پاکستان کے صیہونی کون ہیں ؟
- تحریر رضی الدین رضی
- جمعہ 25 / دسمبر / 2020
- 13890
اسرائیل کو تسلیم کرنا یا نہ کرنا ہمارے اختیار میں تو نہیں لیکن اس کے باوجود اس پر بحث جاری رہتی ہے کہ یہ ”لہو گرم رکھنے کا اک بہانہ “ بھی تو ہے ۔
ایک ایسے ماحول میں جب ٹرمپ نے مختلف اسلامی ممالک کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی روابط قائم کروا کے ان پر بہت سی نوازشات کر دی ہیں، پاکستان میں یہ سوال زیر بحث آ رہا ہے کہ ہم اسرائیل کو تسلیم کرکے اپنی ڈوبتی ہوئی معیشت کو سنبھالا کیوں نہیں دے سکتے ؟ جواب بہت واضح ہے کہ یہ ایک جذباتی مسئلہ ہے اور اس حوالے سے کوئی فیصلہ آسان نہیں ہو گا ۔
نامور صحافی اور براڈ کاسٹر آصف جیلانی کی کتاب ” نایاب ہیں ہم ” میں ایک چونکا دینے والا مضمون ” پاکستان کے صیہونی “ کے عنوان سے موجود ہے ۔ اس مضمون میں انہوں نے ان تمام پاکستانی کرداروں کا ذکر کیا ہے جو اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے حامی رہے اور اسرائیل بھی انہیں اپنا دوست سمجھتا تھا ۔ ان میں پہلا نام سر فیروز خان نون کا ہے جنہوں نے بیان دیا تھا کہ ” اسرائیل قائم رہنے کے لیے ہی معرض وجود میں آیا ہے “ ۔ اسرائیل کی حمایت کی وجہ یہ بیان کی گئی کہ ان کی اہلیہ آسٹرین یہودی تھیں ۔
مضمون کے آخری پیراگراف میں آصف جیلانی لکھتے ہیں کہ سر ظفر اللہ خان اور سر فیروز خان نون اسرائیل کے زبردست حامی تھے۔ اور یہ دونوں جب وزیر خارجہ کے منصب پر فائز تھے تو ان دنوں پاکستان کی وزارت خارجہ میں اسرائیل نواز افسروں کی بڑی تعداد موجود تھی۔ یہی وجہ ہے کہ بارہا اسرائیل کو تسلیم کرنے کی تجاویز پیش کی گئیں اور کہا گیا کہ اس کے نتیجے میں پاکستان کے عالمی برادری سے روابط بہتر ہوں گے۔ بلکہ سر فیروز خان نون نے تو اسرائیل کو تسلیم کرنے کا ایسا منصوبہ بھی برطانوی وزیر اعظم چرچل کو پیش کیا تھا کہ جس کے نتیجے میں اسرائیل کو عرب دنیا تسلیم کر لیتی۔ اوراس کا الزام بھی برطانیہ پر نہ آتا ۔ آصف جیلانی نے فیروز خان نون اور سر ظفر اللہ کو پاکستان کا صیہونی قرار دیا ہے ۔
یہ وہ تاریخی حقائق ہیں جو قیام پاکستان سے پہلے اور فوری بعد کے ادوار سے تعلق رکھتے ہیں ۔ آج پون صدی کے بعد ہمیں اس مسئلے پر آج کے تناظر میں غور کرنا چاہیئے کہ ہم دنیا سے الگ تھلگ تو نہیں رہ سکتے اور ایسے وقت میں جب سعودی عرب اور اسرائیل کے خفیہ روابط اور ترکی کے اسرائیل کی جانب جھکاؤ کی خبریں سامنے آئی ہیں، دیکھنا یہ ہو گا کہ کیا پاکستان اسرائیل کے ساتھ روابط کے ذریعے فوائد حاصل کر سکتا ہے ؟ یہ بہر حال ایک نازک فیصلہ ہو گا جس پر سوچ بچار تو جاری ہے ۔
( بشکریہ : روزنامہ سب نیوز اسلام آباد )