وزیراعظم سے آرمی چیف، سربراہ آئی ایس آئی کی ملاقات
- جمعرات 24 / دسمبر / 2020
- 4110
سول اور عسکری قیادت نے عوام کے تعاون کے ساتھ ہرقیمت پر ملک کا دفاع یقینی بنانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
وزیراعظم کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم سے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ اور آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹننٹ جنرل فیض حمید نے ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران پاک فوج کے پیشہ ورانہ معاملات، بیرونی اور اندرونی سیکیورٹی سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارت کی جانب سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔ اس موقع پر لائن آف کنٹرول پر بھارتی سیکیورٹی فورسز کی بلااشتعال جارحانہ اقدامات اور جنگ بندی کی خلاف ورزی پر بھی بات کی گئی۔
ٹوئٹر پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ مادر وطن کا دفاع پوری قوم کے تعاون سے ہر قیمت پر یقینی بنایا جائے گا۔ خیال رہے کہ اس ملاقات سے دو روز قبل آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھارتی فوج کو خبردار کیا تھا کہ سرحد پر کسی قسم کی جارحیت کی کوشش کی گئی تو اس کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔
آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے لائن آف کنٹرول کے اگلے مورچوں کا دورہ کیا۔ آرمی چیف کو ایل او سی کی تازہ صورتحال، بھارت کی جانب سے سیز فائر کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جان بوجھ کر شہریوں کو نشانہ بنانے سے متعلق بریفنگ دی گئی، جبکہ بین الاقوامی قوانین و اقدار کے برخلاف اقوام متحدہ کی گاڑی کو ہدف بنانے پر بھی آگاہ کیا گیا۔
اس سے قبل وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے متحدہ عرب امارات میں بین الاقوامی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ بھارت، پاکستان کے خلاف سرجیکل اسٹرائیک کی منصوبہ بندی کررہا ہے۔ ہم بھارت کو بتا دینا چاہتے ہیں کہ ہم اس منصوبے سے آگاہ اور جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔
اتوار کو وزیراعظم عمران خان نے بھارت کی جانب سے اقوام متحدہ کے مبصر گروپ کو نشانہ بنانے کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے عالمی برداری کو واضح کیا کہ اگر بھارت نے پاکستان کے خلاف جعلی آپریشن کیا تو اس کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