہے کہ ہم سارا غصہ اپنے ازلی دشمن پر ڈال کر دل کی بھڑاس نکالیں۔