’باپ بچاؤ‘ سے ملک بچاؤ مہم تک

گڑھی خدا بخش میں بے نظیر بھٹو  شہید کی تیرھویں برسی کے موقع پر اپوزیشن لیڈروں کا پیغام واضح اور دو ٹوک  تھا۔ تحریک انصاف کی حکومت  ڈلیور کرنے میں ناکام ہوچکی ہے۔ اسے حکمرانی کا حق دینا ملک کو تباہی کی طرف دھکیلنا ہوگا۔  اس موقع پر بلاول بھٹو زرداری، مریم نواز ، آصف علی زرداری یا کسی دوسرے لیڈر کی باتوں  میں شکست خوردگی نہیں تھی۔ 

ملک کی جس نوجوان سیاسی قیادت کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ وہ ’باپ بچاؤ‘ مہم پر  نکلی ہے، اس نے آج ملک بچاؤ کا نعرہ لگاکر جمہوری نظام کے لئے سر دھڑ کی بازی لگانے کا اعلان کیا ہے۔ ملک کا   یہ تبدیل شدہ سیاسی  ماحول صرف حکمران جماعت یا عمران خان  کے لئے ہی چیلنج نہیں ہے بلکہ اس میں   نامکمل  جمہوری ایجنڈے کی تکمیل کی بات کی جارہی ہے جو بار بار کی مارشل لائی حکومتوں، سیاسی چال بازیوں اور    قومی مفاد  کی غیر واضح اصطلاح کے  درپردہ انتخابی عمل پر   اثرا انداز ہونے کی وجہ سے  ادھورا  رہا ہے۔ مریم نواز نے اس موقع پر تقریر کرتے ہوئے  اعتراف کیا کہ ’ سیاستدانوں  سے ماضی میں جو غلطیاں ہوئیں ان کا فائدہ غیر جمہوری قوتوں نے اٹھایا‘۔ یہ اعتراف حقیقت اگر ایک طرف موجودہ نیم جمہوری اور ناقص نظام کو چیلنج کررہا ہے تو دوسری طرف خود پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں کے لئے  کڑے امتحان کا سبب بن رہا ہے۔

اصل چیلنج کا سامنا بھی مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی نوجوان  قیادت کو کرنا پڑے گا جنہوں نے  جمہوریت کی بحالی اور سیاست میں فوجی مداخلت کا سلسلہ بند کرنے کا نعرہ بلند کیا ہے۔ یہ سوال کیا جاسکتا ہے کہ اگر   پاکستان جمہوری  تحریک ناکام ہوگئی تو کیا ہوگا؟ اس کے دو پہلو ہیں۔ دونوں کا جواب تلاش کرنا اور  دوونوں امکانات کے لئے تیار رہنا اہم ہوگا۔ اس کا ایک پہلو  تو یہ ہے  جیسا  عام طور سے قیاس کیا جاتا ہے  کہ اگر تمام تر جوش و ولولہ   اور احتجاج کے باوجود   ملک میں نئے انتخابات کی صورت پیدا نہیں ہوتی۔ لانگ مارچ کی کال ناکام ہوجاتی ہے یا  دوسری صورت یہ ہوسکتی ہے  کہ کسی نہ کسی طرح  سرکاری اور ریاستی ذرائع استعمال کرکے  اسے  ناکام بنا دیا جاتا ہے۔   اپوزیشن پارٹیوں میں پھوٹ ڈالنے کے لئے   بعض مفاد پرست یا سادہ لوح  عناصر کو آلہ کار بنا کر اپوزیشن میں انتشار پیدا کیا جاسکتا ہے تاکہ یہ تحریک اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہوسکے۔ وزیر اعظم عمران خان گزشتہ روز ہی اس کا اشارہ دے چکے ہیں کہ اگر لانگ مارچ ہؤا یا اپوزیشن پارٹیاں اسمبلیوں سے استعفے دینے کے  معاملہ پر بضد رہیں تو   بڑی پارٹیوں میں ’فارورڈ بلاک‘ بنیں گے۔ بلکہ  اپنے مخصوص انداز  میں انہوں نے اس معاملہ پر ’شرط لگانے‘  کی پیش کش بھی کی ہے۔

