قومی ریاست کی تشکیل اور قائد اعظم کے افکار
- تحریر افتخار بھٹہ
- اتوار 27 / دسمبر / 2020
- 8570
آج گجرات میں باسٹھ سال بعد ٹھیکیدار ہاؤس میں بانی پاکستان کے یوم ولادت پر کوئی ادبی نشست نہیں ہوئی۔ مگر ماضی کے تمام واقعات ، خیالات اور تقریبات میرے ذہن ودماغ میں گردش کر رتے رہے۔
میاں رشید ٹھکیدار، ڈاکٹر مظفرحسن ملک بشیر احمد بٹر، پروفیسر حامد حسن سید، منیر الحق اور پروفیسر وسیم بیگ مرزا صر ف قائد اعظم کی خدمات کو تاریخی تناظر میں دیکھنا اور گفتگو کرنا چاہتےتھے۔ جبکہ اکبرعلی ایم اے ، قربان طاہر ، پروفیسر شبیر شاہ ، سید باقر رضوی اور میں بانی پاکستان کے نظریات کا ملکی معروضی سیاسی اور معاشی صورت حا ل میں تجزیہ کرتے تھے۔ جس کی وجہ سے ہم پر ترقی پسند ، روشن خیالی اور بائیں بازو سے تعلق رکھنے کے الزامات لگتے تھے ۔ حلقہ ارباب شعور ایسا فورم تھا جہاں ضیائی اور مشرف آمریت میں دانشوروں اور شاعروں نے کھل کر اپنی رائے کا اظہار کیا۔ افسوس ان میں سے کئی دوست دنیا میں نہیں رہے ۔ چوہدری مسعود اختر ، وسیم بیگ مرزا اور عارف علی میرکی مو جودگی میں کوئی کمی محسوس نہیں ہوتی۔
اختلاف رائے جمہوریت کی صحتمند علامت ہے۔ ریاست اور سیاست کے بارےمیں قا ئد کی بصیرت کا چار مو ضوعات کے حوالے سے جائزہ لینا ضروری ہےجن میں ریاست کا بنیادی تشخص، ریاست کی ایک وفاق میں تنظیم، پارلیمانی جمہوریت گے تحت ادارہ سازی ، سماجی اور معاشی نظام جیسے مو ضوعات شام ہیں۔ قائد اعظم دو قومی نظرے کی بنیاد پر قومی ریاست کی تشکیل چاہتے تھے چنانچہ تاریخ نویسوں نے اس پہلو کو سب سے زیادہ اہمیت دی ۔ قائد اعظم نے ایسے سیاسی مسئلے کو حل کرنے کیلئےجو مذہبی رنگ اخیتار کر گیا کس طرح ایک جدید قومی ریاست بنا کر حل کر دیا۔ مشہورمورخ اسٹینلےوولپرٹ نے قائداعظم کےاس کردارکا اعتراف ان الفاظ میں کیا: ’کچھ لوگ تاریخ کے رخ کو فیصلہ کن انداز میں مو ڑ نے کی صلا حیت رکھتے ہیں ۔ ایسے لوگ کم ہوتے ہیں جو دنیا کے نقشہ کو بدل سکیں اور ہنر شاید کسی کو آتا ہو کہ ایک قومی ریاست قائم کرسکے۔ جناح نے یہ تینوں کام کئے‘۔
قائداعظم نے مسلمانوں کو ایک قو م قراردیا تو اس کے حق میں دلائل اس عہد کی جدید ریاست کے تناظر میں تھے۔ قائد اعظم نے کبھی رنگ و نسل کی تخصیص نہیں کی تھی۔ انہوں نے ہنودستانی مسلمانوں کو ایک قوم قرار دیا۔ انہوں نے11اگست1947کو اپنی تقریرمیں واضح کیا کہ پاکستان میں تمام شہری برابر ہیں جن کے برابر حقوق ہیں۔ انہوں نے وفاقی نظام کو ریاست کیلئے بہتر قرار دیا۔ یہ تاریخ نے ثابت کیا ہے کہ صدارتی نظام سے صوبائی عصبیتوں میں اضافہ ہوا۔ ملک کے سب سے بڑے صعنتی شہر کو مقتدرہ قوتوں کے ایما پر سیسی جماعتوں اور نظریاتی اساس کو تباہ کرنا اور شہریوں کو ایک لسانی اور نسلی نفرت کی سیاست کے حوالہ کرنا سب سے بڑا المیہ ہے۔ افسوس کے حکمرن طبقات کی سوچ ابھی تک تبدیل نہیں ہوئی۔ اقتدار کے ایوانوں میں سال ہا سال سے موجود ریاستی گماشتوں اور آلہ کار خاندان کے وارثوں سے کس طرح ظالمانہ اور عدم انصاف پر مننی نظام کی تبدیلی کی امید رکھی جاسکتی ہے۔
قائد اعظم کا فکرو ویثرن سماجی اور معاشی انصاف کی سوچ سے عبارت ہے ۔ اس حوالے سے ان کی علامہ اقبال سے خط و کتابت بھی ہوئی تھی جس میں علامہ اقبال نے مسلما نوں کی سماجی اور معاشی پسمانگی کی وجوہات تعلیمی کمی اور جہالت کو قرارریا تھا۔ قائد پارلیمانی نظام کو سب سے بہتر سمجھتے تھے ۔ 1943 میں دہلی میں مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کہا پاکستا ن میں عوامی حکومت ہوگی۔ یہاں پر سرمایہ دارون اور جاگیرداروں کو لو ٹنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ قائد اعظم کے بقول سماجی اور معاشی حقوق کی پاسداری کرنا ریاست کے استحکام کیلئے ضروری ہے۔ وہ قومی ریاست میں امیر اور غریب کے درمیان تفاوت نہیں دیکھنا چاہتے تھے۔
پاکستان کے قیام کے بعد مفاد پرست طبقات کے برسر اقتدارآنےکے بعد سماجی اور معاشی نا ہمواریوں میں اضافہ ہوا، ہم حکمرانوں کی نااہلیت کے بحران سے دوچار ہیں جنہوں نے پیداوری صنعتی ٹیکنالوجی سے لیس سماج تعمیر کرنے کی بجائےقرضوں پر پلنے والی طفیلی ریاست میں تبدیل کر دیا ہے ۔ قائد اعظم کے اگرافکار پر خلوص نیت سے عمل کیا جائے تو ہم ایک بہتر ترقی یافتہ ریاست بن سکتے ہیں۔