ایم کیو ایم مردم شماری کے سوال پر حکومت سے علیحدہ ہو سکتی ہے

  • جمعرات 24 / دسمبر / 2020
  • 5390

متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان نے مردم شماری کے سوال پر اختلاف کے بعد  پاکستان تحریک انصاف کی حکومت سے الگ ہونےکا اشارہ دیا ہے۔

ایم کیو ایم  کے سربراہ پاکستان خالد مقبول صدیقی کا کہنا ہے کہ تمام تحفظات اور وعدوں کے باوجود کابینہ نے یک طرفہ طور پر مردم شماری کی منظوری دے دی۔ مردم شماری کی منظوری کے بعد سڑکوں پر آنے کے سوا ہمارے پاس کوئی راستہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت میں رہ کر احتجاج کا آپشن استعمال نہیں ہوسکتا۔

خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ وزیراعظم نے ایک بھی وعدہ پورا نہیں کیا تو حکومت میں کس لیے رہیں۔ واضح رہے کہ ایم کیو ایم پاکستان نے 2017 کی مردم شماری کو وفاقی کابینہ کی جانب سے منظوری دینے کی مخالفت کی ہے۔  ایم کیو ایم سے تعلق رکھنے والے وفاقی وزیر سید امین الحق نے اس حوالے سے اپنا اختلافی نوٹ جمع کروایا اور کہا کہ  2023 کے انتخابات سے قبل ملک میں نئی مردم شماری کروائی جائے۔

ایم کیو ایم نے حکومت سے یہ بھی مطالبہ کیا  کہ اس مردم شماری پر ایم کیو ایم کراچی سمیت سندھ کے شہری علاقوں میں کی جانے والی نئی حلقہ بندی کو قبول نہیں کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ پچھلی مردم شماری میں دانستہ کراچی اور سندھ کے شہری علاقوں کی گنتی کم کی گئی۔

 مردم شمار ی کے حوالے سے وفاقی وزیر علی زیدی کی سر براہی میں قائم کی گئی کمیٹی میں بھی اس کے رکن سید امین الحق نے ایم کیو ایم کے موقف کو سامنے رکھتے ہوئے اسے مسترد کردیا تھا۔