ڈڈیال جھنڈا کیس میں راجہ تنویر احمد کا ٹرائل
مقبول بٹ شہید چوک ڈڈیال سے پاکستان کا جھنڈا اتارنے والے برطانوی کشمیری صحافی و محقق راجہ تنویر احمد کا ٹرائل گرفتاری کے ٹھیک چار ماہ ایک دن بعد ڈدیال کی مجازعدالت میں شروع ہو گیا۔راجہ تنویر احمد کو پاکستان کی ایجنسیوں کی ایما پر اکیس اگست کو ڈدیال پولیس نے گرفتار کیا تھا اور 22دسمبر کو ا اس کا ٹرائل شروع ہو گیا۔
ٹرائل کے ایک دن قبل مجھے برٹش ہائی کمیشن متعین اسلام آباد نے فون کیا کہ انہیں تنویر احمد کی فیملی کی طرف سے شکایت ملی ہے کہ تنویر احمد کو ٹرائل پر حاضر نہیں کیا جائے گا۔ ہائی کمیشن نے مجھے کہا کہ میں جیل انتظامیہ اور پولیس سپرنٹندنٹ سے بات کر کے معلوم کروں کہ کیا وہ کل تنویر کو ٹرائل پر لے جائیں گے یا نہیں۔ میں نے ہائی کمیشن کو جواب دیا کہ یہ عدالت کا کام ہے کہ وہ تنویر احمد کی حاضری کو یقینی بنائے بصورت دیگر ہم ٹرائل کو ادھورا اور نامکمل تصور کر کے اس کے خلاف احتجاج کریں گے۔ جب تک تنویر احمد کا ٹرائل شروع نہیں ہوتا اور تنویر احمد کو عدالت میں جج کے سامنے پیش نہیں کیا جاتا تب تک میں پولیس اور جیل انتظامیہ سے پوچھنے کی حمایت نہیں کرتا۔ اصولی طور پر یہ جواب عدالت کو دینا ہو گا کہ تنویر احمد کو عدالت میں کیوں پیش نہیں کیا گیا۔ یہ پالیسی درست ثابت ہوئی اور دوسرے دن تنویر احمد کو سماعت شروع ہونے سے چند منٹ قبل عدالت میں لاکر عدالتی کاروائی سننے کا پورا موقع دیا گیا۔
ٹرائل کے پہلے دن حکومت آزاد کشمیر کے ایک نمائندہ نے جج کے سامنے اپنا بیان ریکارڈ کرایا جس میں کہا گیا کہ چودہ اگست کی تقریبات کے موقع پر پاکستانی جھنڈا مقبول بٹ شہید چوک پر لگایا گیا تھا جسے اکیس اگست کو تنویر احمد نے اتارا۔ تنویر احمد کواس کی اجازت نہ تھی جس کی وجہ سے تنویر احمد کا یہ اقدام جھنڈے کی توہین کے زمرے میں آتا ہے۔ اس بنا پر تنویر احمد کے خلاف مقامی پولیس کو شکایت کی گئی۔ تنویر احمد کا موقف تھا کہ مقبول شہید تحریک آزادی کشمیر کے بانی ہیں جن کے سر پر کوئی بھی غیر ریاستی جھنڈا لہرانا بنیادی اصولوں کے منافی ہے۔ سماعت کے دوران بنا دعوت اوراجازت جب ایک غیر ریاستی شخص عدالت میں داخل ہوا تو معزز جج نے اس سے پوچھا وہ کون ہے۔ تو اس نے کہا اس کا تعلق پاکستانی انٹیلی جنس سے ہے۔ اس پر معزز جج نے اسے کہا کہ آپ کا نمائندہ یہاں موجود ہے آپ عدالت سے باہر چلے جائیں اور وہ چلا گیا۔
