مقبوضہ کشمیر میں انتخابات کے بعد گرفتاریوں کا سلسلہ شروع

  • ہفتہ 26 / دسمبر / 2020
  • 4630

مقبوضہ کشمیر میں ضلع ترقیاتی کونسلز،  پنچایتوں اور شہری بلدیاتی اداروں کے انتخاباتٴ کے بعد پولیس نے گرفتاریوں کا ایک نیا سلسلہ شروع کیا ہے۔

آٹھ مراحل میں کرائے گئے یہ انتخابات گزشتہ ہفتے مکمل ہوئے تھے اور ان میں حزبِ اختلاف کی جماعتوں کی طرف سے قائم کیے گئے اتحاد یپلز الائنس فار گُپکار ڈیکلریشن (پی اے جی ڈی) نے نمایاں کامیابی حاصل کی تھی۔ اس اتحاد کی سب سے بڑی حریف جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی پی اے جی ڈی کی طرف سے مجموعی طور پر جیتی گئی 110 کے مقابلے میں 75 نشستیں حاصل کرکے سب سے بڑی واحد پارٹی کے طور پر ابھری ہے۔

اپوزیشن اتحاد نے کہا ہے کہ لوگوں کی بھاری اکثریت نے اس کے حق میں ووٹ دے کر بھارت کی حکومت کے اُس غیر آئینی فیصلے کو یکسر مسترد کر دیا ہے جس کے تحت اس نے گزشتہ سال کے اگست میں کشمیر کی آئینی حیثیت تبدیل کی تھی۔ اور ریاست کو دو حصوں میں تقسیم کرکے براہِ راست وفاق کے کنٹرول والے علاقوں کا درجہ دیا تھا۔ پولیس نے 22 دسمبر کو ووٹ شماری سے ایک دن پہلے پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنماؤں سمیت 25 کے قریب سیاسی کارکنوں کو حراست میں لیا تھا۔

گزشتہ پانچ دن کے دوران مزید تقریباً 75 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ان میں استصوابِ رائے کا مطالبہ کرنے والی تنظیموں کے اراکین بھی شامل ہیں۔  حراست میں لیے گئے چند افراد کے بارے میں کہا گیا ہے کہ انتظامیہ انہیں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی سفارش پر سخت گیر قانون پبلک سیفٹی ایکٹ  کے تحت نظر بند کرنے کے احکامات جاری کر رہی ہے ۔

حزبِ اختلاف نے ان اقدامات کو مفروضے قرار دیتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ سیاسی کارکنوں کی گرفتاریوں اور نظر بندیوں کے پیچھے بی جے پی اور اس کی مقامی حلیف جماعت 'جموں و کشمیر اپنی پارٹی' ہے۔ جو نو منتخب ممبران کی خرید و فروخت کو آسان بنانے کے لئے کئے جارہے ہیں۔ تاکہ کشمیریوں کی  مزاحمت کو کمزور کیا جائے۔