سینیٹ الیکشن اوپن بیلٹ سے کروانے کے لئے سپریم کورٹ میں ریفرنس
- بدھ 23 / دسمبر / 2020
- 4000
وفاقی حکومت نے صدر مملکت کی منظوری کے بعد سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ کے ذریعے کرانے کے لیے سپریم کورٹ میں دائر کیا ہے۔
سپریم کورٹ سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ کے ذریعے کرانے پر رائے مانگی گئی ہے۔ ریفرنس میں کہا گیا ہے کہ آئینی ترمیم کے بغیر الیکشن ایکٹ کے سیکشن 122(6) میں ترمیم کرنے کی رائے دی جائے۔ ریفرنس میں کہا گیا ہے کہ خفیہ انتخاب سے الیکشن کی شفافیت متاثر ہوتی ہے۔ اس لیے سینیٹ کے انتخابات اوپن بیلٹ کے ذریعے منعقد کرانے کا آئینی و قانونی راستہ نکالا جائے۔
پریس انفارمیشن ڈپارٹمنٹ سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے آئین کے آرٹیکل 186 کے تحت سپریم کورٹ میں ریفرنس بھجوانے منظوری دے دی تھی۔ صدر نے وزیرِ اعظم کی تجویز پر سینیٹ کے الیکشن اوپن بیلٹ یا شو آف ہینڈز کے ذریعے کرانے کے عوامی اہمیت کے معاملے پر سپریم کورٹ کی رائے مانگی ہے۔
بیان کے مطابق سپریم کورٹ کو ارسال کردہ ریفرنس میں آئین میں ترمیم کئے بغیر الیکشن ایکٹ 2017 کی دفعہ 122 (6) میں ترمیم کرنے پر عدالت عظمیٰ کی رائے مانگی گئی ہے۔ خیال رہے کہ 15 دسمبر کو وفاقی حکومت نے سینیٹ انتخابات فروری میں کروانے اور اوپن بیلٹ کے سوال پر سپریم کورٹ سے مشورہ لینے کا فیصلہ کیا تھا۔
سینیٹ کے 52 ارکان 11 مارچ کو ریٹائر ہوں گے۔ کابینہ اجلاس کے دوران آئین کی دفعہ 186 کے تحت سپریم کورٹ کی رائے حاصل کرنے کی تجویز اٹارنی جنرل پاکستان خالد جاوید خان نے دی تھی۔ کابینہ کو بریفنگ دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اگر الیکشن کمیشن کے شیڈول کردہ انتخابات کے انعقاد سے قبل ایک آرڈیننس کے ذریعے الیکشن ایکٹ 2017 کی دفعہ 112(6) میں ترمیم کردی جائے تو سینیٹ انتخابات خفیہ بیلیٹ کے بجائے کھلے عام رائے شماری کے ذریعے ہوسکیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ معاملہ کی حساسیت کے پیش نظر حکومت آئین کی دفعہ 186 کے تحت سپریم کورٹ میں ریفرنس دائر کرکے اس معاملے پر وضاحت لے سکتی ہے۔ اس سے قبل وزیراعظم نے ایک بیان میں اپنی حکومت کی جان سے سینیٹ انتخابات خفیہ رائے شماری کے بجائے ہاتھ دکھا کر کروانے کی خواہش ظاہر کی تھی۔