ٹرائل کے ابتدائی مراحل پر تنویر احمد کے وکیل چوہدری محمد محفوظ نے سرکار کی طرف سے پیش ہونے والے گواہ سے سرکاری فرائض کی حدود، مقبول بٹ شہید چوک کی قانونی حیثیت اور جھنڈا لگانے اور اتارے جانے کے واقعات پر سوالات کئے۔ دوران سماعت راجہ تنویر احمد کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے آزاد کشمیر بھر سے قافلے آئے ہوئے تھے جو سماعت کے اختتام تک انتہائی پر امن رہے۔ اس دوران ڈی ایس پی خواجہ محمد قیوم کی معیت میں مقامی پولیس کی حکمت عملی انتہائی دانشمندانہ اور موثر تھی جس سے لگتا تھا کہ ڈدیال پولیس نے اکیس اگست کو راجہ تنویر احمد کی گرفتاری کے طریقہ کار سے پولیس کے خلاف پیدا ہونے والے عوامی رد عمل سے بہت کچھ سیکھا ہے۔
پولیس کو جب بھی قافلوں میں شامل افراد سے کچھ کہنے کی ضرورت محسوس ہوئی تو اس نے براہ راست کسی سے الجھنے کے بجائے قافلہ یکجہتی کے سربراہ کے طور پر راقم یا کسی اور ذمہ دارکی معاونت حاصل کی۔ اس وجہ سے ماحول انتہائی پر امن رہا۔ تنویر احمد کے ساتھ ہونے والی زیادتی پر لوگوں کے جذبات کا اندازہ اس حقیقت سے لگایا جا سکتا ہے لوگ کھوئیرٹہ، باغ، راولپندی، جاتلاں، میرپور اور پرائی سے سردی کے اس عالم میں چار بجے صبح جاگ کر مشہور پل پلاک اکھٹے ہوئے جو ڈویژن میرپور کا سنگھم ہے۔ سب سے بڑے قافلے کھوئیرٹہ اور پرائی سے آئے جبکہ باغ سے جموں کشمیر عوامی ورکرز پارٹی کی نمائندگی سردار عمر اخلاص اور اجمل تیموری کر رہے تھے۔ اور میرپور سے فری تنویر کمپئن کے ساجد جرال، لبریشن لیگ کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر افتخار، لبریشن فرنٹ کے سعد انصاری ایڈووکیٹ، جاتلاں سے لبریشن فرنٹ کے رہنما راجہ محمد صغیر اور محاز رائے شماری کے نمائندہ بھی شامل تھے۔
پانچ گھنٹوں کی سماعت کے بعد اگلی تاریخ 29 دسمبر دی گئی۔ ہمارا موقف ہے کہ تنویر احمد پر بنایا جانے والا مقدمہ آزادی پسندوں کو خوف زدہ کرنے کی ایک غیر سنجیدہ اور غیر دانشمندانہ کوشش اور غلط حکمت عملی کا نتیجہ ہے۔ اس لیے عدالت تنویر احمد کو با عزت بری کرے۔ سماعت کے اختتام پر ہم چند ساتھیوں کو تنویر احمد کے ساتھ ملاقات کا موقع بھی دیا گیا۔ تنویر احمد کی جیل واپسی تک تمام قافلے موجود رہے جنہوں نے اس وقت تنویر احمد کو رہا کرو،کے فلک شگاف نعرے لگائے۔ جب تنویر احمد کو جیل واپس لے جانے کے لیے پولیس گاڈی میں بٹھایا گیا عدالت سے قافلے نکلے، جو بازار میں ایک جلوس کی شکل اختیار کر گئے۔ راقم نے تمام قافلوں کا شکریہ ادا کیا اور تنویر احمد کی رہائی کا مطالبہ کیا۔ سعد انصار ایڈووکیٹ اور سردار عمر اخلاص نے بھی مختصر خطاب کیا فری تنویر کمپئن کے بانیان میں شامل یونس تریابی ے قافلوں کو اپنی رہائش گاہ پر کھانا دیا۔