اداروں سے جمہوری حکومت ختم کرنے کا مطالبہ مضحکہ خیز ہے: شبلی فراز
- جمعہ 25 / دسمبر / 2020
- 3900
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات شبلی فراز نے کہا ہے کہ اپوزیشن جماعتوں کا اداروں سے ایک جمہوری حکومت کو ختم کرکے انہیں حکومت دینے کا مطالبہ مضحکہ خیز ہے۔
شبلی فراز نے اسلام آباد میں وفاقی وزیر امور کشمیر علی امین گنڈاپور کے ہمراہ پریس کانفرنس میں اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے صدر مولانا فضل الرحمٰن پر الزامات عائد کئے۔ انہوں نے کہا کہ ان جماعتوں کا اداروں سے مطالبہ ہے کہ ایک جمہوری حکومت کو ہٹا کر ان کو حکومت میں لے آئیں۔ اس کے بعد نیوٹرل ہوجائیں جو ایک مضحکہ خیز بات ہے۔
جس جمہوری حکومت کو ہٹانے کا مطالبہ کرتے ہیں وہ ایک شفاف انتخابات کے ذریعے وجودمیں آئی ہے۔ جس کی گواہی عالمی اداروں اور فافین نے بھی دی۔ شبلی فراز نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف نے 2013 کے انتخابات کے حوالے سے ایک تحریک چلائی تھی جو قانونی اور جمہوری طور سے ختم ہوئی تھی۔ ہمارا مطالبہ تھا 4 حلقوں کو کھولا جائے اور اسی کی بنیاد پر وہ 4 حلقے کھولے گئے جہاں دھاندلی ثابت ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ ان کے پاس دھاندلی کے کیا ثبوت ہیں، اگر ثبوت ہیں تو پیش کریں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ آج ایک اہم سیاسی پیش رفت ہوئی ہے کیونکہ جو شخص اس تحریک کی سربراہی کر رہا ہے اور اس کی پارٹی کے اندر اس کے خلاف تحریک شروع ہوئی ہے۔
اس موقع پر علی امین گنڈاپور نے کہا کہ میں نے کچھ دن پہلے مولانا فضل الرحمٰن سے چند سوالات پوچھے تھے لیکن انہوں نے جواب نہیں دیا۔ تاہم اداروں کی جانب سے بھیجے گئے سوال نامے پر انہوں نے دھمکیاں دی ہیں کہ پوری جماعت جاکر اداروں کا گھیراؤ کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ رویہ سمجھ سے بالاتر ہے۔ یہ کیا طریقہ ہے کہ ایک شخص قانون سے بالاتر ہوچکا ہے لیکن میں پیغام دیتا ہوں کہ مولانا فضل الرحمٰن قانون سے بالاتر نہیں ہوئے اور آپ کو حساب دینا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ اسلامی نظریاتی کونسل کے سابق چیئرمین اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سینئر رہنما مولانا محمد خان شیرانی نے بھی سوالات اٹھائے ہیں، قوم ان کا جواب بھی چاہتی ہے۔ چند دنوں میں ان کی اربوں روپے کی مزید جائیدادوں کے ثبوت پیش کروں گا۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ ان کی بے نامی جائیدادوں کے ثبوت مل رہے ہیں جو اربوں روپے میں ہے۔
شبلی فراز نے صحافیوں پر زور دیا کہ وہ مولانا فضل الرحمٰن سے ان سوالوں کے جواب مانگیں۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ پی ڈی ایم دم توڑ رہی ہے کیونکہ ان کے تضادات سامنے آگئے ہیں۔
جمعیت علمائے اسلام کو کمزور کرنے کے لیے حکومت کی کوششوں کے تاثر سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ یہ تاثر بالکل غلط ہے کہ ہم نے کچھ کیا ہے۔ ہم عوام کو بتانا چاہتے ہیں کہ پی ڈی ایم کی صدارت ایک ایسا شخص کر رہا ہے جس کی اپنی گھر میں ہی عزت نہیں ہے۔