غیرمحسوس کردار اب پیچھے ہٹ رہے ہیں: مریم نواز

  • ہفتہ 26 / دسمبر / 2020
  • 5310

مسلم لیگ(ن) کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ شہباز شریف اگر اپنے بھائی سے وفادار نہ ہوتے تو وہ وزیر اعظم ہوتے اور پورے پاکستان کو نظر آرہا ہے کہ  غیرمحسوس کردار اب پیچھے ہٹ رہے ہیں۔

لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ آج بی بی شہید کی برسی کے موقع پر ان کے پاس جا رہی ہوں۔ ان کی جمہوریت کے لیے جدوجہد تھی اور انہوں نے اس ملک کے لیے بہادری سے جان دی۔ یہ میرے لیے فخر کا مقام ہے کہ مجھے ان کی برسی میں شامل ہونے کا موقع مل رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ میرا خیال ہے کہ میاں صاحب اور بی بی شہید نے اس ملک کو جو میثاق جمہوریت دیا تھا اس کے بعد پاکستان کی تاریخ تبدیل ہو گئی۔ یہ پاکستان کی تاریخ میں  اہم سنگ میل تھا۔ تمام سیاسی جماعتیں اس کو لے کر آگے بڑھیں گے اور مضبوط بنائیں گے۔

مریم نواز نے کہا کہ پاکستان میں تقسیم بہت زیادہ بڑھ گئی ہے اور پاکستان کو اتحاد اور یکجہتی کی ضرورت ہے۔ ہم سب جماعتیں مختلف ہیں اور پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ میں شریک تمام جماعتوں کے الگ الگ منشور اور نظریات ہیں۔ لیکن پاکستان کی خاطر کچھ چیزوں پر ہم سب اکٹھے ہیں۔

جیل میں شہباز شریف سے پیر پگاڑا کے نمائیندوں کی ملاقات کے حوالے سے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے بھی ہمیں حکومتی وزرا کی جانب سے بھی کئی پیغامات موصول ہوتے رہے ہیں۔ جب ان کو جواب نہیں دیا گیا تو اور لوگوں کو بھیجا جا رہا ہے۔ میں یہ سمجھتی ہوں کہ میاں صاحب نے بہت اٹل فیصلہ  کیا ہے اور مولانا فضل الرحمٰن سمیت پی ڈی ایم میں شامل تمام جماعتیں بھی اس معاملے پر بالکل کلیئر ہیں۔ اس جعلی حکومت سے کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے۔ مذاکرات کی کوشش کرکے یہ پی ڈی ایم سے این آر او مانگ رہے ہیں جو ان کو نہیں ملے گا۔

انہوں نے کہا کہ جب آپ جیل میں ہوتے ہیں تو آپ کو نہیں پتہ ہوتا کہ کون ملاقات کے لیے آنے والا ہے اور اچانک آپ کو بتایا جاتا ہے۔ آپ اس وقت انکار کرنے کی پوزیشن میں اس لیے نہیں ہوتے کیونکہ یہ نہیں پتہ ہوتا کہ جو آ رہا ہے کیا کہنے آ یا ہے۔ یہ بات آنکھیں کھول دینے کے لیے کافی ہے کہ خاندان کو ملنے کی اجازت نہیں دی جاتی لیکن اس طرح کی شخصیات بغیر کسی رکاوٹ کے مل لیتی ہیں اور ان کے لیے راستے بھی کھل جاتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ حکومت دھاندلی کی پیداوار ہے۔ اس کی کارکردگی اتنی بری ہے کہ اگلا الیکشن ووٹ سے تو نہیں لے سکتے۔ 2018 کا نہیں لے سکے تو اتنی بری کارکردگی کے بعد 2023 کا کیسے لیں گے۔ یہ چاہے جتنی بھی کوششیں کر لیں، ناکام ہوں گے اور اس حکومت کو گھر جانا پڑے گا۔ مریم نواز نے کہا کہ یہ شکست خوردہ آدمی کی ذہنیت کی نشانی ہے کہ کوئی پی ڈی ایم لیڈر جلسے میں نہیں پہنچا تو امید لگا کر بیٹھ گئے کہ شاید دراڑ پڑ گئی ہو۔ یہ ایسے شخص کی ذہنیت ہے جس کو پتہ ہے کہ میں جا رہا ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ شہباز شریف اپنے بھائی اور پارٹی کے ساتھ بہت وفادار ہیں۔ اگر وہ وفادار نہ ہوتے، اگر دھوکا دیتے تو اس نالائق کو وزیر اعظم بنانے کی ضرورت نہ پڑتی، وہ وزیر اعظم ہوتے۔ شہباز شریف اپنے بھائی اور پارٹی کے وفادار ہیں۔ انہوں نے ساری ایسی پیشکشوں کو ٹھکرایا جس کا ثبوت یہ ہے کہ آج وہ اپنے بیٹے سمیت جیل بھگت رہے ہیں۔

ایک اور سوال کے جواب میں مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر نے کہا کہ کوئی استعفے دینے سے دستبردار نہیں ہو رہا۔  پارٹی کا حکم ہے کہ 31دسمبر تک اپنے استعفے پارٹی قیادت کو جمع کرائیں۔ پارٹی قیادت اور پی ڈی ایم جب فیصلہ کرے گی کہ اسپیکر کو استعفے جمع کرانے ہیں، تو وہ پارٹی خود کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ 160 میں سے 159 صوبائی اراکین اسمبلی کے استعفے مجھے موصول ہو گئے ہیں اور ایک استعفیٰ اس لیے نہیں آیا کہ وہ خاتون وینٹی لیٹر پر ہیں۔ اسی طرح قومی اسمبلی کے بھی 95فیصد استعفے مجھے موصول ہو گئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی یہ امید لگا بیٹھا ہے کہ لوگ پیچھے ہٹ رہے ہیں تو وہ خود کو بہت بے وقوف بنا رہا ہے۔ کیونکہ اب لوگ تحریک انصاف نہیں بلکہ مسلم لیگ(ن) اور پی ڈی ایم کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ ہمارے سارے اراکین اور پی ٹی آئی کے اراکین کو بھی پتہ ہے کہ تحریک انصاف کا مستقبل نہیں ہے۔ مریم نواز نے کہا کہ اگر کوئی اس خام خیالی میں ہے کہ جماعت کے لوگوں کو توڑ لے گا تو وہ غلط ہے۔ ابھی انہوں نے جمعیت علما اسلام(ف) کے لوگوں کو توڑنے کی کوشش کی تو وہ بیک فائر ہوا۔

انہوں نے کہا کہ صرف مجھے نہیں بلکہ پورے پاکستان کو غیرمحسوس کردار نظر آ رہے ہیں اور پورے پاکستان کو یہ بھی نظر آ رہا ہے کہ غیرمحسوس کردار اب پیچھے ہٹ رہے ہیں۔