کیا فوج پر حکومت کی اجارہ داری ہے؟

وزیر اعظم عمران خان نے چکوال میں اور مسلم لیگ (ن)  کی  نائب صدر مریم نواز نے سکھر میں اجتماعات سے خطاب کیا ہے۔ دونوں رہنماؤں  کے اختلافات سے قطع نظر ان  میں یہ دلچسپ مماثلت محسوس کی گئی ہے  کہ دونوں نے پاک فوج کو موضوع گفتگو بنایا ہے۔ عمران خان کا کہنا ہے اپوزیشن فوج پر الزام تراشی کرکے بھارت کی زبان بول رہی ہے جبکہ مریم نواز نے واضح کیا ہے کہ  عمران خان کی حکومت کو گھر بھیجنے کے لئے اپوزیشن کو فوج  کی مدد درکار نہیں ہے۔

سیاسی تقاریر میں ملک کے عسکری اداروں کے  بارے میں تسلسل سے گفتگو کا طریقہ کسی بھی طرح ملکی سلامتی،  قومی یکجہتی اور اداروں کو سیاست سے علیحدہ رکھنے کے حوالے سے درست نہیں ہے۔ اس  بارے میں  اپوزیشن اور حکومت کا مؤقف واضح ہے۔ نواز شریف کی سرکردگی میں اپوزیشن  دعویٰ کرتی ہے کہ   بعض  فوجی عناصر ملکی سیاست میں مداخلت کرتے ہیں جس کی وجہ سے  ایسی حکومت  لائی  گئی ہے جو دھاندلی شدہ  انتخابات کے ذریعے برسر اقتدار آئی ہے۔ نواز شریف نے تو دو  آن ڈیوٹی جرنیلوں کے نام بھی لئے ہیں لیکن اپوزیشن عام طور سے  اسٹبلشمنٹ کا حوالہ دیتے ہوئے ملکی سیاست میں اداروں کی مداخلت اور عوامی رائے پر اثر انداز ہونے کی  کوششوں کا ذکر کرتی ہے۔ اب تو  نوبت  یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ نام لینے یا نہ لینے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ یہ معاملہ اب واضح ہے کہ ملک کا موجودہ سیاسی بحران جو بظاہر  ذاتی لڑائی  دکھائی دیتا ہے، درحقیقت  اس میں اس اصول پر بحث کی جارہی ہے کہ  انتخابات کے ذریعے منتخب ہونے والی اسمبلیاں قومی اہمیت کے فیصلے کرنے میں کس حد تک آزاد ہوسکتی ہیں۔

ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ ان معاملات کو  منتخب پارلیمنٹ میں زیر بحث لاکر  عسکری اداروں اور منتخب   حکومت کے باہم تعلق کے بارے میں  بنیادی اصول طے کرلئے جاتے ۔   اس طرح  الزام تراشی کی نوبت بھی نہ آتی، کسی لیڈر کو نام لے کر اپنا مؤقف بھی واضح نہ کرنا پڑتا اور اس پر اتفاق بھی ہوجاتا کہ ملک کے عسکری ادارے مشترکہ قومہ ورثہ ہیں جن پر کسی ایک پارٹی، سیاست دان یا فرد کی اجارہ داری  نہیں ہے۔  تاہم اس اقدام کے لئے جس سیاسی بلوغت اور  جمہوری  مزاج کی ضرورت ہے، وہ پاکستان میں ناپید ہے۔ عمران خان اب یہ شکوہ ضرور کررہے ہیں کہ  اپوزیشن نے  انتخابی دھاندلی کا معاملہ  پارلیمنٹ میں نہیں اٹھایا لیکن  حقیقت یہ ہے کہ  2018  میں انتخابات سے پہلے ہی  پراسرار طریقے دکھائی دینے لگے تھے۔  ’محکمہ زراعت‘ کے نام سے موسوم حلقوں نے سرگرمی دکھائی اور پھر ملک کے  بااثر الیکٹ ایبلز کو یک بیک یہ  نظر آنے لگا کہ ملک کی نجات کا راستہ صرف بنی گالہ سے ہوکر گزرتا ہے  ۔ اس صورت میں یہ نوشتہ دیوار تھا کہ اقتدار کا ہما انتخابات کے بعد کس کے سر پر بیٹھے گا۔

