مولانا شیرانی اور حافظ حسین احمد کو جمیعت علمائے اسلام سے نکال دیا گیا

  • جمعہ 25 / دسمبر / 2020
  • 5800

جمعیت علمائے اسلام (ف) نے پارٹی فیصلوں سے انحراف کرنے پر مولانا محمد خان شیرانی اور حافظ حسین احمد سمیت 4 رہنماؤں کی پارٹی رکنیت ختم کردی ہے۔

پارٹی کے ترجمان محمد اسلم غوری نے ایک بیان میں کہا کہ مولانا محمد خان شیرانی، حافظ حسین احمد، مولانا گل نصیب خان اور مولانا شجاع الملک کو پارٹی سے نکال دیا گیا ہے۔ مرکزی مجلس شوریٰ کی انضباطی کمیٹی نے مولانا عبدالقیوم ہالیجوی کی صدارت میں یہ متفقہ فیصلہ کیا۔ قائمقام امیر مولانا محمد یوسف کی صدارت میں مرکزی مجلس عاملہ اور صوبائی امرا و ناظمین نے اجلاس میں فیصلے کی توثیق کردی۔

اسلم غوری نے کہا کہ جماعت سے خارج کیے گئے افراد کو فیصلے کی کاپیاں بھجوا دی گئی ہیں اور ان کے بیانات اور رائے کا پارٹی سے کوئی تعلق نہیں ہوگا۔  واضح رہے کہ 21 دسمبر کو جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سینئر رہنما اور اسلامی نظریاتی کونسل کے سابق چیئرمین مولانا محمد خان شیرانی نے کوئٹہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ علما اور قومی زعما جھوٹ ثابت ہوجانے پر بھی نہ شرماتے ہیں نہ ان کے چہرے اور آنکھوں میں کوئی تغیر آتا ہے۔ بلکہ بڑی ڈھٹائی سے کہتے ہیں کہ یہ تو حکمت عملی ہے۔ جب وعدہ خلافی ثابت ہوجائے تو  کہتے ہیں کہ یہ تو سیاست ہے، رات گئی بات گئی۔

مولانا محمد خان شیرانی نے کہا پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کی تحریک مخاصمت برائے مفاہمت ہے تاکہ ان کو بھی حصہ ملے۔ حافظ حسین احمد نے نجی چینل اے آر وائی کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ مولانا فضل الرحمٰن جس اسمبلی کو جعلی کہتے تھے وہاں سے صدارتی الیکشن لڑا اور ان کے بیٹے بھی وہیں موجود ہیں۔

نومبر میں نواز شریف کے بیانیے سے اختلاف کرنے پر جے یو آئی (ف) نے حافظ حسین احمد کو مرکزی ترجمان کے عہدے سے ہٹادیا تھا اور انہیں شوکاز نوٹس جاری کیا تھا۔ حافظ حسین احمد نے نواز شریف کے کوئٹہ میں بیان سے اختلاف کیا تھا۔