پاکستان میں سیاسی  پارٹیوں کے فارورڈ بلاک بننے  کی تاریخ گواہ ہے کہ  سرکاری مداخلت یا اسٹبلشمنٹ کی براہ راست کوششوں کے بغیر کسی پارٹی میں  کوئی باغی گروہ صرف  کسی اصول کی بنیاد پر بغاوت کا پرچم بلند نہیں کرتا۔ اس وقت تک اپوزیشن کی سب سے بڑی کامیابی یہی ہے کہ  وہ تمام تر دباؤ کے باوجود  انتشار کا شکار نہیں ہوئی۔   نواز شریف کو  نااہل قرار دینے کے بعد مسلم لیگ (ن) کو توڑنے کی ہر کوشش ناکام رہی ہے۔ اس کے بعد  نون لیگ میں سے شین لیگ  نکلنے کی  خبر تو سیاسی پیش گوئیوں کے ماہر موجودہ وزیر داخلہ شیخ رشید متعدد بار  دے چکے ہیں۔ شاید ان تمام خواہشوں  اور کوششوں میں ناکامی کے بعد  ہی شہباز شریف کو  بھی حمزہ شہباز کی طرح جیل میں بند کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہا تھا۔ گزشتہ دنوں مولانا فضل الرحمان  کی جمیعت علمائے اسلام میں اختلاف کے آثار سامنے آئے ہیں اور اب پارٹی سے نکالے گئے رہنماؤں کے بارے میں خبریں دی جارہی ہیں کہ  وہ جے یو آئی کا علیحدہ دھڑا بنائیں گے۔ موجودہ سیاسی منظر نامہ میں ان لوگوں کی ایسی کوئی کوشش کامیاب ہوتی دکھائی نہیں دیتی۔

اس حوالے سے اصل چیلنج مسلم لیگ (ن) کو درپیش ہوگا کیوں کہ حکومت کا خیال ہے کہ  استعفوں کے مسئلہ پر پارٹی کے ایسے عناصر کو کمزور کیا جاسکتا ہے جو کسی بھی  صورت سیاسی دھارے سے باہر نکلنے کا سوچ  نہیں سکتے۔ تاہم اس حوالے سے  دو باتیں اہم ہیں۔ ایک یہ کہ تحریک انصاف اگر مسلم لیگ (ن) کے کچھ لوگوں کو توڑ  کر فارورڈ بلاک بنوانے میں کامیاب ہوگئی تو وہ ان لوگوں کی  اس ’خدمت‘ کا عوضانہ  کیسے ادا کرے گی؟ عمران خان تو  مرکز  اور پنجاب میں اپنی حلیف جماعتوں  کے ساتھ کئے گئے وعدے پورے کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے۔ وہ نئے سیاسی گروہوں کو وزارتیں، ترقیاتی فنڈز یا دوسری  مراعات کیسے فراہم کریں گے۔ ویسے بھی یہ ساری سہولتیں اسی کرپٹ نظام  کے ہتھکنڈے ہیں، جسے ختم کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے   عمران خان اقتدار تک پہنچے تھے۔ اب اگر  وہی ہتھکنڈے   سیاسی چیلنج کرنے والی جماعتوں سے نمٹنے کے لئے استعمال کریں  گے تو ان کے خلاف کرپشن کے وہ الزامات مزید شدید ہوجائیں گے جن کی گونج اب اپوزیشن کے تمام جلسوں میں سنائی دینے لگی ہے۔

 اس حوالے سے دوسرا اہم ترین پہلو یہ ہے کہ مسلم لیگ (ن) میں  جن  سیاسی عناصر کی مدد  سے فارورڈ بلاک بنوانے کی خواہش کی جاسکتی ہے، وہ گھاک سیاست دان ہیں۔ وہ ایک ڈوبتی ہوئی سیاسی کشتی پر کیوں سوار ہوں گے۔  ان میں اکثریت  ایسے الیکٹ ایبلز کی  ہے جن کے پاس اپنے حلقوں میں ذاتی ووٹ بنک ضرور موجود ہے لیکن وہ کسی بڑی پارٹی  کی اعانت کے بغیر  انتخاب نہیں جیت سکتے۔    ایسے موقع پر جب ملک میں نئے انتخابات کا امکان دکھائی دینے لگا ہے ، یہ عناصر کسی صورت نواز شریف کی مخالفت میں جاکر اپنی سیاسی قبر نہیں کھودیں گے۔  ’ووٹ کو عزت دو‘ کے حوالے سے خواہ کچھ بھی کہا جائے لیکن اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں ہے کہ اس نعرے کی وجہ سے  نواز شریف کی مقبولیت اور ووٹ بنک میں اضافہ ہؤا ہے۔ فارورڈ بلاک   بنوانے   کی  کوشش اگر دو سال پہلے کامیاب نہیں ہوئی تو  اب بھی کامیاب ہونے کا امکان نہیں ہے۔