عمران خان کو بطور سیاست دان، پارٹی لیڈر یا وزیر اعظم کی حیثیت میں اس پر کوئی شرمندگی بھی نہیں ہے ۔  وہ  22 سالہ جد و جہد کو اپنی سیاسی کامیابی کی وجہ قرار دیتے ہیں لیکن ان کی کامیابی دو وجوہات کی بنا پر ممکن ہوپائی تھی۔ ایک  یہ کہ عمران خان نے  کرکٹر اور سوشل ورکر کے طور پر حاصل ہونے والی سٹار ڈم اور شہرت کو  اپنی سیاسی مقبولیت کا ذریعہ بنایا ۔ تاہم اس میں انہیں اسی وقت کامیابی نصیب ہوئی جب  انہوں نے اسٹبلشمنٹ کا تجویز کردہ نسخہ استعمال کرتے ہوئے  ملک کی دو بڑی اہم سیاسی پارٹیوں اور ان کے قائدین پر بدعنوانی کے الزامات اس  طریقے سے عائد کرنا شروع کئے کہ  معاملات سے نابلد ہر شہری کو یہ بات ازبر ہوگئی کہ’  سیاستدانوں نے چوری تو کی ہے‘۔ ایک واہمہ کو یقین میں تبدیل کردینا عمران خان کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔ وہ بدستور لوگوں کے دلوں میں بیٹھے ہوئے اس شبہ کو   پختہ کرنے کے لئے زور بیان صرف کرتے رہتے ہیں۔ عوام کی  بڑی تعداد  سیاست دانوں  کے ناجائز  ہتھکنڈوں    کو اپنی محرومیوں کا سبب سمجھنے پر ایمان لے آئی۔

  عمران خان کی کامیابی کی دوسری وجہ انتخابات سے پہلے تحریک انصاف کو  ہر لحاظ سے طاقت ور بنانا تھا۔ اس مقصد کے  لئے دہائیوں پرانے طریقے اختیار کئے گئے۔ بلوچستان میں ’باپ‘   کا قیام دیکھنے میں آیا جنوبی پنجاب میں سرائیکی صوبہ کے حامیوں نے  اپنی اصل پارٹیوں کو چھوڑ کر   فرنٹ بنالیا جو بعد میں تحریک انصاف کا حصہ بن گیا۔  سندھ میں ایم کیو ایم  کی توڑ پھوڑ کے بعد سرکار نواز ایم کیو ایم پاکستان  برآمد ہوئی یا دیگر چھوٹی پارٹیوں کو ایک  اتحاد میں شامل کروا دیا گیا، پنجاب میں  چوہدری برادران کی سرکردگی میں  مسلم لیگ (ق) کو تحریک انصاف کی حمایت پر راضی کیا گیا اور رہی سہی کسر آزاد ارکان کو ہانک کر عمران خان کی چھتری تلے  لاکر پوری کردی گئی۔   یہ کام کرنے والے خفیہ ہاتھوں کو ہی عرف  عام میں ’اسٹبلشمنٹ‘ کہا جاتا ہے۔ یعنی ملک کی طاقت ور ایجنسیوں کے سیاسی ونگ  حکومت سازی کے لئے گروہ بندی کرنے اور کسی خاص جماعت کو کامیاب کروانے  میں  کردار ادا کرتے ہیں۔   عمران خان کو بہم پہنچنے والی یہی امداد فیصلہ کن ثابت ہوئی ورنہ کرپشن کے نعرے کے باوجود  وہ صرف اپنی مقبولیت کی بنیاد پر  ایسی بڑی انتخابی کامیابی حاصل نہیں کرسکتے تھے کہ    وزیر اعظم  منتخب ہوجاتے۔

