اپوزیشن بھارت کی زبان استعمال کررہی ہے: عمران خان

  • ہفتہ 26 / دسمبر / 2020
  • 4140

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ جس طرح حزب اختلاف کی سیاسی جماعتوں نے فوج پر حملہ کیا ہے ایسا تاریخ میں پہلے کبھی نہیں ہوا۔ اپوزیشن وہ زبان استعمال کررہی ہے جو انڈیا کی پروپیگنڈا مشین پاکستان کے خلاف استعمال کرتی ہے۔

انہوں نے اپوزیشن جماعتوں کے سیاسی اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ انڈیا کی جعلی نیوز سائٹس  پی ڈی ایم کو بھی فروغ دے رہی تھیں۔  کئی ایسے صحافی بھی ہیں جو اس ڈس انفارمیشن کا حصہ تھے اور پی ڈی ایم کو سپورٹ کرتے تھے۔ چکوال میں متعدد تعمیراتی منصوبوں کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ  یورپی یونین کی ڈس انفو لیب نے انکشاف کیا کہ انڈیا نے 700 جعلی نیوز ویب سائٹس بنا رکھی تھیں اور اس کا مقصد پاکستان کو دنیا کے سامنے منفی انداز میں پیش کرنا تھا۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ اس مہم میں خاص طور پر پاکستانی فوج کو ہدف بنایا گیا کیونکہ انڈیا چاہتا ہے کہ پاکستانی فوج کمزور ہو۔ انہوں نے کہا اپوزیشن کا الزام ہے کہ الیکشن میں فوج نے دھاندلی کروائی اس لیے حکومت سلیکٹڈ ہے۔ لیکن کوئی ان سے پوچھے کہ اگر انتخابات میں دھاندلی ہوئی ہے تو کیا آپ الیکشن کمیشن، سپریم کورٹ یا پارلیمنٹ میں آئے اور آپ نے کسی فورم پر کہا کہ دھاندلی ہوئی ہے۔

عمران خان نے کہا کہ امریکی صدارتی انتخاب کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ جب ری پبلکن پارٹی نے کہا کہ دھاندلی ہوئی ہے تو میڈیا پہلے کہتا تھا کہ انہوں نے ابھی تک کوئی ثبوت نہیں دیے۔ اپوزیشن نے نہ دھاندلی کے کوئی ثبوت دیے نہ کسی فورم پر گئے اور پاکستانی فوج پر حملہ کرنا شروع کردیا۔ خود کو جمہوریت پسند کہلانے والے کہتے ہیں کہ جمہوری حکومت گرا دو۔ اپوزیشن کا صرف ایک مطالبہ ہے کسی طرح انہیں این آر او دے دیں۔

مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز اور پیپلز پارٹی کے چیرمین بلاول بھٹو زرداری پر تنقید کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ کوئی ان سے پوچھے کہ آپ دونوں کی اہلیت کیا ہے؟ دونوں نے زندگی میں ایک گھنٹہ کام نہیں کیا اور ملک چلانے جارہے ہیں۔ ان دونوں کا تجربہ یہ ہے کہ یہ بڑی شان و شوکت سے پلے بڑھے ہیں۔