 اس حوالے سے ایک تیسرا نکتہ بھی بہر حال قابل غور رہے گا کہ  فارورڈ بلاک بنوانے میں کردار ادا کرنے والی ایجنسیاں کیا واقعی تحریک انصاف کی ناکام حکومت کو سہارا دینے کے لئے  مسلم لیگ (ن) کو توڑنے کا خطرہ مول لیں گی۔گزشتہ دنوں پیر پگاڑا کے نمائیندے کی  شہباز شریف سے ملاقات کے ذریعے    شاید اس امکان کا جائزہ بھی لیا گیا ہو یا کوئی پیش کش کی گئی ہو  ۔ لیکن گرشتہ دو برس کے دوران  شہبازشریف کی مصالحانہ کوششوں کو جس طرح  مسترد کیا گیا ہے،  اس کے بعد  وہ کسی ٹھوس پیش کش کے بغیر کوئی کردار ادا کرنا نہیں  چاہیں گے اور اگر وہ اس پر آمادہ ہو بھی جائیں تو شاید وہ نواز شریف کے متبادل سیاسی قوت  فراہم کرنے کے اہل نہ ہوں۔ ایسے میں یہ سوال بھی کم اہم نہیں ہے کہ  جن عناصر   کے لئے شہباز شریف کی خیر خواہی کے سبب،  ان سے  بیچ کا کوئی راستہ نکالنے کی امید کی جاتی ہے، کیا وہ خود بھی تحریک انصاف  کی کمزور ہوتی حکومت   کی حفاظت  میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

تاہم موجودہ سیاسی صورت حال میں سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ کیا  اس وقت کوئی سیاسی لیڈر  ملک سے بحران ختم کرنے کے نام پر   اسٹبلشمنٹ کا ہاتھ پکڑ کر سامنے آئے گا؟ ایسا کوئی اقدام سیاسی خود کشی کے مترادف ہوگا۔ موجودہ سیاسی تحریک کا سب سے اہم پہلو یہی ہے۔  ملکی سیاسی جد و جہد میں یہ  پہلی  سیاسی تحریک ہے   جو سیاست میں فوج کی براہ راست مداخلت کو روکنے کے لئے  شروع ہوئی  ہے۔ آج گڑھی خدا بخش میں مریم نواز اور بلاول بھٹو کی تقریروں کا موضوع یہی تھا کہ   یہ جد و جہد صرف عمران خان کے خلاف نہیں ہے بلکہ اس طریقہ کار کے خلاف ہے جس سے ملک کے حکمرانوں کا فیصلہ عوام کے ووٹوں کی بجائے کسی دوسرے طریقے سے کیا جاتا ہے۔  یہی  عزم اس تحریک کو طاقت ور بناتا ہے اور  اسی سے پہلی بار یہ امید پیدا ہوئی ہے کہ      شاید موجودہ سیاسی عمل میں سیاست دان اور منتخب ادارے زیادہ طاقت ور ہوسکیں۔

طاقت سے کسی تحریک دبانا ممکن نہیں ہے ۔ اس کا اندازہ تحریک انصاف کے علاوہ طاقت ور حلقوں کو بھی ہوچکا ہے۔ بیچ کا راستہ نکالنے کے لئے نہ تحریک انصاف سنجیدگی دکھا رہی ہے اور نہ ہی  فی الوقت اسٹبلشمنٹ کوئی کردار ادا کرنے کی پوزیشن میں ہے۔  کیوں کہ اپوزیشن نے یہ سپیس فراہم کرنے سے مسلسل انکار کیا ہے۔  یہی وجہ ہے کہ  پی ڈی ایم اگرچہ  اسٹبلشمنٹ اور تحریک انصاف کی سیاست کو چیلنج کررہی ہے لیکن  اس عمل میں اس سے جو توقعات وابستہ کی گئی ہیں، انہیں نظر انداز کرنا آسان نہیں ہوگا۔ پاکستانی میڈیا کا بااثر گروہ مسلسل    اس تحریک کو اقتدار کی بندر بانٹ کا کھیل ثابت کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ ہوسکتا ہے کسی مرحلے پر پی ڈی ایم کے بعض قائدین کی یہی نیت  رہی ہو لیکن  اب مریم نواز یا بلاول بھٹو زرداری کے لئے بنیادی  جمہوری  اصولوں پر سمجھوتہ  کرنا ممکن نہیں ہے۔

 کوئی  بھی ایسی کوشش کی گئی  تو اس سے جمہوری حقوق کی جد و جہد  تو متاثر نہیں ہوگی لیکن اس سے  دھوکہ کرنے والے لیڈروں کی شہرت اور حیثیت داغدار ہوجائے گی۔    پارلیمنٹ کی بالادستی اور سیاسی عمل میں غیر آئینی مداخلت کی تحریک صرف پی ڈی ایم تک محدود نہیں ہے۔ اب یہ  ملک بھر میں وسیع تر عوامی آگہی کا حصہ بن چکی ہے۔ موجودہ تحریک کو دبانے  یا دھوکہ  دینے سے ووٹ کو عزت دو کا مطالبہ ختم نہیں ہوگا۔