اب عمران خان نے شکایت کی ہے کہ  اپوزیشن دھاندلی کے ثبوت تو سامنے نہیں لائی لیکن اس  نعرے کو بنیاد بنا کر  انہیں نامزد وزیر اعظم  کہنے پر اصرار کرتی ہے ۔ چکوال میں انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اپوزیشن نے کسی بھی آئینی فورم پر دھاندلی  کی شکایت نہیں کی اور نہ ہی پارلیمنٹ میں اس معاملہ کو اٹھایا ہے۔ عمران خان کی یہ دلیل حقائق سے مطابقت نہیں رکھتی۔   اپوزیشن کی تمام پارٹیاں انتخابات کے فوری بعد سے دھاندلی کی شکایت کرتی رہی ہیں۔ ان شکایات ہی کہ روشنی میں تحریک انصاف نے ایک پارلیمانی کمیٹی بھی بنائی تھی جو حکومت کی عدم دلچسپی کی وجہ سے  غیر مؤثر رہی ۔  وزیر اعظم بھی جانتے ہیں کہ معاملہ  ثبوت یا مناسب فورم کا نہیں ہے بلکہ   سیاسی طریقہ کار   کا ہے۔  اس حوالے سے دو پہلو اہم ہیں۔ ایک:  اپوزیشن نے دو اڑھائی  برس تک تمام پارلیمانی فورمز پر حکومت کے ساتھ ورکنگ ریلیشین شپ قائم کرنے کی کوشش کی لیکن عمران خان  نے ایک طے شدہ ایجنڈے کے مطابق نیب سمیت تمام  سرکاری اداروں کواپوزیشن لیڈر وں کی گرفت کرنے اور انہیں سرکاری بیانیہ کے مطابق ’چور‘ ثابت کرنے کے کام پر لگادیا۔  رہی سہی کسر  روزانہ کی بنیاد پر بیان بازی نے پوری کردی۔   دوئم: حکومت  کی  کاکردگی انتہائی ناقص رہی  ہے۔ اس بات کا  سب سے بڑا ثبوت خود وزیر اعظم نے یہ کہہ کر فراہم کردیا ہے کہ ان کی حکومت کو پہلے دو سال تو معاملات  سمجھ ہی نہیں آئے۔  گورننس میں   ناکامی کا نتیجہ افراط زر اور بیروزگاری میں شدید اضافہ کی صورت میں دیکھنے میں آیا۔ اس طرح حکومت کا  کرپشن بیانیہ   اپنی موت آپ مرگیا۔

انتخابات کے بعد مولانا فضل الرحمان کا مؤقف تھا کہ انتخابی دھاندلی کی وجہ سے اپوزیشن کے  منتخب اراکین اسمبلیوں کے  حلف نہ اٹھائیں۔  اس طرح  نظام کو جام کردیا جائے اور   مقتدرہ کو کسی سیاسی مفاہمت پر  مجبور کیا جائے۔ مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی نے  بوجوہ اس مشورہ   کو نہیں مانا ۔ اس میں سب سے  بنیادی نکتہ یہی تھا کہ دھاندلی اور زور ذبردستی کے باوجود سیاسی جمہوری نظام کو کام کرنے دیا جائے۔ کچھ معاملات  پارلیمنٹ میں طے ہوجائیں گے اور  سیاسی حساب برابر کرنے کے لئے  آئیندہ انتخابات  کا انتظار کرلیا جائے ۔  موجودہ سیاسی بحران دراصل عمران خان نے سیاست کو ذاتی دشمنی میں تبدیل کرکے   پیدا کیا ہے۔ اب وہ پارلیمنٹ میں بات کرنے  پر اصرار کرتے  ہیں لیکن وہ خود ہی اس منتخب ادارے کو غیر فعال اور غیر مؤثر کرچکے ہیں۔ اس وقت بھی وہ مفاہمت سے زیادہ سینیٹ کے انتخابات تک معاملات کو ٹھنڈا کرنا چاہتے ہیں ۔  سینیٹ میں اکثریت حاصل کرنے کے بعد حکومت مرضی کی قانون سازی کے ذریعے اپوزیشن کو عاجز کرنے  کی پوزیشن میں ہوگی۔

کسی بھی طرح یہ مقصد حاصل کرنے اور اپوزیشن کو لانگ مارچ جیسے انتہائی اقدام سے روکنے کے لئے اس وقت اپوزیشن کی بھارت نوازی کا کارڈ بھرپور طریقے سے استعمال کیا جارہا ہے۔ وزیر اعظم کا آج بھی یہی مؤقف  تھا کہ اپوزیشن  پارٹیاں فوج پر تنقید کرکے وہی کام کررہی ہیں جو بھارت کرتا ہے۔  اس طرح ملک کو کمزور کرنے کا سبب بن رہی ہیں۔  عمران خان کی یہ غلط بیانی دراصل ملکی مفاد کے برعکس ہے۔  انہیں اعتراف کرنا چاہئے کہ کوئی بھی   اپوزیشن لیڈر   بطور ادارہ فوج کے  خلاف بات نہیں کرتا۔ حتی کہ نواز شریف نے جس تقریر میں نام لے کر  سیاست میں فوجی مداخلت کا الزام لگایا ، اس میں بھی اصرار کے ساتھ پاک فوج کے ساتھ اظہار یک جہتی کیا گیا تھا۔  اپوزیشن سیاست میں عسکری اداروں کے اس غیر آئینی کردار کے خلاف بات کررہی ہے جس کے مظاہر پوری پاکستانی سیاسی تاریخ میں نمایاں طور سے موجود ہیں۔ فوج اور  بعض فوجی عناصر کی سیاسی  انجینرنگ کو علیحدہ کرکے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ وزیر اعظم میں اتنا حوصلہ اور بصیرت ہونی چاہئے کہ  وہ   اپوزیشن کے سیاسی مؤقف کو درست تناظر میں سمجھیں اور اس کا اعتراف کریں۔

عمران خان اس وقت فوج کے ’ترجمان‘ کا کردار ادا کرتے ہوئے ایک ایسی تصویر بنانے کی کوشش کررہے ہیں جس میں  یہ محسوس ہوتا ہے کہ حکومت کے علاوہ کوئی بھی سیاسی لیڈر نہ ملکی دفاع میں دلچسپی رکھتا ہے اور نہ ہی فوج کو مضبوط دیکھنا چاہتا ہے۔ اسے نرم ترین الفاظ میں بھی سیاسی بد دیانتی اور  ایک قومی ادارے کی ساکھ کو تباہ کرنے کی کوشش کہا جاسکتا ہے۔ سیاسی مطالبے کو  غداری اور لیڈروں کو دشمن کا ایجنٹ بتانے سے   ہی دراصل قومی مفادات پر ضرب پڑتی ہے۔ عمران خان   سیاسی بقا کے لئے خود کو  فوج کا ’محافظ‘  قرار دینے کی جو کوشش کررہے ہیں، اس سے   فوج کی ساکھ، امیج اور حیثیت متنازعہ ہورہی ہے۔ فوج ایک قومی ادارہ ہے۔  حکمران اور اپوزیشن پارٹیاں یکساں طور سے اس پر فخر کرسکتی  ہیں ۔ فوج کو  جو بھی سیاسی مقاصد کے لئے  ڈھال بنائے گا ، وہ دراصل ملک اور فوج کو نقصان پہنچائے گا۔ وزیر اعظم اس  آئینے میں خود اپنا کردار ملاحظہ کرسکتے ہیں۔